سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
4. بَابُ وَقْفِ الْمَسَاجِدِ وَالسِّقَايَاتِ
مساجد اور پینے کے پانی کو وقف کرنا
ترقیم العلمیہ : 4366 ترقیم الرسالہ : -- 4446
نَا أَبُو صَالِحٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، نَا أَبُو مَسْعُودٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: لَمَّا حُصِرَ عُثْمَانُ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ مِنْ فَوْقِ دَارِهِ، فَقَالَ:" أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ أَلَمْ تَعَلَّمُوا أَنَّ حِرَاءَ حِينَ انْتَفَضَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اثْبُتْ حِرَاءُ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيُّ، أَوْ صِدِّيقٌ، أَوْ شَهِيدٌ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ أَتَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ، قَالَ: مَنْ يُنْفِقُ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً، وَالنَّاسُ مَجْهُودُونَ مُعْسِرُونَ فَجَهَّزْتُ ثُلُثَ ذَلِكَ الْجَيْشِ، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: أُذَكِّرُكُمْ بِاللَّهِ أَلَمْ تَعَلَّمُوا أَنَّ بِئْرَ رُومَةَ لَمْ يَكُنْ يَشْرَبُ مِنْهَا إِلا بِثَمَنٍ فَاشْتَرَيْتُهَا، ثُمَّ جَعَلْتُهَا لِلْغَنِيِّ، وَالْفَقِيرِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، قَالُوا: نَعَمْ فِي أَشْيَاءَ عَدَّدَهَا" .
ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو محصور کر دیا گیا، تو انہوں نے اپنے گھر کی چھت سے لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اللہ کی یاد دلاتا ہوں، کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے ہو کہ جب حرا پہاڑ ہلنے لگا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا تھا: ’اے حرا! اپنی جگہ پر رہو! تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے۔‘“ لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! تو سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں تمہیں اللہ کی یاد دلاتا ہوں، کیا تم لوگ یہ بات جانتے ہو کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کرنا شروع کیا تھا، تو آپ نے ارشاد فرمایا تھا: ’کون شخص ایسا خرچ کرے گا، جو قبول ہو گا۔‘ تو لوگ اس وقت تنگی کا شکار تھے، تو میں نے اس لشکر کو ایک تہائی سامان فراہم کیا تھا۔“ لوگوں نے جواب دیا: ایسا ہی ہے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں آپ کو اللہ کی یاد دلا کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ رومہ کنوئیں سے پانی صرف قیمت کے عوض میں پیا جا سکتا تھا، تو میں نے اسے خرید کر اسے ہر خوشحال، غریب اور مسافر کے لیے وقف کر دیا تھا۔“ تو ان لوگوں نے جواب دیا: جی ہاں! اس کے بعد سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے کچھ اور چیزوں کو بھی شمار کروایا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4446]
ترقیم العلمیہ: 4366
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2778، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2491، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6916، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1534، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3699، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12052، 12053، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4442، 4443، 4444، 4445، 4446، 4447، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 427»
«قال ابن حجر: جاء من طرق كثيرة شهيرة صحيحة، الإصابة في تمييز الصحابة: (7 / 102)»
«قال ابن حجر: جاء من طرق كثيرة شهيرة صحيحة، الإصابة في تمييز الصحابة: (7 / 102)»
ترقیم العلمیہ : 4367 ترقیم الرسالہ : -- 4447
نَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، وَأَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ ، قَالا: نَا الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا عَبْدَانُ ، نَا أَبِي ، نَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ السُّلَمِيِّ ، أَنَّ عُثْمَانَ حِينَ حُصِرَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ، فَقَالَ:" أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ، وَلا أَنْشُدُ إِلا أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ حَفَرَ بِئْرَ رُومَةَ فَلَهُ الْجَنَّةُ، فَحَفَرْتُهَا، أَلَسْتُمْ تَعْلَمُونَ أَنَّهُ عَلَيْهِ السَّلامُ، قَالَ: مَنْ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ فَلَهُ الْجَنَّةُ، فَجَهَّزْتُهُمْ، فَصَدَّقُوهُ، قَالَ: وَقَالَ: إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: مَنْ جَهَّزَ جَيْشَ الْعُسْرَةِ" .
ابوعبدالرحمن سلمی بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو محصور کر دیا گیا، تو انہوں نے لوگوں کی طرف جھانک کر دیکھا اور فرمایا: ”میں تم لوگوں کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں اور میں صرف نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو یہ واسطہ دیتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ’جو شخص رومہ کنوئیں کو کھدوائے گا (یعنی اسے وقف کر دے گا)، اسے جنت ملے گی۔‘ تو میں نے اسے کھدوایا تھا۔ کیا تم لوگ یہ بات نہیں جانتے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ’جو شخص غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کرے گا، اسے جنت ملے گی۔‘ میں نے اس کے لیے سامان فراہم کیا تھا۔“ تو ان لوگوں نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی اس بات کی تصدیق کی۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ”جو شخص غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کرے گا۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4447]
ترقیم العلمیہ: 4367
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2778، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2491، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6916، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1534، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3699، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12052، 12053، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4442، 4443، 4444، 4445، 4446، 4447، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 427»
«قال ابن حجر: جاء من طرق كثيرة شهيرة صحيحة، الإصابة في تمييز الصحابة: (7 / 102)»
«قال ابن حجر: جاء من طرق كثيرة شهيرة صحيحة، الإصابة في تمييز الصحابة: (7 / 102)»
ترقیم العلمیہ : 4368 ترقیم الرسالہ : -- 4448
نَا نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، نَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، نَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ عِيسَى بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ : فُرِغَ مِنْ أَرْبَعٍ: الْخَلْقِ، وَالْخُلُقِ، وَالرِّزْقِ، وَالأَجَلِ، فَلَيْسَ أَحَدٌ اكْتَسَبَ مِنْ أَحَدٍ، وَالصَّدَقَةُ جَائِزَةٌ قُبِضَتْ، أَوْ لَمْ تُقْبَضْ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ تعالیٰ چار چیزوں سے فارغ ہو چکا: انسان کی تخلیق، اس کے اخلاق، اس کا رزق اور اس کی موت۔ اب کسی شخص کے لیے کسی چیز کو حاصل کرنا ممکن نہیں رہا۔ صدقہ کرنا جائز ہے، خواہ اسے قبضے میں لیا گیا ہو یا قبضے میں نہ لیا گیا ہو۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4448]
ترقیم العلمیہ: 4368
تخریج الحدیث: «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12021، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4390، 4448، والطبراني فى((الكبير)) برقم: 8952، 8953، والطبراني فى ((الأوسط)) برقم: 1560، 7325»
ترقیم العلمیہ : 4369 ترقیم الرسالہ : -- 4449
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، وَيَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَاتِبُ ، قَالا: نَا أَبُو مُوسَى مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، نَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ ، أَنَّهُ تَصَدَّقَ بِحَائِطٍ لَهُ، فَأَتَى أَبَوَاهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالا: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّهَا كَانَتْ قَيِّمَ وُجُوهِنَا وَلَمْ يَكُنْ لَنَا مَالٌ غَيْرُهُ، فَدَعَا عَبْدَ اللَّهِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبِلَ مِنْكَ صَدَقَتَكَ، وَرُدَّهَا عَلَى أَبَوَيْكَ، قَالَ: فَتَوَارَثْنَاهَا بَعْدَ ذَلِكَ" ، هَذَا مُرْسَلٌ، بَشِيرُ بْنُ مُحَمَّدٍ لَمْ يُدْرِكْ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ. وَرَوَاهُ يَحْيَى الْقَطَّانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، فَبَيَّنَ إِرْسَالَهُ فِي رِوَايَتِهِ إِيَّاهُ.
بشیر بن محمد، سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنا باغ صدقہ کر دیا۔ ان کے والدین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اسی پر ہم لوگ گزارا کیا کرتے تھے، ہمارے پاس اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے صدقے کو قبول کر لیا ہے اور یہ تمہارے ماں باپ کو لوٹا دیا ہے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد ہم اس کے وارث بنے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4449]
ترقیم العلمیہ: 4369
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 348، 349، 350، 351، 352، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5491، 8111، 8112، 8113، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6279، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 251، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12031، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4449، 4450، 4451، 4452، 4453، 4454، 4455»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم العلمیہ : 4370 ترقیم الرسالہ : -- 4450
نَا أَبُو إِسْحَاقَ نَهْشَلُ بْنُ دَارِمٍ الْيَمَنِيُّ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّازُ ، قَالا: نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ . ح وَنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، وَيَعْقُوبُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْوَهَّابِ الدُّورِيُّ ، قَالا: نَا حَفْصُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالا: نَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي بَشِيرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ جَدَّهُ عَبْدَ اللَّهِ تَصَدَّقَ بِمَالٍ لَهُ لَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرُهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِعَبْدِ اللَّهِ:" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبِلَ مِنْكَ صَدَقَتَكَ، وَقَالَ حَفْصُ: قَدْ قَبِلَ اللَّهُ صَدَقَتَكَ وَرُدَّهَا عَلَى أَبَوَيْكَ، فَوَرِثَهُ عَبْدُ اللَّهِ بَعْدُ مِنْ أَبَوَيْهِ" ،.
بشیر بن محمد بیان کرتے ہیں کہ ان کے دادا سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے اپنا مال صدقہ کر دیا، ان کے پاس اس مال کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے تمہارے صدقے کو تمہاری طرف سے قبول کر لیا ہے۔“ یہاں پر الفاظ نقل کرنے میں راوی نے کچھ مختلف الفاظ نقل کیے ہیں (اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اور اسے تمہارے والدین کو لوٹا دیا ہے۔“ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4450]
ترقیم العلمیہ: 4370
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 348، 349، 350، 351، 352، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5491، 8111، 8112، 8113، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6279، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 251، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12031، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4449، 4450، 4451، 4452، 4453، 4454، 4455»
ترقیم العلمیہ : 4371 ترقیم الرسالہ : -- 4451
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ ثَابِتٍ ، نَا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ ، نَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، نَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ، تَصَدَّقَ بِمَالِهِ فَأَتَى أَبَوَاهُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اپنا مال صدقہ کر دیا، تو ان کے والدین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4451]
ترقیم العلمیہ: 4371
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 348، 349، 350، 351، 352، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5491، 8111، 8112، 8113، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6279، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 251، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12031، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4449، 4450، 4451، 4452، 4453، 4454، 4455»
ترقیم العلمیہ : 4372 ترقیم الرسالہ : -- 4452
نَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا يُونُسُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، نَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ ابْنِي أَبِي بَكْرٍ، وَعَمْرِو بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ حَازِمٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ ، جَاءَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ،" إِنَّ حَائِطِي هَذَا صَدَقَةٌ، وَهُوَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى وَرَسُولُهُ، فَجَاءَ أَبَوَاهُ، فَقَالا: يَا رَسُولَ اللَّهِ كَانَ قِوَامَ عَيْشِنَا، فَرَدَّهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَيْهِمَا، ثُمَّ مَاتَا فَوَرِثَهُمَا ابْنُهُمَا بَعْدَهُمَا" ، هَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ، لأَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ تُوُفِّيَ فِي خِلافَةِ عُثْمَانَ، وَلَمْ يُدْرِكْهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ حَزْمٍ.
سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! میرا یہ باغ صدقہ ہے، یہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے نام ہے۔“ تو ان کے والدین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ہمارا گزر بسر اس باغ پر ہوتا ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باغ ان دونوں کو واپس کر دیا، پھر جب ان دونوں کا انتقال ہوا، تو ان کی اولاد ان کے بعد اس کی وارث بنی۔ یہ روایت ”مرسل“ ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا تھا، ابوبکر بن حزم نامی راوی نے ان کا زمانہ نہیں پایا تھا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4452]
ترقیم العلمیہ: 4372
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 348، 349، 350، 351، 352، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5491، 8111، 8112، 8113، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6279، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 251، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12031، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4449، 4450، 4451، 4452، 4453، 4454، 4455»
«فيه إرسال، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 259)»
«فيه إرسال، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 259)»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم العلمیہ : 4373 ترقیم الرسالہ : -- 4453
. نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمْدَوَيْهِ الْمَرْوَزِيُّ ، نَا مَحْمُودُ بْنُ آدَمَ ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَمْرٍو ، سَمِعَ أَبَا بَكْرِ بْنَ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو ، يُحَدِّثُ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ، أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرَهُ نَحْوَهُ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: یہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ وہی ہیں، جنہیں خواب میں اذان دینے کا طریقہ دکھایا گیا تھا اور پھر یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4453]
ترقیم العلمیہ: 4373
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 348، 349، 350، 351، 352، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5491، 8111، 8112، 8113، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6279، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 251، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12031، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4449، 4450، 4451، 4452، 4453، 4454، 4455»
«فيه إرسال، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 259)»
«فيه إرسال، نصب الراية لأحاديث الهداية: (1 / 259)»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم العلمیہ : 4374 ترقیم الرسالہ : -- 4454
نَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ ، نَا مُعَاذُ بْنُ الْمُثَنَّى ، نَا أَبُو مُسْلِمٍ الْمُسْتَمْلِي ، نَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو ، وَيَحْيَى ، وَحُمَيْدٍ، سَمِعُوا أَبَا بَكْرٍ ، يُخْبِرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ رَبِّهِ الَّذِي أُرِيَ النِّدَاءَ، جَعَلَ حَائِطًا لَهُ صَدَقَةً، فَأَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" إِنِّي جَعَلْتُ حَائِطِي صَدَقَةً، وَهُوَ إِلَى اللَّهِ وَإِلَى رَسُولِهِ، فَجَاءَ أَبَوَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالا لَهُ: لَمْ يَكُنْ لَنَا عَيْشٌ إِلا هَذَا الْحَائِطُ، فَرَدَّهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى أَبَوَيْهِ، ثُمَّ مَاتَا فَوَرِثَهُمَا" ، وَهَذَا أَيْضًا مُرْسَلٌ.
عمرو بن سلیم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ، جنہیں خواب میں اذان دینے کا طریقہ سکھایا گیا تھا، انہوں نے اپنا ایک باغ صدقہ کر دیا۔ وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”میں نے اپنا یہ باغ صدقہ کر دیا ہے، یہ اللہ اور اس کے رسول کی نذر ہے۔“ پھر ان کے والدین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت اقدس میں حاضر ہوئے۔ ان دونوں نے عرض کی کہ ہمارا گزر بسر صرف اسی باغ پر ہوتا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ باغ ان کے والدین کو واپس کر دیا۔ پھر جب ان والدین کا انتقال ہوا، تو ان کے ورثا کو وہ مل گیا۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4454]
ترقیم العلمیہ: 4374
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 348، 349، 350، 351، 352، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5491، 8111، 8112، 8113، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6279، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 251، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12031، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4449، 4450، 4451، 4452، 4453، 4454، 4455»
«مرسل، سنن الدارقطني: (5 / 359) برقم: (4454)»
«مرسل، سنن الدارقطني: (5 / 359) برقم: (4454)»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم العلمیہ : 4375 ترقیم الرسالہ : -- 4455
نَا أَبُو سَهْلٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ بَشَّارٍ ، نَا ابْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرٍو ، وَحُمَيْدٍ ، وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، سَمِعُوا أَبَا بَكْرٍ ، يُخْبِرُ عَنْ عَمْرِو بْنِ سُلَيْمٍ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ زَيْدٍ جَعَلَ حَائِطَهُ صَدَقَةً، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي جَعَلْتُ حَائِطِي صَدَقَةً لآلِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ لآلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ.
عمرو بن سلیم بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن زید رضی اللہ عنہ نے اپنا باغ صدقہ کر دیا، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے عرض کی: ”میں اپنے اس باغ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نذر کرتا ہوں۔“ (راوی کو شک ہے کہ یہاں یہ لفظ نبی استعمال ہوا ہے یا شاید رسول استعمال ہوا ہے)۔ [سنن الدارقطني/ كِتَابُ الْأَحْبَاسِ/حدیث: 4455]
ترقیم العلمیہ: 4375
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 348، 349، 350، 351، 352، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5491، 8111، 8112، 8113، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6279، وسعيد بن منصور فى ((سننه)) برقم: 251، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12031، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4449، 4450، 4451، 4452، 4453، 4454، 4455»