🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

29. مَا جَاءَ فِي الْمُحْرِمِ يُؤْذِيهِ قَمْلُ رَأْسِهِ
باب: حاجی کے سر میں جوؤں کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2743 ترقیم الرسالہ : -- 2780
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، عَنْ وَرْقَاءَ بْنِ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، قَالَ: قَالَ مُجَاهِدٌ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَقَمْلُهُ يَسْقُطُ عَلَى وَجْهِهِ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ لَهُ: أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى الْفِدْيَةَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ يَهْدِي شَاةً، أَوْ يَصُومَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ" .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ ان کی جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں، یہ حدیبیہ کے مقام کی بات ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا تمہاری جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ سر منڈوا لیں، حالانکہ وہ اس وقت حدیبیہ کے مقام پر موجود تھے اور نبی نے ابھی لوگوں کے سامنے یہ بات بیان نہیں کی تھی کہ وہ یہیں احرام کھول لیں گے، کیونکہ لوگ تو یہ چاہتے تھے کہ وہ مکہ میں داخل ہوں، تو اللہ نے فدیہ کا حکم نازل کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ ایک فرق چھ غریبوں کے درمیان تقسیم کر دیں یا ایک بکری کی قربانی کریں یا تین دن روزے رکھ لیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2780]
ترقیم العلمیہ: 2743
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1814، 1815، 1816، 1817، 1818، 4159، 4190، 4191، 4517، 5665، 5703، 6708، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1201،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 884، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2676،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3978، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2854، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1856، 1857، 1858، 1860،والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 953، 2973، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3079، 3080، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2780، 2781، 2782، 2783، 2784، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18388»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2744 ترقیم الرسالہ : -- 2781
ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، قَالا: نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ ، نا الْفِرْيَابِيُّ ، نا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ:" مَرَّ بِهِ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لَهُ، فَقَالَ: أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَحْلِقَ وَيَصُومَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ أَوْ يَنْسُكَ". قَالَ سُفْيَانُ: فنزلت هَذِهِ الآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ سورة البقرة آية 196 بِهِ.
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، وہ اس وقت اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ سلگا رہے تھے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: کیا تمہاری جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟ پھر نبی نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ سر منڈوا لیں اور تین دن روزے رکھیں یا ایک فرق چھ مسکینوں کو کھانے کے لیے دیں یا قربانی کر لیں۔ سفیان رحمہ اللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: (اس واقعہ کے بارے میں) یہ آیت نازل ہوئی: تو تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اس کے سر میں تکلیف ہو، تو وہ ہدیہ دے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2781]
ترقیم العلمیہ: 2744
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1814، 1815، 1816، 1817، 1818، 4159، 4190، 4191، 4517، 5665، 5703، 6708، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1201،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 884، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2676،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3978، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2854، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1856، 1857، 1858، 1860،والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 953، 2973، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3079، 3080، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2780، 2781، 2782، 2783، 2784، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18388»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2745 ترقیم الرسالہ : -- 2782
ثنا أَبُو الْحَسَنِ الْمِصْرِيُّ ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ ، وَأَبُو عَبْدِ اللَّهِ الأُبُلِيُّ ، قَالُوا: نا يُوسُفُ بْنُ يَزِيدَ بْنِ كَامِلٍ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي عَبَّادٍ ، نا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ الزَّنْجِيُّ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَثِيرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ" أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَآهُ وَقَمْلُهُ تَتَسَاقَطُ عَلَى وَجْهِهِ، فَقَالَ: أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّكَ؟، قَالَ: نَعَمْ، فَأَمَرَهُ أَنْ يَحْلِقَ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، وَلَمْ يُبَيِّنْ لَهُمْ أَنَّهُمْ يَحِلُّونَ بِهَا، وَهُمْ عَلَى طَمَعٍ أَنْ يَدْخُلُوا مَكَّةَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى الْفِدْيَةَ، فَأَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُطْعِمَ فَرَقًا بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، أَوْ يَهْدِيَ شَاةً، أَوْ يَصُومَ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ" .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دیکھا کہ ان کی جوئیں ان کے چہرے پر گر رہی تھیں، یہ حدیبیہ کے مقام کی بات ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا تمہاری جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟ انہوں نے عرض کی: جی ہاں! تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ حکم دیا کہ وہ سر منڈوا لیں، حالانکہ وہ اس وقت حدیبیہ کے مقام پر موجود تھے اور نبی نے ابھی لوگوں کے سامنے یہ بات بیان نہیں کی تھی کہ وہ یہیں احرام کھول لیں گے، کیونکہ لوگ تو یہ چاہتے تھے کہ وہ مکہ میں داخل ہوں، تو اللہ نے فدیہ کا حکم نازل کیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ ایک فرق چھ غریبوں کے درمیان تقسیم کر دیں یا ایک جانور کی قربانی کریں یا تین دن روزے رکھ لیں۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2782]
ترقیم العلمیہ: 2745
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1814، 1815، 1816، 1817، 1818، 4159، 4190، 4191، 4517، 5665، 5703، 6708، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1201،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 884، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2676،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3978، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2854، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1856، 1857، 1858، 1860،والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 953، 2973، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3079، 3080، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2780، 2781، 2782، 2783، 2784، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18388»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2746 ترقیم الرسالہ : -- 2783
حَدَّثَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ الْمُهْتَدِي بِاللَّهِ ، نا طَاهِرُ بْنُ عِيسَى بْنِ إِسْحَاقَ التَّمِيمِيُّ ، نا زُهَيْرُ بْنُ عَبَّادٍ ، نا مُصْعَبُ بْنُ مَاهَانَ ، عَنْ سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، وَأَيُّوبَ ، وَسَيْفٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، قَالَ: مَرَّ بِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يُوقِدُ تَحْتَ قِدْرٍ لَهُ وَهُوَ بِالْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُؤْذِيكَ هَوَامُّ رَأْسِكَ؟"، قَالَ: نَعَمْ، قَالَ:" احْلِقْ"، فَأُنْزِلَتْ هَذِهِ الآيَةُ فَمَنْ كَانَ مِنْكُمْ مَرِيضًا أَوْ بِهِ أَذًى مِنْ رَأْسِهِ فَفِدْيَةٌ مِنْ صِيَامٍ أَوْ صَدَقَةٍ أَوْ نُسُكٍ سورة البقرة آية 196. فَالصِّيَامُ ثَلاثَةُ أَيَّامٍ، وَالصَّدَقَةُ فَرَقٌ بَيْنَ سِتَّةِ مَسَاكِينَ، وَالنُّسُكُ شَاةٌ .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، وہ اپنی ہنڈیا کے نیچے آگ سلگا رہے تھے۔ یہ حدیبیہ کی بات ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا: کیا تمہاری جوئیں تمہیں تنگ کر رہی ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنا سر منڈوا دو۔ (راوی بیان کرتے ہیں) تو یہ آیت نازل ہوئی: تو تم میں سے جو شخص بیمار ہو یا اسے سر میں تکلیف ہو، تو وہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ کر لے یا قربانی کرے۔ روزہ رکھنے کا حکم تین دن روزے رکھنا ہے۔ صدقے سے مراد یہ ہے کہ چھ مسکینوں کو ایک فرق دیا جائے، اور قربانی سے مراد یہ ہے کہ بکری کی قربانی دی جائے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2783]
ترقیم العلمیہ: 2746
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1814، 1815، 1816، 1817، 1818، 4159، 4190، 4191، 4517، 5665، 5703، 6708، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1201،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 884، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2676،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3978، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2854، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1856، 1857، 1858، 1860،والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 953، 2973، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3079، 3080، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2780، 2781، 2782، 2783، 2784، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18388»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2747 ترقیم الرسالہ : -- 2784
ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَرَّ بِهِ وَلَهُ وَفْرَةٌ، وَبِأَصْلِ كُلِّ شَعْرَةٍ وَبِأَعْلاهَا قَمْلَةٌ أَوْ صُؤَابٌ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّ هَذَا الأَذَى أَمَعَكَ نُسُكٌ؟"، قَالَ: لا، قَالَ:" فَإِنْ شِئْتَ فَصُمْ ثَلاثَةَ أَيَّامٍ، أَوْ أَطْعِمْ ثَلاثَةَ آصُعٍ مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ كُلِّ مِسْكِينٍ صَاعٌ" .
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس سے گزرے، ان کے بال بڑے تھے، ان کے بالوں کی جڑوں میں اور ان کے اوپر والے حصے میں جوئیں تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم اس تکلیف میں ہو، کیا تمہارے ساتھ قربانی کا جانور ہے؟ انہوں نے عرض کیا: نہیں! نبی نے فرمایا: پھر اگر تم چاہو، تو تین دن روزے رکھ لو یا تین صاع کھجوریں (غریبوں کو) کھلا دو، ہر ایک مسکین کو ایک صاع دو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْحَجِّ/حدیث: 2784]
ترقیم العلمیہ: 2747
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1814، 1815، 1816، 1817، 1818، 4159، 4190، 4191، 4517، 5665، 5703، 6708، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1201،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 884، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2676،وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 3978، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2854، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1856، 1857، 1858، 1860،والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 953، 2973، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3079، 3080، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2780، 2781، 2782، 2783، 2784، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18388»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں