🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. بَابُ مَا جَاءَ فِي صِيَامِ التَّطَوُّعِ وَالْخُرُوجِ مِنْهُ قَبْلَ تَمَامِهِ
باب: نفلی روزہ رکھنے اور مکمل ہونے سے پہلے چھوڑ دینے کے بارے میں کیا کہا گیا؟
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2203 ترقیم الرسالہ : -- 2232
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وأَبُو أُمَيَّةَ ، قَالا: نا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ طَعَامًا فَجَاءَ يَوْمًا، فَقَالَ:" هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ ذَلِكَ الطَّعَامِ"، قُلْتُ: لا، قَالَ:" إِنِّي صَائِمٌ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک کھانے کو پسند کرتے تھے، ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، تو دریافت کیا: آپ کے پاس وہ والا کھانا ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2232]
ترقیم العلمیہ: 2203
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1154، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2141، 2143، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3628،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2326، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2455، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 733، 734، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1701، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8009، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2232، 2233، 2236، 2237،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 190، 191 وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24857، والترمذي فى "الشمائل"، 182، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 7364»
«قال الدارقطني: صححه، شرح الزرقاني على الموطأ: (2 / 230)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2204 ترقیم الرسالہ : -- 2233
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ بَطْحَاءَ ، وَآخَرُونَ قَالُوا: نا حَمَّادُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَنْبَسَةَ ، ثنا أَبُو دَاوُدَ ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ مُعَاذٍ الضَّبِّيُّ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، قَالَ: قَالَتْ عَائِشَةُ : دَخَلَ عَلَيَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" عِنْدَكِ شَيْءٌ؟"، قُلْتُ: لا، قَالَ:" إِذًا أَصُومُ"، وَدَخَلَ عَلَيَّ يَوْمًا آخَرَ، فَقَالَ:" أَعِنْدَكِ شَيْءٌ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ:" إِذًا أُطْعِمُ، وَإِنْ كُنْتُ قَدْ فَرَضْتُ الصَّوْمَ" . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے، دریافت کیا گیا: تمہارے پاس (کھانے کے لیے) کچھ ہے؟ میں نے عرض کی: نہیں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔ پھر ایک دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ہاں تشریف لائے، تو آپ نے دریافت کیا: کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟ میں نے عرض کی: جی ہاں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: پھر میں کھا لیتا ہوں، اگرچہ میں نے روزے کی نیت کی تھی۔ اس روایت کی سند حسن صحیح ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2233]
ترقیم العلمیہ: 2204
تخریج الحدیث: «إسناده حسن صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1154، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2141، 2143، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3628،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2326، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2455، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 733، 734، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1701، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8009، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2232، 2233، 2236، 2237،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 190، 191 وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24857، والترمذي فى "الشمائل"، 182، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 7364»
«قال الدارقطني: هذا إسناد حسن صحيح، سنن الدارقطني: (3 / 136) برقم: (2233)»

الحكم على الحديث: إسناده حسن صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2205 ترقیم الرسالہ : -- 2234
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ بْنِ زَكَرِيَّا ، ثنا عَبَّادٌ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ أَبِي ثَوْرٍ ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" إِذَا صَامَ الرَّجُلُ تَطَوُّعًا فَلْيُفْطِرْ مَتَى شَاءَ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: جب کسی شخص نے نفلی روزہ رکھا ہو، تو وہ جب چاہے اسے توڑ سکتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2234]
ترقیم العلمیہ: 2205
تخریج الحدیث: «((أخرجه الدارقطني فى سننه برقم: 2231))»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2206 ترقیم الرسالہ : -- 2235
حَدَّثَنَا أَبُو طَالِبٍ الْكَاتِبُ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ الْجَهْمِ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ الطُّوسِيُّ . ح وَحَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ الرَّمَادِيُّ ، ثنا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، نا أَبُو الْعُمَيْسِ ، عَنْ عَوْنِ بْنِ أَبِي جُحَيْفَةَ ، عَنْ أَبِيهِ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ آخَى بَيْنَ سَلْمَانَ وَبَيْنَ أَبِي الدَّرْدَاءِ، قَالَ: فَجَاءَ سَلْمَانُ يَزُورُ أَبَا الدَّرْدَاءِ، فَإِذَا أُمُّ الدَّرْدَاءِ مُتَبَذِّلَةً، قَالَ: مَا شَأْنُكِ؟ قَالَتْ: إِنَّ أَخَاكَ يَقُومُ اللَّيْلَ وَيَصُومُ النَّهَارَ، وَلَيْسَ لَهُ حَاجَةٌ فِي نِسَاءِ الدُّنْيَا، فَجَاءَ أَبُو الدَّرْدَاءِ فَرَحَّبَ بِهِ سَلْمَانُ وَقَرَّبَ إِلَيْهِ طَعَامًا، فَقَالَ لَهُ سَلْمَانُ: أَطْعِمْ، فَقَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ لَتُفْطِرَنَّهُ، قَالَ: مَا أَنَا بِآكِلٍ حَتَّى تَأْكُلَ فَأَكَلَ مَعَهُ، ثُمَّ بَاتَ عِنْدَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ اللَّيْلُ أَرَادَ أَبُو الدَّرْدَاءِ أَنْ يَقُومَ فَمَنَعَهُ سَلْمَانُ، وَقَالَ لَهُ:" إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلِرَبِّكَ عَلَيْكَ حَقًّا، وَلأَهْلِكَ عَلَيْكَ حَقًّا، صُمْ وَأَفْطِرْ، وَصَلِّ وَنَمْ، وَائْتِ أَهْلَكَ وَأَعْطِ كُلَّ ذِي حَقِّ حَقَّهُ"، فَلَمَّا كَانَ فِي وَجْهِ الصُّبْحِ، قَالَ: قُمِ الآنَ إِنْ شِئْتَ، فَقَامَا فَتَوَضَّيَا ثُمَّ رَكَعَا ثُمَّ خَرَجَا إِلَى الصَّلاةِ، فَدَنَا أَبُو الدَّرْدَاءِ لِيُخْبِرَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالَّذِي أَمَرَهُ سَلْمَانُ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا أَبَا الدَّرْدَاءِ، إِنَّ لِجَسَدِكَ عَلَيْكَ حَقًّا"، مثل مَا قَالَ سَلْمَانُ . لَفْظُ أَبِي طَالِبٍ.
عون بن ابوحجیفہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا سلیمان فارسی اور سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہما کو ایک دوسرے کا (منہ بولا بھائی) بنا دیا۔ راوی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا سلیمان، سیدنا ابودرداء سے ملنے کے لیے آئے، تو سیدہ ام درداء کو خراب حالت میں دیکھا، تو دریافت کیا: آپ کو کیا ہوا ہے؟ انہوں نے جواب دیا: آپ کے بھائی رات بھر نفل پڑھتے رہتے ہیں، دن کے وقت روزہ رکھتے ہیں، انہیں دنیا کی اور بیوی کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ پھر سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے، انہوں نے سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ کو خوش آمدید کہا اور ان کے آگے کھانا رکھا، تو سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہا: آپ بھی کھائیے، انہوں نے جواب دیا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے۔ سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ آپ روزہ توڑ دیں، سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے یہ بھی کہا: میں اس وقت تک نہیں کھاؤں گا، جب تک آپ نہیں کھائیں گے، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ کھانا کھا لیا۔ سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ رات کے وقت ان کے ہاں گئے، جب رات کا وقت ہوا، تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے ارادہ کیا کہ وہ نوافل ادا کرنے شروع کریں، تو سیدنا سلیمان نے انہیں روک دیا اور ان سے کہا: آپ کے جسم کا بھی آپ پر حق ہے، آپ کے پروردگار کا بھی آپ پر حق ہے، آپ کی بیوی کا بھی آپ پر حق ہے، آپ نفلی روزہ رکھیں بھی اور کسی دن چھوڑ بھی دیں، (نفلی نماز) ادا بھی کریں اور سو بھی جایا کریں، اپنی اہلیہ کے پاس بھی جایا کریں، ہر حقدار کو اس کا حق دیا کریں۔ جب صبح کا وقت قریب آیا، تو سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے کہا: اب آپ اٹھیں، اگر آپ (نوافل ادا کرنا چاہتے ہیں)۔ یہ دونوں حضرات اٹھے، انہوں نے نوافل ادا کیے، پھر (فجر کی نماز) ادا کرنے کے لیے چلے گئے۔ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تاکہ آپ کو اس چیز کے بارے میں بتائیں، جو سیدنا سلیمان رضی اللہ عنہ نے ان سے کہی تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: اے ابودرداء! تمہارے جسم کا بھی تم پر حق ہے۔ آپ نے وہی بات ارشاد فرمائی، جو سیدنا سلیمان نے ارشاد فرمائی تھی۔ روایت کے یہ الفاظ ابوطالب نامی راوی کے ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2235]
ترقیم العلمیہ: 2206
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1968، 6139، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2144، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 320، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2413، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8434، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2235، وأبو يعلى فى ((مسنده)) برقم: 898، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 4223، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 27233، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 285»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2207 ترقیم الرسالہ : -- 2236
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ ، عَنْ طَلْحَةَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَأْتِينَا، فَيَقُولُ:" هَلْ عِنْدَكُمْ مِنْ غَدَاءٍ؟"، فَإِنْ قُلْنَا: نَعَمْ، تَغَدَّى، وَإِنْ قُلْنَا: لا، قَالَ:" إِنِّي صَائِمٌ"، وَإِنَّهُ أَتَانَا ذَاتَ يَوْمٍ وَقَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَدْ أُهْدِيَ لَنَا حَيْسٌ وَقَدْ خَبَّأْنَا لَكَ، فَقَالَ:" أَمَا إِنِّي أَصْبَحْتُ صَائِمًا فَأَكَلَ" . وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لاتے اور دریافت کرتے: کیا تمہارے پاس کھانے کے لیے کچھ ہے؟ اگر ہم جواب دیتے: جی ہاں! تو آپ وہ کھا لیتے اور اگر ہم عرض کرتے: جی نہیں! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے: میں روزہ رکھ لیتا ہوں۔ ایک مرتبہ آپ ہمارے ہاں تشریف لائے، تو ہمیں تحفہ کے طور پر (حیس) بھیجا گیا تھا، میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہمیں تحفے کے طور پر حیس دیا گیا ہے، جو میں نے آپ کے لیے سنبھال کے رکھا ہے، تو آپ نے فرمایا: میں نے تو صبح روزے کی نیت کی تھی۔ لیکن پھر آپ نے اسے کھا بھی لیا۔ اس حدیث کی سند صحیح ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2236]
ترقیم العلمیہ: 2207
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1154، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2141، 2143، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3628،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2326، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2455، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 733، 734، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1701، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8009، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2232، 2233، 2236، 2237،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 190، 191 وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24857، والترمذي فى "الشمائل"، 182، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 7364»
«قال الدارقطني: صححه، شرح الزرقاني على الموطأ: (2 / 230)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2208 ترقیم الرسالہ : -- 2237
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَبَّاسِ الْبَاهِلِيُّ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِيهِ طَلْحَةُ بْنُ يَحْيَى ، عَنْ عَمَّتِهِ عَائِشَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ، قَالَتْ: دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنِّي أُرِيدُ الصَّوْمَ"، وَأُهْدِيَ لَهُ حَيْسٌ، فَقَالَ:" إِنِّي آكُلُ وَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ" . لَمْ يَرْوِهِ بِهَذَا اللَّفْظِ عَنِ ابْنِ عُنَيْنَةَ غَيْرُ الْبَاهِلِيِّ، وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَى قَوْلِهِ:" وَأَصُومُ يَوْمًا مَكَانَهُ"، وَلَعَلَّهُ شُبِّهَ عَلَيْهِ. وَاللَّهُ أَعْلَمُ، لِكَثْرَةِ مَنْ خَالَفَهُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ.
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اور کہا: میں نے روزہ رکھنے کا ارادہ کیا ہے۔ پھر آپ کی خدمت میں حیس لایا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: میں اس میں سے کھا لیتا ہوں اور اس روزے کی جگہ پھر کسی دن روزہ رکھ لوں گا۔ ان الفاظ میں اس روایت کو صرف باہلی نے نقل کیا ہے، کسی اور نے نقل نہیں کیا ہے اور کسی نے اس کی متابعت نہیں کی ہے، یعنی ان الفاظ کی: اس کی جگہ پھر روزہ رکھ لوں گا۔ شاید یہ بات ان کے لیے مشتبہ ہو گئی ہو، باقی اللہ تعالیٰ بہتر جانتا ہے، کیونکہ دیگر راویوں نے ابن عیینہ سے ان الفاظ کو نقل کرنے میں اختلاف کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2237]
ترقیم العلمیہ: 2208
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1154، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2141، 2143، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3628،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2326، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2455، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 733، 734، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1701، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8009، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2232، 2233، 2236، 2237،والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 190، 191 وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 24857، والترمذي فى "الشمائل"، 182، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 7364»
«قال الدارقطني: وهذه الزيادة غير محفوظة، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (2 / 362)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2209 ترقیم الرسالہ : -- 2238
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، ثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ:" رُبَّمَا دَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِغَدَائِهِ، فَلا يَجِدُهُ فَيُفْرَضُ عَلَيْهِ صَوْمُ ذَلِكَ الْيَوْمِ" . عَبْدُ اللَّهِ هَذَا لَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ.
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: بعض اوقات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانے کے لیے کوئی چیز منگواتے اور آپ کو اس دن کوئی چیز نہ ملتی، تو آپ اس دن روزہ رکھ لیتے۔ اس روایت کے راوی عبداللہ معروف نہیں ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2238]
ترقیم العلمیہ: 2209
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2238، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9198، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 7095»
«قال الدارقطني: عبد الله هذا ليس بمعروف .»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2210 ترقیم الرسالہ : -- 2239
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَزِيدَ الزَّعْفَرَانِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَادَةَ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حُمَيْدٍ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عُبَيْدٍ ، قَالَ: صَنَعَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ طَعَامًا فَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابَهُ، فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الْقَوْمِ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" صَنَعَ لَكَ أَخُوكَ وَتَكَلَّفَ لَكَ أَخُوكَ، أَفْطِرْ وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ" . هَذَا مُرْسَلٌ.
ابراہیم بن عبید بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نے کھانا تیار کیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے بعض اصحاب کی دعوت کی، تو حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے بھائی نے تمہارے لیے کھانا تیار کیا ہے، تمہارے بھائی نے تمہارے لیے اہتمام کیا ہے، تم روزہ توڑ دو اور پھر کسی دن روزہ رکھ لینا۔ یہ روایت مرسل ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2239]
ترقیم العلمیہ: 2210
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8452، 14650، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2239، والطيالسي فى ((مسنده)) برقم: 2317، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"،،، وأخرجه الطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 3240»
«قال الدارقطني: هذا مرسل، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 465)»

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2211 ترقیم الرسالہ : -- 2240
حَدَّثَنِي أَبِي ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، ثنا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ الْحَرَّانِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الْفَزَارِيِّ ، عَنْ عَطِيَّةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ أَكَلَ فِي شَهْرِ رَمَضَانَ نَاسِيًا فَلا قَضَاءَ عَلَيْهِ إِنَّ اللَّهَ أَطْعَمَهُ وَسَقَاهُ" . الْفَزَارِيُّ هُوَ مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَرْزَمِيُّ.
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جو شخص رمضان کے مہینے میں بھول کر کچھ کھا لے، تو اس پر قضاء لازم نہیں ہو گی، اللہ تعالیٰ نے اسے کھلایا ہو گا اور پلایا ہو گا۔ اس روایت کے راوی فزاری محمد بن عبیداللہ عرزمی ہیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2240]
ترقیم العلمیہ: 2211
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2240، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6365»
«هو ضعيف يعني الفزاري، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (11 / 16)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2212 ترقیم الرسالہ : -- 2241
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ الْخَالِقِ ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ الرَّازِيُّ ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَلَفِ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ مِرْسَالٍ الْخَثْعَمِيُّ ، ثنا أبِي ، ثنا عَمِّي إِسْمَاعِيلُ بْنُ مِرْسَالٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: صَنَعَ رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا، فَدَعَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابًا لَهُ، فَلَمَّا أَتَى بِالطَّعَامِ تَنَحَّى أَحَدُهُمْ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَا لَكَ؟"، قَالَ: إِنِّي صَائِمٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" تَكَلَّفَ لَكَ أَخُوكَ وَصَنَعَ، ثُمَّ تَقُولُ: إِنِّي صَائِمٌ، كُلْ وَصُمْ يَوْمًا مَكَانَهُ" .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک صاحب نے کھانا تیار کیا، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کی دعوت کی، کھانا لایا گیا، تو ان لوگوں میں سے ایک صاحب پیچھے ہٹ گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: تمہیں کیا ہوا ہے؟ انہوں نے عرض کی: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تمہارے بھائی نے تمہارے لیے اہتمام کیا ہے اور اسے تیار کیا ہے اور اب تم کہہ رہے ہو: میں نے روزہ رکھا ہوا ہے، تم اسے کھا لو اور اس روزے کی جگہ پھر کسی دن روزہ رکھ لینا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الصِّيَامِ/حدیث: 2241]
ترقیم العلمیہ: 2212
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2241»
«‏‏‏‏قال ابن حجر: فيه عمرو بن خليف وهو وضاع، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 401)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں