سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
5. بَابُ صِفَةِ صَلَاةِ الْخَوْفِ وَأَقْسَامِهَا
باب نماز خوف کا طریقہ اور اس کی اقسام
ترقیم العلمیہ : 1746 ترقیم الرسالہ : -- 1770
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَاعِدٍ ، وَالْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: نا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ، ثنا بَقِيَّةُ ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ السَّرِيِّ الْغَنَوِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَيْسَ فِي صَلاةِ الْخَوْفِ سَهْوٌ" . تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ الْحَمِيدِ السَّرِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے: ”نماز خوف میں سہو نہیں ہوتا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1770]
ترقیم العلمیہ: 1746
تخریج الحدیث: «موضوع، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1770، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 9986»
«قال الدارقطني: حديث موضوع، لسان الميزان: (5 / 71)»
«قال الدارقطني: حديث موضوع، لسان الميزان: (5 / 71)»
الحكم على الحديث: موضوع
ترقیم العلمیہ : 1747 ترقیم الرسالہ : -- 1771
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي دَاوُدَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُصَفًّى ، وَعَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قَالا: نا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" قَامَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ وَكَبَّرَ وَكَبَّرُوا، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعَ مَعَهُ أُنَاسٌ مِنْهُمْ، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا، ثُمَّ قَامَ فِي الرَّكْعَةِ الثَّانِيَةِ وَتَأَخَّرَ الَّذِينَ سَجَدُوا مَعَهُ وَحَرَسُوا إِخْوَانَهُمْ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَرَكَعُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالنَّاسُ كُلُّهُمْ فِي الصَّلاةِ يُكَبِّرُونَ وَلَكِنْ يَحْرُسُ بَعْضُهُمْ بَعْضًا" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں کھڑے ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، تو لوگوں نے بھی تکبیر کہی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان میں سے کچھ لوگ رکوع میں چلے گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے، تو وہ لوگ بھی سجدے میں گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دوسری رکعت کے لیے کھڑے ہوئے، تو وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے، جنہوں نے آپ کے ہمراہ سجدہ کیا تھا اور وہ اپنے بھائیوں کی حفاظت کرنے لگے، پھر دوسرا گروہ آیا اور انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک رکعت ادا کی، سب لوگ نماز میں تکبیر کہہ رہے تھے، لیکن اس کے ساتھ وہ ایک دوسرے کی حفاظت بھی کر رہے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1771]
ترقیم العلمیہ: 1747
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 944، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2880، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1533، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1935، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6110، 6111، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1771، 1772، 1773، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 13021»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1748 ترقیم الرسالہ : -- 1772
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، قَالا: نا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ الدِّمَشْقِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنِ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ زہری کے حوالے سے منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1772]
ترقیم العلمیہ: 1748
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 944، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2880، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1533، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1935، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6110، 6111، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1771، 1772، 1773، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 13021»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1749 ترقیم الرسالہ : -- 1773
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَوْفٍ ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، ثنا الزُّبَيْدِيُّ ، بِإِسْنَادِهِ نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1773]
ترقیم العلمیہ: 1749
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 944، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2880، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1533، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 1935، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6110، 6111، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1771، 1772، 1773، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 13021»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1750 ترقیم الرسالہ : -- 1774
حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ أَبِي حَزْمٍ الْقُطَعِيُّ ، وَالْجَرَّاحُ بْنُ مَخْلَدٍ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا زَكَرِيَّا بْنُ يَحْيَى الْبَاهِلِيُّ ، قَالُوا: ثنا بِشْرُ بْنُ عُمَرَ ، ثنا وُهَيْبُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِصَلاةِ الْخَوْفِ، فَقَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقُمْنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، وَكَبَّرَ وَرَكَعَ، وَرَكَعْنَا جَمِيعًا الصَّفَّانِ كِلاهُمَا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ خَرَّ سَاجِدًا وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَثَبَتَ الآخَرُونَ قِيَامًا يَحْرُسُونَ إِخْوَانَهُمْ، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ سُجُودِهِ وَقَامَ خَرَّ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ سُجُودًا فَسَجَدُوا سَجْدَتَيْنِ ثُمَّ قَامُوا فَتَأَخَّرَ الصَّفُّ الْمُقَدَّمُ الَّذِي يَلِيهِ وَتَقَدَّمَ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ فَرَكَعَ وَرَكَعُوا جَمِيعًا، وَسَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ، وَثَبَتَ الآخَرُونَ قِيَامًا يَحْرُسُونَ إِخْوَانَهُمْ، فَلَمَّا قَعَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَّ الصَّفُّ الْمُؤَخَّرُ سُجُودًا فَسَجَدُوا، ثُمَّ سَلَّمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز خوف ادا کرنے کا حکم دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھڑے ہوئے، ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں دو صفوں میں کھڑے ہوئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور رکوع میں گئے، ہم بھی سب لوگ دونوں صفیں رکوع میں چلے گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر مبارک اٹھایا اور سجدے میں چلے گئے، تو وہ صف سجدے میں چلی گئی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب تھی اور دوسرے لوگ اپنی جگہ پر کھڑے رہے اور اپنے بھائیوں کی حفاظت کرتے رہے، جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے سے فارغ ہوئے، تو پیچھے والی صف سجدے میں گئی، انہوں نے دو سجدے کیے، پھر یہ لوگ کھڑے ہو گئے، پھر وہ صف پیچھے ہٹ گئی جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تھی اور پیچھے والی صف آگے آ گئی، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے، تو یہ سب لوگ بھی رکوع میں گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے، تو جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب صف تھی، وہ لوگ سجدے میں چلے گئے اور دوسرے لوگ کھڑے ہوئے، اپنے بھائیوں کی حفاظت کرتے رہے، پھر جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے، تو پیچھے والی صف سجدے میں چلی گئی، ان لوگوں نے سجدہ کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1774]
ترقیم العلمیہ: 1750
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1344، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2871، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1250، 1251، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1532، 1534، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 520، 1934، 1936، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6112، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1774، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 2092»
ترقیم العلمیہ : 1751 ترقیم الرسالہ : -- 1775
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قَالا: نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أنا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْفِ بِإِحْدَى الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةً وَالطَّائِفَةُ الأُخْرَى مُوَاجِهَةَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ انْصَرَفُوا فَقَامُوا فِي مَقَامِ أَصْحَابِهِمْ مُقْبِلِينَ عَلَى الْعَدُوِّ وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ صَلَّى هَؤُلاءِ رَكْعَةً وَهَؤُلاءِ رَكْعَةً" . تَابَعَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ، وَابْنُ جُرَيْجٍ، وَالنُّعْمَانُ بْنُ رَاشِدٍ، وَغَيْرُهُمْ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز خوف میں دو گروہوں میں سے ایک گروہ کو ایک رکعت پڑھائی اور دوسرا گروہ دشمن کی طرف رخ کر کے کھڑا رہا۔ پھر وہ لوگ پیچھے ہٹ گئے اور اپنے ساتھیوں کی جگہ دشمن کی طرف رخ کر کے کھڑے ہو گئے اور دوسرے والے لوگ آگے آ گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھائی۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سلام پھیر دیا۔ پھر ایک گروہ نے ایک رکعت ادا کر لی اور دوسرے گروہ نے بھی ایک رکعت ادا کر لی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1775]
ترقیم العلمیہ: 1751
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 943، 4133، 4535، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 839، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 634، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 980، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2879، 2887، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1537، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1243، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 564، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1258، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1775، 1776، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6268»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1752 ترقیم الرسالہ : -- 1776
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا قَبِيصَةُ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ:" صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْخَوْفِ فِي بَعْضِ أَيَّامِهِ فَقَامَتْ طَائِفَةٌ مِنْهُمْ مَعَهُ وَطَائِفَةٌ مِنْهُمْ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً ثُمَّ ذَهَبَ هَؤُلاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلاءِ وَجَاءَ هَؤُلاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلاءِ، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ، ثُمَّ قَضَتِ الطَّائِفَتَانِ رَكْعَةً رَكْعَةً" .
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی جنگ کے دوران نماز خوف پڑھائی، تو ایک گروہ آپ کی اقتداء میں کھڑا ہو گیا اور دوسرا گروہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور دشمن کے درمیان کھڑا رہا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو ایک رکعت پڑھائی، پھر یہ لوگ ان دوسرے لوگوں کی صف کی جگہ چلے گئے اور وہ لوگ ان کی جگہ پر آ گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی ایک رکعت پڑھائی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب سمیت سلام پھیر دیا، پھر دونوں گروہوں نے ایک ایک رکعت بعد میں ادا کر لی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1776]
ترقیم العلمیہ: 1752
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 943، 4133، 4535، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 839، ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 634، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 980، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2879، 2887، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1537، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1243، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 564، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1258، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1775، 1776، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 6268»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 1753 ترقیم الرسالہ : -- 1777
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ أَبِي الرَّبِيعِ ، وَأَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ وَاللَّفْظُ لَهُ، قَالا: نا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، ثنا الثَّوْرِيُّ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ، قَالَ:" كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ، فَاسْتَقْبَلَنَا الْمُشْرِكُونَ عَلَيْهِمْ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ وَهُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ فَصَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الظُّهْرَ، فَقَالُوا: قَدْ كَانُوا عَلَى حَالٍ لَوْ أَصَبْنَا غِرَّتَهُمْ، ثُمَّ قَالُوا: تَأْتِي عَلَيْهِمُ الآنَ صَلاةٌ هِيَ أَحَبُّ إِلَيْهِمْ مِنْ أَبْنَائِهِمْ وَأَنْفُسِهِمْ، قَالَ: فَنَزَلَ جَبْرَائِيلُ بِهَذِهِ الآيَةِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ: وَإِذَا كُنْتَ فِيهِمْ فَأَقَمْتَ لَهُمُ الصَّلاةَ سورة النساء آية 102، قَالَ: فَحَضَرَتِ الصَّلاةُ فَأَمَرَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذُوا السِّلاحَ فَصَفَّنَا خَلْفَهُ صَفَّيْنِ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعْنَا جَمِيعًا، قَالَ: ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعْنَا جَمِيعًا، قَالَ: ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالصَّفِّ الَّذِي يَلِيهِ، قَالَ: وَالآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا سَجَدُوا وَقَامُوا جَلَسَ الآخَرُونَ فَسَجَدُوا فِي مَكَانِهِمْ، قَالَ: ثُمَّ تَقَدَّمَ هَؤُلاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلاءِ وَجَاءَ هَؤُلاءِ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلاءِ، قَالَ: ثُمَّ رَكَعَ فَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ فَرَفَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَالآخَرُونَ قِيَامٌ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ الآخَرُونَ سَجَدُوا، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ، قَالَ: فَصَلاهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّتَيْنِ مَرَّةً بِعُسْفَانَ وَمَرَّةً فِي أَرْضِ بَنِي سُلَيْمٍ" .
سیدنا ابوعیاش زرقی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس عسفان کے مقام پر موجود تھے، مشرکین ہمارے سامنے آئے، ان کے امیر خالد بن ولید تھے، وہ مشرکین ہمارے اور قبلہ کے درمیان میں آ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ظہر کی نماز پڑھائی، ان مشرکین نے کہا: ”یہ اس وقت ایسی حالت میں ہیں، اگر ہم ان لوگوں پر ان کی غفلت کی حالت میں حملہ کر دیں (تو یہ مناسب ہو گا)، ان لوگوں کی نماز کا وقت ہو گیا ہے جو ان کے نزدیک ان کی اولاد اور ان کی اپنی جانوں سے زیادہ محبوب ہے۔“ تو جبرائیل علیہ السلام ظہر اور عصر کے درمیانی وقت میں یہ آیت لے کر حاضر ہوئے: ”اور جب تم ان کے درمیان موجودہوتوا نہیں نماز پڑھاؤ۔“ جب نماز کا وقت ہوا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت لوگوں نے اپنے ہتھیار سنبھال لیے، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں دو صفیں قائم کر لیں، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے، تو ہم سب بھی رکوع میں چلے گئے، پھر آپ نے اپنا سر مبارک اٹھایا، تو ہم سب نے بھی سر اٹھا لیے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمیت وہ صف سجدے میں چلی گئی جو آپ کے قریب موجود تھی، جبکہ دوسری صف کے لوگ کھڑے رہ کر ان کی حفاظت کرتے رہے، جب ان پہلی صف والوں نے سجدہ کر لیا اور پھر کھڑے ہوئے، تو پیچھے کی صف کے لوگ سجدے میں چلے گئے، پھر پیچھے کی صف والے آگے کی صف والوں کی جگہ آ گئے اور آگے والے پیچھے والوں کی جگہ چلے گئے، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے، تو ان کے ساتھ سب لوگوں نے رکوع کیا، پھر آپ نے سر اٹھایا، تو سب لوگوں نے سر اٹھایا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اس صف نے سجدہ کیا جو آپ کے قریب موجود تھی، دوسری صف والے کھڑے ہو کر ان کی حفاظت کرتے رہے، پھر جب وہ لوگ بیٹھ گئے، تو دوسری صف والوں نے سجدہ کیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سب لوگوں سمیت سلام پھیرا۔ راوی کہتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح دو مرتبہ نماز پڑھائی، ایک مرتبہ عسفان میں اور ایک مرتبہ بنو سلیم کے علاقے میں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1777]
ترقیم العلمیہ: 1753
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 257، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2875، 2876، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1256، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1548، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1236، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1777، 1778، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16847»
ترقیم العلمیہ : 1754 ترقیم الرسالہ : -- 1778
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، ثنا جَرِيرٌ . ح وَحَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، وَسَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالا: نا جَرِيرٌ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، نَحْوَهُ صَحِيحٌ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1778]
ترقیم العلمیہ: 1754
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 257، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2875، 2876، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1256، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1548، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1236، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1777، 1778، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 16847»
ترقیم العلمیہ : 1755 ترقیم الرسالہ : -- 1779
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ مَحْمُودٍ السَّرَّاجُ ، قَالا: نا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي مَذْعُورٍ ، ثنا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، ثنا عَنْبَسَةُ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنْ جَابِرٍ ،" أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ مُحَاصِرًا بَنِي مُحَارِبٍ بِنَخْلٍ ثُمَّ نُودِيَ فِي النَّاسِ أَنَّ الصَّلاةَ جَامِعَةٌ، فَجَعَلَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَائِفَتَيْنِ طَائِفَةٌ مُقْبِلَةٌ عَلَى الْعَدُوِّ يَتَحَدَّثُونَ وَصَلَّى بِطَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ فَانْصَرَفُوا فَكَانُوا مَكَانَ إِخْوَانِهِمْ، وَجَاءَتِ الطَّائِفَةُ الأُخْرَى فَصَلَّى بِهِمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ، فَكَانَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ وَلِكُلِّ طَائِفَةٍ رَكْعَتَيْنِ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نخل کے مقام پر بنو محارب کا محاصرہ کر لیا، پھر لوگوں میں اعلان ہوا کہ نماز ہونے لگی ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مسلمانوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا، ایک حصے کا رخ دشمن کی طرف تھا، یہ لوگ آپس میں بات چیت بھی کر رہے تھے، دوسرے گروہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعات پڑھا کر سلام پھیر لیا، وہ لوگ اٹھے اور اپنے ساتھیوں کی جگہ چلے گئے، پھر دوسرا گروہ آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی دو رکعات پڑھائیں، یوں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چار رکعات ہوئیں اور ہر گروہ نے دو رکعات ادا کیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْعِيدَيْنِ/حدیث: 1779]
ترقیم العلمیہ: 1755
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4125، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 840، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 1347،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 2869، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1253، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 1544، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1260، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 1779، 1782، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14400»
«الحسن لم يسمع من جابر، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (6 / 25)»
«الحسن لم يسمع من جابر، فتح الباري شرح صحيح البخاري لابن رجب: (6 / 25)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح