سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. بَابُ ذَبْحِ الشَّاةِ الْمَغْصُوبَةِ
باب: شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
ترقیم العلمیہ : 4678 ترقیم الرسالہ : -- 4763
نَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدٍ الْوَكِيلُ ، نَا حُمَيْدُ بْنُ الرَّبِيعِ ، نَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنَ الأَنْصَارِ ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي جِنَازَةٍ فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَبْرِ، قَالَ: فَرَأَيْتُهُ يُوصِي الْحَافِرَ، قَالَ:" أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رَأْسِهِ، أَوْسِعْ مِنْ قِبَلِ رِجْلَيْهِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ تَلَقَّاهُ دَاعِي امْرَأَةٍ مِنْ قُرَيْشٍ، فَقَالَ: إِنَّ فُلانَةَ تَدْعُوكَ وَأَصْحَابَكَ، قَالَ: فَأَتَاهَا فَلَمَّا جَلَسَ الْقَوْمُ أُتِيَ بِالطَّعَامِ فَوَضَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدَهُ وَوَضَعَ الْقَوْمُ فَبَيْنَا هُوَ يَأْكُلُ إِذْ كَفَّ يَدَهُ، قَالَ: وَقَدْ كُنَّا جَلَسْنَا بِمَجَالِسِ الْغِلْمَانِ مِنْ آبَائِهِمْ، قَالَ: فَنَظَرَ آبَاؤُنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ تَلُوكُ أَكَلْتُهُ فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَضْرِبُ يَدَ ابْنِهِ حَتَّى يَرْمِيَ الْعِرْقَ مِنْ يَدِهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَجِدُ لَحْمَ شَاةٍ أُخِذَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا، قَالَ: فَأَرْسَلَتِ الْمَرْأَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّي كُنْتُ أَرْسَلْتُ إِلَى الْبَقِيعِ أَطْلُبُ شَاةً فَلَمْ أُصِبْ، فَبَلَغَنِي أَنَّ جَارًا لِي اشْتَرَى شَاةً فَأَرْسَلَتْ إِلَيْهِ فَنَهَى، فَلَمْ نَقْدِرُ عَلَيْهِ فَبَعَثَتْ بِهَا امْرَأَتُهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: أَطْعِمُوهَا الأُسَارَى" .
عاصم بن کلیب انصار سے تعلق رکھنے والے ایک فرد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک جنازے میں شریک ہوئے، ہم قبر تک آ گئے، میں نے توجہ کی تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم قبر کھودنے والے کو یہ ہدایت کر رہے تھے: ”سر اور پاؤں کی طرف سے قبر کو کھلا کر دو۔“ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے واپس تشریف لا رہے تھے تو قریش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کی طرف سے دعوت دینے والا فرد آپ کے سامنے آیا۔ اس نے عرض کی: فلاں خاتون نے آپ کو اور آپ کے ساتھیوں کو دعوت دی ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس خاتون کے ہاں تشریف لے گئے، جب سب لوگ بیٹھ گئے اور کھانا لایا گیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دست مبارک اس کی طرف بڑھایا، لوگوں نے بھی اپنے ہاتھ بڑھا دیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانا شروع کیا، اس دوران آپ نے اپنا ہاتھ روک لیا۔ راوی کہتے ہیں: ہم اس جگہ پر بیٹھے ہوئے تھے جہاں بچے اپنے والد کے ساتھ بیٹھتے ہیں۔ ہمارے والد نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کھائے ہوئے کو الٹ دیا ہے، تو ان سب افراد نے اپنے بچوں کے ہاتھ پر مار کے ان کے ہاتھ میں موجود بوٹیوں کو گرا دیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے یوں لگا ہے کہ اس بکری کا گوشت اس کے مالک کی اجازت کے بغیر لیا گیا ہے۔“ تو اس خاتون نے پیغام بھیجوا دیا: یا رسول اللہ! میں نے اپنی بکری تلاش کرنے کے لیے کسی شخص کو بقیع کی طرف بھیجا تھا، لیکن اسے وہ بکری نہیں مل سکی۔ مجھے پتا چلا کہ میرے ہمسائے نے بھی ایک بکری خریدی ہے، تو میں نے اسے پیغام بھیجا لیکن اس نے انکار کر دیا۔ ہم اسے حاصل نہیں کر سکے، پھر اس بکری کو اس شخص کی بیوی نے بھجوا دیا ہے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ قیدیوں کو کھلا دو۔“ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4763]
ترقیم العلمیہ: 4678
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3332، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6857،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4763، 4764، 4765، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22945»
ترقیم العلمیہ : 4679 ترقیم الرسالہ : -- 4764
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَحَامِلِيُّ ، وَحَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، قَالا: نَا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نَا جَرِيرٌ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ الْجَرْمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ مُزَيْنَةَ، قَالَ:" صَنَعَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ مِنْ قُرَيْشٍ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا فَدَعَتْهُ وَأَصْحَابَهُ، قَالَ: فَذَهَبَ بِي أَبِي مَعَهُ، قَالَ: فَجَلَسْنَا بَيْنَ يَدَيْ آبَائِنَا مَجَالِسَ الأَبْنَاءِ مِنْ آبَائِهِمْ، قَالَ: فَلَمْ يَأْكُلُوا حَتَّى رَأَوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ أَكَلَ، فَلَمَّا أَخَذَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لُقْمَتَهُ رَمَى بِهَا، ثُمَّ قَالَ: إِنِّي لأَجِدُ طَعْمَ لَحْمِ شَاةٍ ذُبِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ صَاحِبَتِهَا، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخِي، وَأَنَا مِنْ أَعَزِّ النَّاسِ عَلَيْهِ، وَلَوْ كَانَ خَيْرًا مِنْهَا لَمْ يُغَبِّرْ عَلَيَّ، وَعَلَيَّ أَنْ أَرْضِيَهُ بِأَفْضَلَ مِنْهَا، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهَا وَأَمَرَ بِالطَّعَامِ لِلأُسَارَى" ،.
عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے مزینہ قبیلے کے ایک صاحب کا یہ بیان نقل کرتے ہیں: قریش سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھانا تیار کیا، آپ کو اور آپ کے اصحاب کو دعوت دی۔ میرے والد بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ مجھے بھی ساتھ لے کر چلے گئے۔ ہم لوگ اپنے والد کے سامنے اسی طرح بیٹھ گئے جیسے بچے اپنے والد کے سامنے بیٹھتے ہیں۔ لوگوں نے اس وقت تک کھانا نہیں شروع کیا جب تک انہوں نے یہ نہیں دیکھ لیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کھانا شروع کر چکے ہیں۔ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لقمہ لیا تو پھر آپ نے اس کو پرے رکھ دیا اور فرمایا: ”مجھے اس بکری کے گوشت میں ایسی ذائقہ محسوس ہوا ہے جیسے یہ اپنے مالک کی اجازت کے بغیر ذبح کی گئی ہے۔“ اس خاتون نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہ میرے بھائی کی ہے اور میرا بھائی مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتا ہے، اگر اس سے زیادہ بہتر بکری موجود ہوتی تو اسے بھی ذبح کرنا ہمارے لیے دشوار نہ ہوتا۔ اب مجھ پر یہ بات لازم ہے کہ میں اس سے بہتر بکری اسے دے کر اسے راضی کر لوں گی۔ لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے کھانے سے انکار کر دیا اور آپ کے حکم کے تحت وہ کھانا قیدیوں کو کھلا دیا گیا۔ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4764]
ترقیم العلمیہ: 4679
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3332، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6857،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4763، 4764، 4765، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22945»
ترقیم العلمیہ : 4680 ترقیم الرسالہ : -- 4765
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ ، نَا ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ أَبِي وَأَنَا غُلامٌ، مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ نَحْوَهُ. وَقَالَ فِيهِ: قَالَتْ: فَبَعَثْتُ إِلَى أَخِي عَامِرِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ، وَقَدِ اشْتَرَى شَاةً مِنَ الْبَقِيعِ، فَلَمْ يَكُنْ أَخِي، ثَمَّ فَدَفَعَ أَهْلُهُ الشَّاةَ إِلَيَّ.
عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں کہ ایک انصاری نے مجھے یہ حدیث سنائی ہے: میں جب کم سن بچہ تھا تو میں اپنے والد کے ساتھ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ گیا، اس کے بعد انہوں نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں: اس خاتون نے کہا: میں نے اپنے بھائی عامر بن ابووقاص کی طرف پیغام بھیجا کیونکہ بقیع میں سے ایک بکری خریدی ہوئی تھی، لیکن میرا بھائی وہاں موجود نہیں تھا تو اس کی بیوی نے یہ بکری مجھے بھجوا دی۔ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4765]
ترقیم العلمیہ: 4680
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو داود فى ((سننه)) برقم: 3332، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6857،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4763، 4764، 4765، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 22945»
ترقیم العلمیہ : 4681 ترقیم الرسالہ : -- 4766
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ، نَا ابْنُ أَبِي خَيْثَمَةَ، نَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، نَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: قُلْتُ لأَبِي حَنِيفَةَ:" مِنْ أَيْنَ أَخَذْتَ هَذَا الرَّجُلُ يَعْمَلُ فِي مَالِ الرَّجُلِ بِغَيْرِ إِذْنِهِ إِنَّهُ يَتَصَدَّقُ بِالرِّبْحِ؟، قَالَ: أَخَذْتُهُ مِنْ حَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ" .
عبدالواحد بن زیاد بیان کرتے ہیں کہ میں نے امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ سے دریافت کیا: آپ نے یہ مسئلہ کہاں سے حاصل کیا ہے کہ ایک شخص دوسرے کے مال میں اس کی اجازت کے بغیر تصرف کر لیتا ہے، تو وہ منافع کو صدقہ کر دے گا؟ تو امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ نے فرمایا: میں نے اسے عاصم بن کلیب کی نقل کردہ حدیث سے حاصل کیا ہے۔ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4766]
ترقیم العلمیہ: 4681
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4766، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 4682 ترقیم الرسالہ : -- 4767
نَا أَبُو حَامِدٍ الْحَضْرَمِي ، نَا بُنْدَار نَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِي ٍّ نَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ حَدَّثَنِي الْحَسَنُ بْنُ جَابِر ٍ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِب قَالَ:" حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَشْيَاءَ يَوْمَ خَيْبَرَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يُوشِكُ الرَّجُلُ يَتَّكِئُ عَلَى أَرِيكَتِهِ يُحَدِّثُ بِحَدِيثِي، فَيَقُولُ: بَيْنِي وَبَيْنَكُمْ كِتَابُ اللَّهِ فَمَا وَجَدْنَا فِيهِ حَلالا اسْتَحْلَلْنَاهُ، وَمَا كَانَ فِيهِ حَرَامًا حَرَّمْنَاهُ، وَإِنَّ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا حَرَّمَ اللَّهُ" .
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن کچھ چیزوں کو حرام قرار دیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عنقریب وہ وقت آئے گا جب کوئی شخص اپنے تکیے کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھے گا اور میری حدیث بیان کرے گا اور کہے گا: میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب کا حکم کافی ہے، ہمیں اس میں جو چیز حلال ملے گی ہم اسے حلال سمجھیں گے اور اس میں جو چیز حرام ملے گی ہم اسے حرام قرار دیں گے۔“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”اللہ کا رسول جس چیز کو حرام قرار دے وہ اسی طرح ہے جیسے وہ چیز ہوتی ہے، جسے اللہ تعالیٰ نے حرام قرار دیا ہو۔“ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4767]
ترقیم العلمیہ: 4682
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 12، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 370، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3804، 4604، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2664، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 606، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 12، 3193، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4767، 4768، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17447، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 24816»
«حديث صحيح، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (3 / 43)»
«حديث صحيح، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (3 / 43)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 4683 ترقیم الرسالہ : -- 4768
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ النُّعْمَانِيُّ ، نَا أَبُو عُتْبَةَ أَحْمَدُ بْنُ الْفَرَجِ ، نَا بَقِيَّةُ ، نَا الزُّبَيْدِيُّ ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ رُؤْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَوْفٍ الْجُرَشِيِّ ، عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنِّي قَدْ أُوتِيتُ الْكِتَابَ وَمَا يَعْدِلُهُ، يُوشِكُ شَبْعَانُ عَلَى أَرِيكَتِهِ، يَقُولُ: بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْكِتَابُ فَمَا كَانَ فِيهِ مِنْ حَلالٍ أَحْلَلْنَاهُ، وَمَا كَانَ فِيهِ مِنْ حَرَامٍ حَرَّمْنَاهُ وَإِنَّهُ لَيْسَ كَذَلِكَ، لا يَحِلُّ أَكْلُ كُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ، وَلا الْحِمَارِ الأَهْلِيِّ، وَلا اللُّقَطَةِ مِنْ مَالِ مُعَاهَدٍ إِلا أَنْ يَسْتَغْنِيَ عَنْهَا، وَأَيُّمَا رَجُلٍ ضَافَ قَوْمًا فَلَمْ يَقْرُوهُ، فَإِنَّ لَهُ أَنْ يُغْصِبَهُمْ بِمِثْلِ قِرَاهُ".
سیدنا مقدام بن معدی کرب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھے کتاب بھی عطا کی گئی اور وہ چیز بھی عطا کی گئی ہے جو اس کی مانند ہے (یعنی سنت عطا کی گئی ہے)۔ عنقریب وہ وقت آئے گا جب کوئی بھرے ہوئے پیٹ والا شخص اپنے بستر کے ساتھ ٹیک لگا کر یہ کہے گا: ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی کتاب موجود ہے، اس میں جو چیز حلال ہو گی ہم اسے حلال سمجھیں گے اور جو چیز اس میں حرام ہو گی ہم اسے حرام قرار دیں گے۔“ (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:) ”ایسا نہیں ہے، کسی بھی نوکیلے دانت والے درندے کو کھانا یا پالتو گدھے کو کھانا، معاہد شخص کی گری ہوئی چیز کو اٹھانا جائز نہیں ہے، البتہ اگر وہ کوئی ایسی چیز ہو جس کی ضرورت نہ ہو، تو حکم مختلف ہو گا۔ جو شخص کسی قوم کا مہمان بنا ہو اور وہ لوگ اس کی مہمان نوازی نہیں کرتے تو اسے اس بات کا حق حاصل ہو گا کہ وہ اپنی ضرورت کے مطابق ان سے خوراک زبردستی حاصل کرے۔“ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4768]
ترقیم العلمیہ: 4683
تخریج الحدیث: «صحيح، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 12، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 370، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3804، 4604، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 2664، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 606، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 12، 3193، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4767، 4768، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17447، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 24816»
«حديث صحيح، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (3 / 43)»
«حديث صحيح، تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي: (3 / 43)»
الحكم على الحديث: صحيح
ترقیم العلمیہ : 4684 ترقیم الرسالہ : -- 4769
حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَطَّانُ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ الْوَاقِدِيُّ ، نَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِي كَرِبَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْخَيْلِ، وَالْبِغَالِ، وَالْحُمُرِ، وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السَّبُعِ، أَوْ مِخْلَبٍ مِنَ الطَّيْرِ" .
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن گھوڑے، خچر، گدھے، نوکیلے دانت والے درندے (راوی کو پھر شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) نوکیلے ناخنوں والے پرندے کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4769]
ترقیم العلمیہ: 4684
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5328، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4344، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4824، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3198، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4769، 4770، 4772، 4773، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17091»
«قال ابن حجر: حديث خالد لا يصح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 278)»
«قال ابن حجر: حديث خالد لا يصح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 278)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 4685 ترقیم الرسالہ : -- 4770
نَا عَبْدُ الْغَافِرِ بْنُ سَلامَةَ الْحِمْصِيُّ ، نَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ الْحِمْصِيُّ ، نَا بَقِيَّةُ بْنُ الْوَلِيدِ ، نَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ ، قَالَ:" نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ لُحُومِ الْخَيْلِ، وَالْبِغَالِ، وَالْحَمِيرِ، وَكُلِّ ذِي نَابٍ مِنَ السِّبَاعِ" ،.
سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے دن گھوڑے، خچر، گدھے، نوکیلے دانت والے درندے کا گوشت کھانے سے منع کر دیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4770]
ترقیم العلمیہ: 4685
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5328، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4344، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4824، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3198، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4769، 4770، 4772، 4773، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17091»
«قال ابن حجر: حديث خالد لا يصح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 278)»
«قال ابن حجر: حديث خالد لا يصح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 278)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم العلمیہ : 4686 ترقیم الرسالہ : -- 4771
نَا أَبُو سَهْلِ بْنُ زِيَادٍ، قَالَ: سَمِعْتُ مُوسَى بْنَ هَارُونَ، يَقُولُ: لا يُعْرَفُ صَالِحُ بْنُ يَحْيَى، وَلا أَبُوهُ إِلا بِجَدِّهِ، وَهَذَا حَدِيثٌ ضَعِيفٌ، وَزَعَمَ الْوَاقِدِيُّ، أَنَّ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ أَسْلَمَ بَعْدَ فَتْحِ خَيْبَرَ.
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے تاہم یہ روایت ضعیف ہے کیونکہ واقدی نے یہ بات بیان کی ہے کہ سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فتح خیبر کے بعد اسلام قبول کیا تھا۔ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4771]
ترقیم العلمیہ: 4686
تخریج الحدیث: «أخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4771، انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم العلمیہ : 4687 ترقیم الرسالہ : -- 4772
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَافِرِ بْنُ سَلامَةَ ، نَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ الْمِقْدَامَ ، يَقُولُ: أَقَمْتُ أَنَا وَبِضْعَةَ عَشَرَ رَجُلا مِنْ قَوْمِي يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاثَةً لَمْ نَذُقْ طَعَامًا، وَقَدْ رَبَطُوا بُرْذُونَةً لِيَذْبَحُوهَا، فَأَتَيْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَأَعْلَمْتُهُ الَّذِي كَانَ مِنَّا فِي أَمْرِ الْبِرْذُونَةِ، فَقَالَ:" لَوْ ذَبَحُوهَا لَسُؤْتُكَ، ثُمَّ قَالَ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ أَمْوَالَ الْمُعَاهَدِينَ، وَحُمُرَ الإِنْسِ، وَخَيْلَهَا وَبِغَالَهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِمُدَّيْنِ أَوْ مُدٍّ مِنْ طَعَامٍ" ، الشَّكُّ مِنْ يَحْيَى، وَقَالَ: إِذَا أَتَتْنَا سَرِيَّةٌ فَاطَّلَعْنَا، لَمْ يَذْكُرْ أَبَاهُ.
یحییٰ بن مقدام بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دادا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: ایک مرتبہ میں اور میرے قبیلے کے دس یا شاید اس سے کچھ زیادہ افراد، دو یا تین دن تک کھانا نہیں کھا سکے تھے، انہوں نے ذبح کرنے کے لیے گھوڑا باندھا ہوا تھا، میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ گھوڑے کے بارے میں ہمارا کیا ارادہ ہے، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ لوگ اسے ذبح کر دیتے تو برا کرتے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر ذمیوں کے اموال، گدھوں، گھوڑوں اور خچروں کے گوشت کو حرام قرار دیا تھا۔ پھر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو اناج کے دو یا شاید ایک مد دینے کا حکم دیا، اور فرمایا کہ جب ہمیں کوئی مہم درپیش ہوئی، تو ہم اطلاع کر دیں گے۔ [سنن الدارقطني/ الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَالْأَطْعِمَةِ وَغَيْرِ ذَلِكَ/حدیث: 4772]
ترقیم العلمیہ: 4687
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5328، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4344، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4824، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3198، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4769، 4770، 4772، 4773، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17091»
«قال ابن حجر: حديث خالد لا يصح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 278)»
«قال ابن حجر: حديث خالد لا يصح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 278)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف