🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. أَحْكَامِ الْوَصَايَا
وصیت کے احکام
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4220 ترقیم الرسالہ : -- 4297
نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ الْمُهْتَدِي ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ خَالِدٍ ، نَا أَبِي ، عَنْ يُونُسَ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ عَطَاءٍ الْخُرَاسَانِيِّ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ، إِلا أَنْ يَشَاءَ الْوَرَثَةُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ اگر دیگر ورثاء چاہیں (تو ایسا ہو سکتا ہے)۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْوَصَايَا/حدیث: 4297]
ترقیم العلمیہ: 4220
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12660، 12661، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4150، 4153، 4155، 4295، 4297، وأبو داود فى "المراسيل"، 349»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4221 ترقیم الرسالہ : -- 4298
نَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ كَثِيرٍ ، نَا عَبَّادُ بْنُ يَعْقُوبَ ، نَا نُوحُ بْنُ دَرَّاجٍ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ تَغْلِبَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ وَلا إِقْرَارَ بِدَيْنٍ" .
امام جعفر صادق رحمہ اللہ اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”وارث کے لیے وصیت نہیں ہو گی اور نہ ہی (وراثت کے مال میں) قرض کا اقرار ہو گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْوَصَايَا/حدیث: 4298]
ترقیم العلمیہ: 4221
تخریج الحدیث: «مرسل ضعيف، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11576، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4298»
«‏‏‏‏قال الزیلعي: وهو مرسل ونوح بن دراج ضعيف نقل عن أبي داود أنه قال فيه كان يضع الحديث، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 111)»

الحكم على الحديث:
مرسل ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4222 ترقیم الرسالہ : -- 4299
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَرْزُوقٍ ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، أنا سَعِيدٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، قَالَ:" خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَسَمَ لِكُلِّ إِنْسَانٍ نَصِيبَهُ مِنَ الْمِيرَاثِ، فَلا تَجُوزُ لِوَارِثٍ وَصِيَّةٌ إِلا مِنَ الثُّلُثِ" ،.
سیدنا عمرو بن خارجہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں ہمیں خطبہ دیتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی: ”اللہ تعالیٰ نے تم میں سے ہر ایک شخص کا وراثت میں حصہ مقرر کر دیا ہے، اس لیے وارث کے لیے وصیت کرنا جائز نہیں ہے، البتہ ایک تہائی مال میں (وصیت کی جا سکتی ہے)۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْوَصَايَا/حدیث: 4299]
ترقیم العلمیہ: 4222
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3645، برقم: 3646، برقم: 3647، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6435، 6436، 6437، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2121، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2571، 3303، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2712، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4296، 4299، 4300، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17938،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 5909، 17987»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4222/1 ترقیم الرسالہ : -- 4300
قَالَ: وَنا سَعِيدُ بْنُ مَطَرٍ ، عَنْ شَهْرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ خَارِجَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ.
اختلاف سند کے ساتھ اسی (گزشتہ) حدیث کے ہی مثل ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْوَصَايَا/حدیث: 4300]
ترقیم العلمیہ: 4222/1
تخریج الحدیث: «أخرجه النسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3645، برقم: 3646، برقم: 3647، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6435، 6436، 6437، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2121، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2571، 3303، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2712، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4296، 4299، 4300، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17938،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 5909، 17987»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4223 ترقیم الرسالہ : -- 4301
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ الْوَلِيدِ النَّرْسِيُّ ، نَا عِمْرَانُ بْنُ خَالِدٍ الْخُزَاعِيُّ ، نَا ثَابِتٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَيْتِ عَائِشَةَ مَعَهُ بَعْضُ نِسَائِهِ يَنْتَظِرُونَ طُعَيِّمًا، قَالَ: فَسَبَقَتْهَا قَالَ عِمْرَانُ: أَكْبَرُ ظَنِّي، أَنَّهُ قَالَ: حَفْصَةُ بِصَحْفَةٍ فِيهَا ثَرِيدٌ، قَالَ: فَوَضَعَتْهَا فَخَرَجَتْ عَائِشَةُ فَأَخَذَتِ الصَّحْفَةَ، قَالَ: وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ يُحْجَبْنَ، قَالَ: فَضَرَبَتْ بِهَا فَانْكَسَرَتْ فَأَخَذَهَا نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِيَدِهِ، قَالَ: فَضَمَّهَا، وَقَالَ: بِكَفِّهِ يَصِفُ ذَلِكَ عِمْرَانُ، وَقَالَ:" غَارَتْ أُمُّكُمْ"، فَلَمَّا فَرَغَ أَرْسَلَ بِالصَّحْفَةِ إِلَى حَفْصَةَ وَأَرْسَلَ بِالْمَكْسُورَةِ إِلَى عَائِشَةَ فَصَارَتْ قَضِيَّةُ مَنْ كَسَرَ شَيْئًا فَهُوَ لَهُ وَعَلَيْهِ مِثْلُهُ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں اپنی بعض دیگر ازواج مطہرات کے ساتھ موجود تھے، یہ سب لوگ کھانے کا انتظار کر رہے تھے، سب سے پہلے وہ (راوی کہتے ہیں: میرا خیال ہے انہوں نے سیدہ حفصہ کا ذکر کیا تھا) سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا اپنے پیالے میں ثرید لے کر آئیں اور اسے وہاں رکھا، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا باہر آئیں، انہوں نے اس پیالے کو پکڑ کر (توڑ دیا)۔ راوی کہتے ہیں: یہ حجاب کا حکم نازل ہونے سے پہلے کی بات ہے۔ سیدہ عائشہ نے اسے پکڑ کر توڑ دیا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ہاتھ سے اسے پکڑا اور اسے ملاتے ہوئے فرمایا (یہاں عمران نامی راوی نے اپنے ہاتھ سے اشارہ کر کے یہ بات بتائی تھی کہ اس طرح ملایا): ”تمہاری امی کو غصہ آ گیا تھا۔“ جب آپ کھا کر فارغ ہوئے، تو آپ نے ایک صحیح پیالہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو بھجوایا اور ٹوٹا ہوا پیالہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو دیا، گویا فیصلہ یہ ہوا کہ جو شخص کوئی چیز توڑ دے گا، وہ اس کو ملے گی اور اس پر اسی کی مانند چیز کی ادائیگی لازم ہو گی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْوَصَايَا/حدیث: 4301]
ترقیم العلمیہ: 4223
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2481، 5225، وابن الجارود فى "المنتقى"، 1098، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3967، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 8853، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3567، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1359، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 2640، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2334،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4301، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12209، 13980،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 37435»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4224 ترقیم الرسالہ : -- 4302
نَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعْدَانَ ، نَا شُعَيْبُ بْنُ أَيُّوبَ ، نَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، نَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ:" وَإِذْ أَسَرَّ النَّبِيُّ إِلَى بَعْضِ أَزْوَاجِهِ حَدِيثًا سورة التحريم آية 3، قَالَ: اطَّلَعَتْ حَفْصَةُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَعَ أُمِّ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ السَّلامُ، فَقَالَ: لا تُخْبِرِي عَائِشَةَ، وَقَالَ لَهَا: إِنَّ أَبَاكِ وَأَبَاهَا سَيَمْلُكَانِ، أَوْ سَيَلِيَانِ بَعْدِي فَلا تُخْبِرِي عَائِشَةَ، فَانْطَلَقَتْ حَفْصَةُ فَأَخْبَرَتْ عَائِشَةَ فَأَظْهَرَهُ اللَّهُ عَلَيْهِ فَعَرَّفَ بَعْضَهُ وَأَعْرَضَ عَنْ بَعْضٍ، قَالَ: أَعْرَضَ عَنْ قَوْلِهِ: إِنَّ أَبَاكِ وَأَبَاهَا يَكُونَانِ بَعْدِي، كَرِهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَنْشُرَ ذَلِكَ فِي النَّاسِ فَأَعْرَضَ عَنْهُ" .
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں نقل کرتے ہیں: ”اور جب نبی نے اپنی کسی بیوی سے سرگوشی میں کوئی بات کہی۔“ وہ فرماتے ہیں: سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، آپ اس وقت سیدنا ابراہیم رضی اللہ عنہ کی والدہ (سیدہ ماریہ قبطیہ رضی اللہ عنہا) کے ساتھ موجود تھے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اس بارے میں عائشہ کو نہ بتانا۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ بھی فرمایا: ”تمہارے والد اور اس کے والد عنقریب حکمران بن جائیں گے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) میرے بعد حکومت کریں گے، تم عائشہ کو یہ بات نہ بتانا۔“ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا گئیں اور انہوں نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو یہ بات بتا دی تو اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بارے میں آگاہ کر دیا تو سمجھ بات بتا دی اور کچھ بات بیان نہیں کی، انہوں نے اس بارے میں یہ بات بیان کی: ”تمہارے والد اور اس کے والد میرے بعد (حکومت کریں گے)۔“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات اس لیے ناپسند ہوئی کہ یہ بات لوگوں میں پھیل نہ جائے، اسی لیے آپ نے یہ بات بیان نہیں کی۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْوَصَايَا/حدیث: 4302]
ترقیم العلمیہ: 4224
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4014، 4302، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 12640»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4225 ترقیم الرسالہ : -- 4303
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ زُنْبُورٍ ، نَا فُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ، عَنْ هِشَامٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" كَانُوا يَكْتُبُونَ فِي صُدُورِ وَصَايَاهُمْ: هَذَا مَا أَوْصَى فُلانُ بْنُ فُلانٍ، أَوْصَى أَنْ يَشْهَدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ، وَأَنَّ السَّاعَةَ آتِيَةٌ لا رَيْبَ فِيهَا، وَأَنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ مَنْ فِي الْقُبُورِ، وَأَوْصَى مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ مِنْ أَهْلِهِ أَنْ يَتَّقُوا اللَّهَ حَقَّ تُقَاتِهِ، وَأَنْ يُصْلِحُوا ذَاتَ بَيْنِهِمْ، وَيُطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ إِنَّ كَانُوا مُؤْمِنِينَ، وَأَوْصَاهُمْ بِمَا أَوْصَى بِهِ إِبْرَاهِيمُ بَنِيهِ وَيَعْقُوبُ يَا بَنِيَّ إِنَّ اللَّهَ اصْطَفَى لَكُمُ الدِّينَ فَلا تَمُوتُنَّ إِلا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُونَ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: پہلے لوگ اپنی وصیت کے آغاز میں یہ لکھوایا کرتے تھے: یہ وہ وصیت ہے، جو فلاں بن فلاں نے کی ہے، وہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہ ایک معبود ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خاص بندے اور اس کے رسول ہیں، قیامت آنے والی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں ہے اور اللہ تعالیٰ قبروں میں موجود سب لوگوں کو زندہ کرے گا۔ پھر وہ اپنے پس ماندگان کو یہ تلقین کرتا کہ وہ اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہیں اور آپس میں صلح سے کام لیں، اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کریں، اگر وہ ایمان رکھتے ہیں اور وہ ان کو یہ وصیت کر رہا ہے، جو سیدنا ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنے بیٹوں کو کی تھی کہ ”اے میرے بیٹو! بیشک اللہ تعالیٰ نے تمہارے لیے ایک دین کو اختیار کر لیا ہے، تو جب تم مرنے لگو، تو مسلمان ہونا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْوَصَايَا/حدیث: 4303]
ترقیم العلمیہ: 4225
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3227، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 326، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12806، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4303، والبزار فى ((مسنده)) برقم: 6720، 6735، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 16319»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں