🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (4836)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم العلمیہ سے تلاش کل احادیث (4750)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابُ وَقْفِ الْمَسَاجِدِ وَالسِّقَايَاتِ
مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
اظهار التشكيل
ترقیم العلمیہ : 4376 ترقیم الرسالہ : -- 4456
ثنا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ عُمَرَ الْوَكِيعِيُّ ، نَا شَيْبَانُ ، نَا أَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى ، نَا مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ يَحْيَى ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ فُلانٍ نَسِيَ شَيْبَانُ اسْمَهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" كُلُّ شَيْءٍ هُوَ لِي فَهُوَ صَدَقَةٌ، إِلا فَرَسِي وَسِلاحِي، قَالَ: وَكَانَتْ لَهُ أَرْضٌ فَقَبَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَهَا فِي الأَوْفَاضِ، أَوِ الأَوْقَاصِ، فَجَاءَ أَبَوَاهُ، فَقَالا: يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَطْعِمْنَا مِنْ صَدَقَةِ ابْنِنَا فَوَاللَّهِ مَا لَنَا شَيْءٌ وَإِنَّا لَنَطُوفُ مَعَ الأَوْفَاضِ، فَأَخَذَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَدَفَعَهَا إِلَيْهِمَا، فَمَاتَا فَوَرِثَهَا ابْنُهُمَا الَّذِي كَانَ تَصَدَّقَ بِهَا، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، صَدَقَتِي الَّتِي كُنْتُ تَصَدَّقْتُ بِهَا فَدَفَعْتَهَا إِلَى وَالِدَيَّ فَمَاتَا أَفَحَلالٌ هِيَ لِي؟، قَالَ: نَعَمْ، فَكُلْهَا هَنِيئًا مَرِيئًا" ، وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ. إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى، ضَعِيفٌ، وَلَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ، وَأَبُو أُمَيَّةَ بْنُ يَعْلَى مَتْرُوكٌ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ عبداللہ بن فلاں نامی صاحب (شعبان نامی راوی کو یہاں پہ لفظ بھول گیا ہے) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میری ہر چیز صدقہ ہے، سوائے میرے گھوڑے اور میرے ہتھیاروں کے۔ راوی بیان کرتے ہیں: ان کی کچھ زمین بھی تھی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ قبضے میں لے لی اور اسے اوقاف (یعنی مختلف لوگوں کے لیے مالی مدد کے طور پر) مقرر کر دیا۔ ان کے والدین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ہمیں ہمارے بیٹے کے صدقہ کیے ہوئے مال میں سے کچھ کھانے کے لیے دیں، اللہ کی قسم! ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی چیز نہیں ہے، ہم لوگ اوقاف کے چکر لگاتے ہیں۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس باغ کو لیا اور اسے ان دونوں کے حوالے کر دیا۔ پھر جب وہ دونوں فوت ہوئے، تو ان کے بیٹے اس کے وارث بنے، جنہوں نے اسے صدقہ کیا تھا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میں نے جو چیز صدقہ کی تھی اور جو آپ نے میرے والدین کو واپس کر دی تھی، تو اب ان دونوں کا انتقال ہو گیا ہے، کیا یہ میرے لیے حلال ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ہاں! تم خوش کر کے کھاؤ۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4456]
ترقیم العلمیہ: 4376
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4456، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
«مرسل إسحاق بن يحيى ضعيف الحديث ولم يدرك عبادة وأبو أمية بن يعلى متروك، سنن الدارقطني: (5 / 359) برقم: (4456)»

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں