🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. بَابُ الصُّلْحِ
 باب: صلح کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2892 ترقیم الرسالہ : -- 2928
ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، نَا عَبَّاسٌ الدُّورِيُّ ، نَا جَعْفَرُ بْنُ عَوْنٍ ، نَا زَكَرِيَّا بْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" فِي الظَّهْرِ يُرْكَبُ بِالنَّفَقَةِ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ إِذَا كَانَ مَرْهُونًا، وَعَلَى الَّذِي يَرْكَبُ وَيَشْرَبُ نَفَقَتُهُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب کسی سواری کو گروی رکھا گیا ہو، تو آدمی خرچ ادا کر کے اس پر سواری کر سکتا ہے، اسی طرح جب کسی جانور کو گروی رکھا گیا ہو، تو اس کا دودھ دوہ سکتا ہے، جو شخص اوپر سواری کرتا ہے اور جو شخص اس کا دودھ پیتا ہے، اس کے خرچ اسی شخص کے ذمے ہوتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2928]
ترقیم العلمیہ: 2892
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2511، 2512، وابن الجارود فى "المنتقى"، 722، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5935، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2360، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1254، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2440، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2928، 2929، 2930، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7246»
«قال ابن عبدالبر: هذا الحديث ترده أصول يجتمع عليها وآثار ثابتة لا يختلف في صحتها، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (14 / 206)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2893 ترقیم الرسالہ : -- 2929
ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْعَلاءِ ، نَا زِيَادُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا هُشَيْمٌ ، أَخْبَرَنَا زَكَرِيَّا ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، ذَكَرَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا كَانَتِ الدَّابَّةُ مَرْهُونَةً فَعَلَى الْمُرْتَهِنِ عَلَفُهَا، وَلَبَنُ الدَّرِّ يُشْرَبُ، وَعَلَى الَّذِي يَشْرَبُ نَفَقَتُهُ وَيَرْكَبُ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جب کسی جانور کو رہن رکھا گیا ہو، تو جس شخص کے پاس رہن رکھا گیا ہے، اس کا چارہ اسی شخص کے ذمے ہو گا، اسی طرح دودھ دینے والے جانور کا دودھ وہ شخص پی سکتا ہے، جو شخص دودھ پیتا ہے اور سوار ہوتا ہے، اس جانور کا خرچ اسی شخص کے ذمے ہو گا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2929]
ترقیم العلمیہ: 2893
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2511، 2512، وابن الجارود فى "المنتقى"، 722، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5935، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2360، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1254، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2440، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2928، 2929، 2930، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7246»
«قال ابن عبدالبر: هذا الحديث ترده أصول يجتمع عليها وآثار ثابتة لا يختلف في صحتها، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (14 / 206)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2894 ترقیم الرسالہ : -- 2930
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُجَشِّرٍ ، نَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، ح وَنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، نَا يَحْيَى بْنُ حَمَّادٍ ، نَا أَبُو عَوَانَةَ جَمِيعًا، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الرَّهْنُ مَرْكُوبٌ وَمَحْلُوبٌ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: رہن (رکھے ہوئے جانور) پر سوار ہو جا سکتا ہے، اس کا دودھ دوہا جا سکتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2930]
ترقیم العلمیہ: 2894
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2511، 2512، وابن الجارود فى "المنتقى"، 722، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 5935، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2360، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3526، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1254، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2440، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2928، 2929، 2930، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 7246»
«قال الدارقطني: والموقوف أصح، العلل الواردة في الأحاديث النبوية: (10 / 112)»

الحكم على الحديث: صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2895 ترقیم الرسالہ : -- 2931
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ الْحَدَّادُ ، نَا أَبُو الصَّلْتِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُمَيَّة الزَّارِعُ ، نَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" الرَّهْنُ بِمَا فِيهِ" ، إِسْمَاعِيلُ هَذَا يَضَعُ الْحَدِيثَ، وَهَذَا لا يَصِحُّ.
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: رہن رکھی ہوئی چیز مکمل طور پر رہن شمار ہوتی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2931]
ترقیم العلمیہ: 2895
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11344، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2916، 2917، 2918، 2931»
«قال الدارقطني: إسماعيل هذا يضع الحديث وهذا لا يصح، سنن الدارقطني: (3 / 441) برقم: (2931)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2896 ترقیم الرسالہ : -- 2932
ثنا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْوَضَّاحِ اللُّؤْلُئِيُّ ، نَا زِيَادُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْبَكَّائِيُّ ، نَا إِدْرِيسُ الأَوْدِيُّ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ ، قَالَ:" أَشْرَكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنِي وَبَيْنَ عَمَّارٍ، وَسَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ فِي دَرَقَةٍ سُلِّحْنَاهَا، وَأَشْرَكَنَا فِيمَا أَصَبْنَا، فَأَخْفَقْتُ أَنَا وَعَمَّارٌ، وَجَاءَ سَعْدٌ بِأَسِيرَيْنِ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے، عمار اور سعد بن ابی وقاص کو مشترکہ طور پر ایک ڈھال دی، ہم نے مشرکین کے مال غنیمت میں سے جو چیزیں لی تھیں، آپ نے ان میں ہمیں شریک قرار دیا، میں اور عمار تو کچھ نہ لا سکے، البتہ سعد دو قیدی لے آئے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2932]
ترقیم العلمیہ: 2896
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3969، 4711، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4654، 6250، 8605، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3388، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2288، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11545، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2932، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 34301»
«قال الشيخ الألباني: ضعيف، وأخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3388»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2897 ترقیم الرسالہ : -- 2933
قُرِئَ عَلَى قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ بْنِ مَنِيعٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ، حَدَّثَكُمْ لُوَيْنٌ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، نَا أَبُو هَمَّامٍ الأَهْوَازِيُّ وَهُوَ مُحَمَّدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَعْنِي يَقُولُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ:" أَنَا ثَالِثُ الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَإِذَا خَانَ خَرَجْتُ مِنْ بَيْنِهِمَا" ، قَالَ لُوَيْنٌ: لَمْ يُسْنِدْهُ أَحَدٌ، إِلا أَبُو هَمَّامٍ وَحْدَهُ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: میں دو شراکت داروں کے ساتھ ہوتا ہوں، جب تک ان میں سے کوئی ایک دوسرے کے ساتھ خیانت نہیں کرتا، جب وہ خیانت کر لیتا ہے، تو میں ان دونوں کے درمیان سے نکل جاتا ہوں (یعنی میری رحمت ان کے ساتھ نہیں رہتی)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2933]
ترقیم العلمیہ: 2897
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2335، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3383، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11541، 11542، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2933، 2934»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2898 ترقیم الرسالہ : -- 2934
ثنا هُبَيْرَةُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَحْمَدَ الشَّيْبَانِيُّ ، نَا أَبُو مَيْسَرَةَ النَّهَاوَنْدِيُّ ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ أَبِي حَيَّانَ التَّيْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَدُ اللَّهِ عَلَى الشَّرِيكَيْنِ مَا لَمْ يَخُنْ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ، فَإِذَا خَانَ أَحَدُهُمَا صَاحِبَهُ رَفَعَهَا عَنْهُمَا" .
ابوحیان تیمی اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: اللہ تعالیٰ کا کرم دو شراکت داروں پر ہوتا ہے، جب تک ان میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کے ساتھ کوئی خیانت نہیں کرتا، جب ان دونوں میں سے کوئی ایک اپنے ساتھی کے ساتھ خیانت کر لیتا ہے، تو اللہ تعالیٰ ان دونوں سے اپنا کرم اٹھا لیتا ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2934]
ترقیم العلمیہ: 2898
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2335، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3383، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11541، 11542، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2933، 2934»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2899 ترقیم الرسالہ : -- 2935
ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعُمَرِيُّ ، ثنا أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ مَيْمُونٍ الزَّعْفَرَانِيُّ ، نَا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ ، عَنْ يُوسُفَ بْنِ يَعْقُوبَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ قُرَيْشٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" أَدِّ الأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ" .
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: جس شخص نے تمہارے پاس امانت رکھوائی ہو، اسے امانت واپس کر دو اور جس شخص نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہو، تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2935]
ترقیم العلمیہ: 2899
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2935 انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2900 ترقیم الرسالہ : -- 2936
ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا أَبُو كُرَيْبٍ ، نَا طَلْقُ بْنُ غَنَّامٍ ، عَنْ شَرِيكٍ ، وَقَيْسٍ ، عَنْ أَبِي حُصَيْنٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدِّ الأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جس شخص نے تمہارے پاس امانت رکھوائی ہو، اسے وہ امانت ادا کر دو، جس شخص نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہو، تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2936]
ترقیم العلمیہ: 2900
تخریج الحدیث: «أخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2309، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3535، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1264، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2639، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 21359، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2936، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 9002، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 1831، 1832، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 3595»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 2901 ترقیم الرسالہ : -- 2937
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ سَالِمٍ ، ثنا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ ، نَا ابْنُ شَوْذَبٍ ، عَنْ أَبِي التَّيَّاحِ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَدِّ الأَمَانَةَ إِلَى مَنِ ائْتَمَنَكَ، وَلا تَخُنْ مَنْ خَانَكَ" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: جس شخص نے تمہارے پاس امانت رکھوائی ہو، اسے امانت ادا کرو اور جس شخص نے تمہارے ساتھ خیانت کی ہو، تم اس کے ساتھ خیانت نہ کرو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْبُيُوعِ/حدیث: 2937]
ترقیم العلمیہ: 2901
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2737، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 2310، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 21360، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2937، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 760، والطبراني فى ((الصغير)) برقم: 475»
«قال ابن حجر: أيوب بن سويد مختلف فيه، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (3 / 209)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں