🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

83. بَابُ صَلَاةِ النِّسَاءِ جَمَاعَةً وَمَوْقِفِ إِمَامِهِنَّ
باب: خواتین کا باجماعت نماز ادا کرنا، ان کی امام کہاں کھڑی ہوگی؟
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1489 ترقیم الرسالہ : -- 1506
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا أَبُو أَحْمَدَ الزُّبَيْرِيُّ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ جُمَيْعٍ ، حَدَّثَتْنِي جَدَّتِي ، عَنْ أُمِّ وَرَقَةَ وَكَانَتْ تَؤُمُّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَذِنَ لَهَا أَنْ تَؤُمَّ أَهْلَ دَارِهَا" .
سیدہ ام ورقہ رضی اللہ عنہا (خواتین کی) امامت کیا کرتی تھیں، وہ بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ اجازت دی تھی، وہ اپنے اہل محلہ کی (خواتین کی) امامت کر لیا کرتی تھیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1506]
ترقیم العلمیہ: 1489
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 367، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1676، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 735، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 591، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1506، 3203، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 27923»
«قال ابن الجوزی: الوليد بن جميع ضعيف وأمه مجهولة، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (4 / 389)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1490 ترقیم الرسالہ : -- 1507
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَكِيمٍ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، حَدَّثَنِي مَيْسَرَةُ بْنُ حَبِيبٍ النَّهْدِيُّ ، عَنْ رَيْطَةَ الْحَنَفِيَّةِ، قَالَتْ:" أَمَّتْنَا عَائِشَةُ، فَقَامَتْ بَيْنَهُنَّ فِي الصَّلاةِ الْمَكْتُوبَةِ" .
ریطہ حنفیہ بیان کرتی ہیں: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا ہماری امامت کیا کرتی تھیں، آپ فرض نماز میں خواتین کے درمیان کھڑی ہوا کرتی تھیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1507]
ترقیم العلمیہ: 1490
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 736، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 1953، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1507، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 5015»
«قال النوی: سنده صحيح، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 30)»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1491 ترقیم الرسالہ : -- 1508
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، أنا سُفْيَانُ، عَنْ عَمَّارٍ الدُّهْنِيِّ ، عَنْ حُجَيْرَةَ بِنْتِ حُصَيْنٍ، قَالَتْ:" أَمَّتْنَا أُمُّ سَلَمَةَ فِي صَلاةِ الْعَصْرِ، فَقَامَتْ بَيْنَنَا" . حَدِيثٌ رَوَاهُ الْحَجَّاجُ بْنُ أَرْطَاةَ، عَنْ قَتَادَةَ فَوَهِمَ فِيهِ، وَخَالَفَهُ الْحُفَّاظُ شُعْبَةُ، وَسَعِيدٌ وَغَيْرُهُمَا.
حجیرہ بنت حصین بیان کرتی ہیں: سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے عصر کی نماز میں ہماری امامت کی، تو وہ ہمارے درمیان کھڑی ہوئیں۔ یہی روایت بعض دیگر حوالوں سے بھی منقول ہے، تاہم اس کی سند میں کچھ وہم بھی ہے، اور کچھ نے اس کی مخالفت کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1508]
ترقیم العلمیہ: 1491
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5440، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1508، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 397، وأخرجه عبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 5082، وأخرجه ابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 4988، 4989»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1492 ترقیم الرسالہ : -- 1509
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ نَصْرِ بْنِ سَنْدَوَيْهِ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ أَرْطَأَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ وَرَجُلٌ يَقْرَأُ خَلْفَهُ، فَلَمَّا فَرَغَ قَالَ:" مَنْ ذَا الَّذِي يَخْتَلِجُ سُورَتَهُمْ؟"، فَنَهَاهُمْ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ . قَوْلُهُ: فَنَهَاهُمْ عَنِ الْقِرَاءَةِ خَلْفَ الإِمَامِ، وَهْمٌ مِنْ حَجَّاجٍ، وَالصَّوَابُ مَا رَوَاهُ شُعْبَةُ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَغَيْرُهُمَا، عَنْ قَتَادَةَ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے، ایک شخص نے آپ کی اقتداء میں قراءت کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون شخص ان سورتوں کے درمیان خلل ڈالنے کی کوشش کر رہا تھا؟ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو امام کی اقتداء میں قراءت کرنے سے منع کر دیا۔ امام دار قطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: روایت کے یہ الفاظ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں کو امام کی اقتداء میں قراءت کرنے سے منع کر دیا، یہ راوی کا وہم ہے، جو حجاج کو لاحق ہوا ہے، درست روایت وہ ہے، جو دیگر راویوں نے قتادہ کے حوالے سے نقل کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1509]
ترقیم العلمیہ: 1492
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 398، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1845، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 916، 1743، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 828، 829، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1509، 1510، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 857، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20129»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 1493 ترقیم الرسالہ : -- 1510
حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَحْمَدَ الْقَطَّانُ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، ثنا شَبَابَةُ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَوْفَى ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى الظُّهْرَ فَقَرَأَ: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى، فَقَالَ:" أَيُّكُمُ الْقَارِئُ؟"، فَقَالَ الرَّجُلُ: أَنَا، فَقَالُ:" لَقَدْ ظَنَنْتُ أَنَّ بَعْضَكُمْ خَالَجَنِيهَا" . قَالَ شُعْبَةُ: قُلْتُ لِقَتَادَةَ: أَكَرِهَ ذَلِكَ؟ قَالَ: لَوْ كَرِهَ ذَلِكَ لَنَهَى عَنْهُ.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز ادا کرتے ہوئے اس میں سورة الاعلیٰ کی تلاوت کی، (نماز سے فارغ ہونے کے بعد) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم میں سے کون شخص قراءت کر رہا تھا؟ ایک شخص نے عرض کی: میں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں بھی سوچ رہا تھا، کوئی شخص درمیان میں رکاوٹ ڈال رہا ہے۔ شعبہ بیان کرتے ہیں: میں نے قتادہ سے دریافت کیا: کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات کو ناپسندیدہ قرار دیا تھا؟ تو انہوں نے جواب دیا: اگر آپ اسے ناپسندیدہ سمجھا ہوتے، تو آپ اس سے منع کر دیتے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصَّلَاةِ/حدیث: 1510]
ترقیم العلمیہ: 1493
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 398، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 1845، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 916، 1743، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 828، 829، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1509، 1510، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 857، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 20129»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں