سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
6. مَا يَجُوزُ أَنْ تُصَلِّيَ فِيهِ الْمَرْأَةُ مِنَ الثِّيَابِ
باب عورت کے لیے کتنے کپڑے پہن کر نماز ادا کرنا جائز ہے
ترقیم العلمیہ : 1761 ترقیم الرسالہ : -- 1785
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سُلَيْمَانَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْخَلِيلِ ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا مُجَاهِدُ بْنُ مُوسَى ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدِ بْنِ الْمُهَاجِرِ ، عَنْ أُمِّهِ ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، أَنَّهَا سَأَلْتِ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَتُصَلِّي الْمَرْأَةُ فِي دِرْعٍ وَخِمَارٍ لَيْسَ عَلَيْهَا إِزَارٌ؟ قَالَ:" إِذَا كَانَ الدِّرْعُ سَابِغًا تُغَطِّي ظُهُورَ قَدَمَيْهَا" . قَالَ أَبُو دَاوُدَ: وَرَوَاهُ مَالِكٌ، وَبَكْرُ بْنُ مُضَرَ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، وَحَفْصُ بْنُ غِيَاثٍ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَوْلَهَا، لَمْ يَذْكُرْ أَحَدٌ مِنْهُمُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ دریافت کیا: ”کیا عورت صرف قمیص اور چادر کے اندر نماز ادا کر سکتی ہے، جبکہ اس نے تہبند نہ باندھا ہو؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر اس کی قمیص اتنی لمبی ہو کہ اس کے دونوں پاؤں کو بھی ڈھانپ لیتی ہو (تو ایسا کرنا جائز ہے)۔“ یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم ان اسناد کے ہمراہ یہ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا کے قول کے طور پر منقول ہے، اس میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول ہونے کا ذکر نہیں ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1785]
ترقیم العلمیہ: 1761
تخریج الحدیث: «أخرجه مالك فى ((الموطأ)) برقم: 472، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 921، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 639، 640، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 3300، 3301، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1785، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 5027، 5028، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 6228، 6229»
«قال ابن عبدالبر: الصحيح من قول أم سلمة، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 200)»
«قال ابن عبدالبر: الصحيح من قول أم سلمة، الإعلام بسنته عليه الصلاة والسلام بشرح سنن ابن ماجه الإمام: (3 / 200)»