سنن الدارقطني سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم الرسالہ
ترقیم العلمیہ
اردو
3. باب ذبح الشاة المغصوبة
باب: شکار ‘ ذبیحہ ‘ کھانوں وغیرہ کا بیان
ترقیم العلمیہ : 4687 ترقیم الرسالہ : -- 4772
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْغَافِرِ بْنُ سَلامَةَ ، نَا يَحْيَى بْنُ عُثْمَانَ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حِمْيَرَ ، حَدَّثَنِي ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ يَحْيَى بْنِ الْمِقْدَامِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَدَّهُ الْمِقْدَامَ ، يَقُولُ: أَقَمْتُ أَنَا وَبِضْعَةَ عَشَرَ رَجُلا مِنْ قَوْمِي يَوْمَيْنِ أَوْ ثَلاثَةً لَمْ نَذُقْ طَعَامًا، وَقَدْ رَبَطُوا بُرْذُونَةً لِيَذْبَحُوهَا، فَأَتَيْتُ خَالِدَ بْنَ الْوَلِيدِ فَأَعْلَمْتُهُ الَّذِي كَانَ مِنَّا فِي أَمْرِ الْبِرْذُونَةِ، فَقَالَ:" لَوْ ذَبَحُوهَا لَسُؤْتُكَ، ثُمَّ قَالَ: حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ أَمْوَالَ الْمُعَاهَدِينَ، وَحُمُرَ الإِنْسِ، وَخَيْلَهَا وَبِغَالَهَا، ثُمَّ أَمَرَ بِمُدَّيْنِ أَوْ مُدٍّ مِنْ طَعَامٍ" ، الشَّكُّ مِنْ يَحْيَى، وَقَالَ: إِذَا أَتَتْنَا سَرِيَّةٌ فَاطَّلَعْنَا، لَمْ يَذْكُرْ أَبَاهُ.
یحییٰ بن مقدام بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے دادا کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے: ایک مرتبہ میں اور میرے قبیلے کے دس یا شاید اس سے کچھ زیادہ افراد، دو یا تین دن تک کھانا نہیں کھا سکے تھے، انہوں نے ذبح کرنے کے لیے گھوڑا باندھا ہوا تھا، میں سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور انہیں بتایا کہ گھوڑے کے بارے میں ہمارا کیا ارادہ ہے، تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اگر وہ لوگ اسے ذبح کر دیتے تو برا کرتے، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر ذمیوں کے اموال، گدھوں، گھوڑوں اور خچروں کے گوشت کو حرام قرار دیا تھا۔ پھر سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے ان لوگوں کو اناج کے دو یا شاید ایک مد دینے کا حکم دیا، اور فرمایا کہ جب ہمیں کوئی مہم درپیش ہوئی، تو ہم اطلاع کر دیں گے۔ [سنن الدارقطني/ الصيد والذبائح والأطعمة وغير ذلك/حدیث: 4772]
ترقیم العلمیہ: 4687
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 5328، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 4344، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 4824، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 3198، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4769، 4770، 4772، 4773، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17091»
«قال ابن حجر: حديث خالد لا يصح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 278)»
«قال ابن حجر: حديث خالد لا يصح، التلخيص الحبير في تخريج أحاديث الرافعي الكبير: (4 / 278)»
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
الرواة الحديث:
المقدام بن معدي كرب الكندي ← خالد بن الوليد المخزومي