سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
2. بَابُ الصُّلْحِ
باب: صلح کا بیان
ترقیم العلمیہ : 2873 ترقیم الرسالہ : -- 2909
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُوسُفُ بْنُ سَعِيدٍ ، نَا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ بِعْتَ مِنْ أَخِيكَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ، فَلا يَحِلُّ لَكَ أَنْ تَأْخُذَ مِنْهُ شَيْئًا، لِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ؟" ، قُلْتُ لأَبِي الزُّبَيْرِ: هَلْ سَمَّى لَكَ الْجَوَائِحَ؟، قَالَ: لا،.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”اگر تم اپنے بھائی کو کچھ پھل فروخت کرتے ہو اور اس کو کوئی آفت لاحق ہوتی ہے، تو اب تمہارے لیے یہ بات جائز نہیں کہ تم اس کا کوئی معاوضہ وصول کرو، تم کسی حق کے بغیر کسی بنیاد پر اپنے بھائی کا مال حاصل کرو گے۔“ راوی بیان کرتے ہیں کہ میں نے اپنے استاد ابوزبیر سے دریافت کیا: روایت میں یہ الفاظ ہیں جوائح؟ تو انہوں نے جواب دیا: ”نہیں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2909]
ترقیم العلمیہ: 2873
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1554، وابن الجارود فى "المنتقى"، 696، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5034، 5035، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2269، 2270، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4531، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3470، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2598، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2219، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2908، 2909، 2910، 2911، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5623، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6768»
ترقیم العلمیہ : 2874 ترقیم الرسالہ : -- 2910
ثنا أَبُو بَكْرٍ ، نَا بَكَّارُ بْنُ قُتَيْبَةَ ، نَا رَوْحٌ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ سَوَاءٌ، قُلْتُ: هَلْ سَمَّى لَكُمُ الْجَوَائِحَ؟، قَالَ: لا.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، اس میں بھی یہی الفاظ ہیں: میں نے دریافت کیا: ”کیا انہوں نے آپ کے سامنے لفظ الجوائح نقل کیا تھا؟“ تو انہوں نے کہا: ”جی نہیں۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2910]
ترقیم العلمیہ: 2874
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1554، وابن الجارود فى "المنتقى"، 696، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5034، 5035، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2269، 2270، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4531، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3470، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2598، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2219، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2908، 2909، 2910، 2911، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5623، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6768»
ترقیم العلمیہ : 2875 ترقیم الرسالہ : -- 2911
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَالْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، وَغَيْرُهُمَا ، قَالُوا: نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" مَنِ ابْتَاعَ ثَمَرًا فَأَصَابَتْهُ جَائِحَةٌ فَلا تَأْخُذَنَّ مِنْهُ شَيْئًا، بِمَ تَأْخُذُ مَالَ أَخِيكَ بِغَيْرِ حَقٍّ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص پھل خریدتا ہے (یا فروخت کرتا ہے) اور اسے کوئی آسمانی آفت لاحق ہو جاتی ہے، تو وہ اس میں سے کچھ بھی نہ لے، تم کسی حق کے بغیر کس بنیاد پر اپنے بھائی کا مال وصول کرو گے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2911]
ترقیم العلمیہ: 2875
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1554، وابن الجارود فى "المنتقى"، 696، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5034، 5035، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2269، 2270، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4531، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3470، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2598، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2219، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2908، 2909، 2910، 2911، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5623، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 6768»
ترقیم العلمیہ : 2876 ترقیم الرسالہ : -- 2912
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، نَا يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ حُمَيْدٍ الأَعْرَجِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ عَتِيقٍ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَمَرَ بِوَضْعِ الْجَوَائِحِ، وَنَهَى عَنْ بَيْعِ السِّنِينَ" .
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آفت کی وجہ سے ہونے والے نقصان کے بارے میں معاوضے میں کمی کی ہدایت کی اور آپ نے کئی سال تک کے بعد کی ادائیگی کا سودا کرنے سے منع کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2912]
ترقیم العلمیہ: 2876
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1487، 2189، 2196، 2381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1534،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2287، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4531، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3370، 3373، 3374، 3375، 3404، 3405، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1290، 1313، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2659، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2216، 2218، 2266،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2912، 2914، 2941، 2990، 2991، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14542»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2877 ترقیم الرسالہ : -- 2913
ثنا ثنا مُحَمَّدُ بْنُ نُوحٍ الْجُنْدِيسَابُورِيُّ ، نَا مَعْمَرُ بْنُ سَهْلٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ، نَا مَطَرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ" فِي الرَّجُلِ يُرْتَهَنُ فَيُضِيعُ، قَالَ: إِنْ كَانَ أَقَلَّ مِمَّا فِيهِ، رَدَّ عَلَيْهِ تَمَامَ حَقِّهِ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَمِينٌ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ایسے شخص کے بارے میں فرماتے ہیں، جو کوئی چیز گروی رکھتا اور پھر وہ ضائع ہو جاتی ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”جس چیز کے عوض اسے گروی رکھا گیا تھا، اگر وہ اس سے کم ہے، تو وہ اپنے پورے حق کو واپس کرے گا اور اگر اس سے زیادہ ہے، تو امانت دار ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2913]
ترقیم العلمیہ: 2877
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11347، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2913، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5897»
ترقیم العلمیہ : 2878 ترقیم الرسالہ : -- 2913M
ثنا ثنا أَبُو سَهْلٍ ، نَا أَبُو عَاصِمٍ ، عَنْ أَبِي الْعَوَّامِ، نَا مَطَرٌ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ، قَالَ" فِي الرَّجُلِ يُرْتَهَنُ الرَّهْنَ فَيُضِيعُ، قَالَ: إِنْ كَانَ أَقَلَّ مِمَّا فِيهِ، رَدَّ عَلَيْهِ تَمَامَ حَقِّهِ، وَإِنْ كَانَ أَكْثَرَ فَهُوَ أَمِينٌ" .
عبید بن عمیر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایسے شخص کے بارے میں فرمایا ہے، جو کوئی چیز گروی رکھتا ہے اور پھر اسے ضائع کر دیتا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”اگر یہ ایسی چیز سے کم ہو، جس کے عوض میں اسے گروی رکھا گیا تھا، تو اس کے تمام حق کو اسے واپس کیا جائے اور اگر اس سے زیادہ ہو، تو وہ شخص امانت دار ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2913M]
ترقیم العلمیہ: 2878
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11347، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2913، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 5897»
ترقیم العلمیہ : 2879 ترقیم الرسالہ : -- 2914
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ وَرَّاقٌ الْحُمَيْدِيُّ ، نَا الْحُمَيْدِيُّ ، نَا سُفْيَانُ ، سَمِعْتُ أَبَا الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" ذَكَرَ الْجَوَائِحَ بِشَيْءٍ" ، قَالَ سُفْيَانُ: فَلا أَدْرِي كَمْ ذَلِكَ الْوَضْعُ.
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آفت کی وجہ سے (معاوضے میں کمی کے حوالے سے) کچھ ذکر کیا ہے۔ سفیان کہتے ہیں: میرے علم میں یہ بات نہیں ہے کہ آپ نے کس حد تک کمی کا حکم دیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2914]
ترقیم العلمیہ: 2879
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 1487، 2189، 2196، 2381، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1534،والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2287، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4531، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3370، 3373، 3374، 3375، 3404، 3405، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1290، 1313، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2659، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2216، 2218، 2266،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2912، 2914، 2941، 2990، 2991، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 14542»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 2880 ترقیم الرسالہ : -- 2915
ثنا ثنا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي حَرْمَلَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّ مَوْلًى لأُمِّ حَبِيبَةَ أَفْلَسَ، فَأُتِيَ بِهِ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ ، فَقَضَى فِيهِ عُثْمَانُ ،" أَنْ مَنْ كَانَ اقْتَضَى مِنْ حَقِّهِ شَيْئًا قَبْلَ أَنْ يُفْلِسَ فَهُوَ لَهُ، وَمَنْ عَرَفَ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ" .
سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں کہ سیدہ ام حبیبہ رضی اللہ عنہا کے غلام کو مفلس قرار دے دیا گیا، اسے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس لایا گیا، تو اس کے بارے میں سیدنا عثمان نے یہ فیصلہ دیا: ”اس کے مفلس ہونے سے پہلے جس شخص نے اپنے حق میں سے کچھ وصول کر لیا تھا، وہ اس کا ہوا اور جو شخص اپنے سامان کو بعینہ اس کے پاس پائے، وہ اس سامان کا زیادہ حق دار ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2915]
ترقیم العلمیہ: 2880
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11371، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2915»
ترقیم العلمیہ : 2881 ترقیم الرسالہ : -- 2916
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ غَالِبٍ ، نَا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ رَوْحٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ زِيَادٍ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الرَّهْنُ بِمَا فِيهِ" ، لا يَثْبُتُ هَذَا عَنْ حُمَيْدٍ، وَكُلُّ مَنْ بَيْنَهُ وَبَيْنَ شَيْخِنَا ضُعَفَاءُ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”گروی رکھی ہوئی چیز مکمل طور پر (گروی شمار ہوتی ہے)۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2916]
ترقیم العلمیہ: 2881
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11344، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2916، 2917، 2918، 2931»
«قال الدارقطني: هذا لا يثبت عن حميد ومن بينه وبين شيخنا كلهم ضعفاء، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 319)»
«قال الدارقطني: هذا لا يثبت عن حميد ومن بينه وبين شيخنا كلهم ضعفاء، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 319)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 2882 ترقیم الرسالہ : -- 2917
ثنا عَبْدُ الْبَاقِي بْنُ قَانِعٍ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّةَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ رَاشِدٍ ، نَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" الرَّهْنُ بِمَا فِيهِ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”گروی رکھی ہوئی چیز (مکمل طور پر گروی شمار ہوتی ہے)۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2917]
ترقیم العلمیہ: 2882
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11344، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2916، 2917، 2918، 2931»
«قال الدارقطني: هذا لا يثبت عن حميد ومن بينه وبين شيخنا كلهم ضعفاء، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 319)»
«قال الدارقطني: هذا لا يثبت عن حميد ومن بينه وبين شيخنا كلهم ضعفاء، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 319)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف