سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
4. بَابُ الْجُمُعَةِ عَلَى أَهْلِ الْقَرْيَةِ
باب بستی میں رہنے والوں پر جمعہ لازم ہوتا ہے
ترقیم العلمیہ : 1574 ترقیم الرسالہ : -- 1592
حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبِ بْنِ عَطِيَّةَ ، ثنا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ سَعِيدٍ التُّجِيبِيُّ ، ثنا الزُّهْرِيُّ ، عَنْ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ الدَّوْسِيَّةِ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ قَرْيَةٍ، وَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا إِلا أَرْبَعَةٌ" ، يَعْنِي بِالْقُرَى: الْمَدَائِنَ، لا يَصِحُّ هَذَا عَنِ الزُّهْرِيِّ.
سیدہ ام عبداللہ دوسیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”ہر بستی میں رہنے والوں پر جمعہ لازم ہوتا ہے، اگرچہ اس بستی میں صرف چار افراد رہ جائیں،“ یہاں پر بستی سے مراد شہر ہے اور یہ بات زہری سے مستند طور پر منقول نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابِ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1592]
ترقیم العلمیہ: 1574
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5698، 5699، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1592، 1593، 1594»
«قال الدارقطني: الزهري لا يصح سماعه من الدوسية والحكم هو متروك، سنن الدارقطني: (2 / 317) برقم: (1594)»
«قال الدارقطني: الزهري لا يصح سماعه من الدوسية والحكم هو متروك، سنن الدارقطني: (2 / 317) برقم: (1594)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 1575 ترقیم الرسالہ : -- 1593
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ إِسْمَاعِيلَ الأُبُلِّيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ خُنَيْسٍ الْكَلاعِيُّ ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَطَاءٍ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا الزُّهْرِيُّ ، حَدَّثَتْنِي أُمُّ عَبْدِ اللَّهِ الدَّوْسِيَّةُ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ عَلَى كُلِّ قَرْيَةٍ فِيهَا إِمَامٌ، وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا إِلا أَرْبَعَةٌ" . الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ مَتْرُوكٌ، وَلا يَصِحُّ هَذَا عَنِ الزُّهْرِيِّ، كُلُّ مَنْ رَوَاهُ عَنْهُ مَتْرُوكٌ.
سیدہ ام عبداللہ دوسیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی: ”ہر اس بستی والوں پر جمعہ پڑھنا لازم ہے، جس میں امام موجود ہو، اگرچہ اس بستی میں صرف چار افراد موجود ہوں،“ اس روایت میں ایک راوی ولید بن محمد متروک ہے اور یہ روایت زہری سے مستند طور پر منقول نہیں ہے، اسے نقل کرنے والے تمام راوی متروک ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابِ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1593]
ترقیم العلمیہ: 1575
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5698، 5699، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1592، 1593، 1594»
«قال الدارقطني: الزهري لا يصح سماعه من الدوسية والحكم هو متروك، سنن الدارقطني: (2 / 317) برقم: (1594)»
«قال الدارقطني: الزهري لا يصح سماعه من الدوسية والحكم هو متروك، سنن الدارقطني: (2 / 317) برقم: (1594)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 1576 ترقیم الرسالہ : -- 1594
حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأُبُلِّيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ صَالِحٍ ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ عُلَيٍّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ مُطَرِّفٍ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ الدَّوْسِيَّةِ ، قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الْجُمُعَةُ وَاجِبَةٌ عَلَى أَهْلِ كُلِّ قَرْيَةٍ، وَإِنْ لَمْ يَكُونُوا إِلا ثَلاثَةً رَابِعُهُمْ إِمَامُهُمْ" . الزُّهْرِيُّ لا يَصِحُّ سَمَاعُهُ مِنَ الدَّوْسِيَّةِ، وَالْحَكَمُ هَذَا مَتْرُوكٌ.
سیدہ ام عبداللہ دوسیہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”ہر بستی کے رہنے والوں پر جمعہ پڑھنا لازم ہے، اگرچہ وہاں صرف تین افراد رہ جائیں اور چوتھا ان کا امام ہو،“ زہری کا سیدہ دوسیہ رضی اللہ عنہا سے احادیث کا سماع مستند طور پر ثابت نہیں ہے اور اس روایت کا راوی، حکم، متروک ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابِ الْجُمُعَةِ/حدیث: 1594]
ترقیم العلمیہ: 1576
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 5698، 5699، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1592، 1593، 1594»
«قال الدارقطني: الزهري لا يصح سماعه من الدوسية والحكم هو متروك، سنن الدارقطني: (2 / 317) برقم: (1594)»
«قال الدارقطني: الزهري لا يصح سماعه من الدوسية والحكم هو متروك، سنن الدارقطني: (2 / 317) برقم: (1594)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف