🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. باب فَضِيلَةِ الإِمَامِ الْعَادِلِ وَعُقُوبَةِ الْجَائِرِ وَالْحَثِّ عَلَى الرِّفْقِ بِالرَّعِيَّةِ وَالنَّهْيِ عَنْ إِدْخَالِ الْمَشَقَّةِ عَلَيْهِمْ:
باب: حاکم عادل کی فضیلت اور حاکم ظالم کی برائی۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 142 ترقیم شاملہ: -- 4731
وحَدَّثَنَا أَبُو غَسَّانَ الْمِسْمَعِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قَالَ إِسْحَاقُ أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرَانِ حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ : أَنَّ عُبَيْدَ اللَّهِ بْنَ زِيَادٍ دَخَلَ عَلَى مَعْقِلِ بْنِ يَسَارٍ فِي مَرَضِهِ، فَقَالَ لَهُ مَعْقِلٌ : " إِنِّي مُحَدِّثُكَ بِحَدِيثٍ لَوْلَا أَنِّي فِي الْمَوْتِ لَمْ أُحَدِّثْكَ بِهِ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: مَا مِنْ أَمِيرٍ يَلِي أَمْرَ الْمُسْلِمِينَ ثُمَّ لَا يَجْهَدُ لَهُمْ وَيَنْصَحُ، إِلَّا لَمْ يَدْخُلْ مَعَهُمُ الْجَنَّةَ "،
ابوملیح سے روایت ہے کہ عبیداللہ بن زیاد، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کے پاس گیا، حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے کہا: میں تم کو ایک حدیث بیان کرنے لگا ہوں اور اگر میں مرض الموت میں نہ ہوتا تو تمہیں یہ حدیث نہ سناتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: کوئی امیر نہیں جو مسلمانوں کے امور کا ذمہ دار ہو، پھر ان کے لیے جدوجہد اور خیرخواہی نہ کرے، مگر وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4731]
ابو ملیح بیان کرتے ہیں کہ عبیداللہ بن زیاد، حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ کی بیماری میں ان کے پاس گیا، تو حضرت معقل رضی اللہ عنہ نے اسے کہا: میں تمہیں ایک حدیث سنانے لگا ہوں، اگر میں موت کی کیفیت سے دوچار نہ ہوتا تو تمہیں نہ سناتا، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا: جو امیر بھی مسلمانوں کے معاملات کا ذمہ دار بنتا ہے، پھر وہ ان کے نفع کے لیے کوشش نہیں کرتا اور ان کی خیرخواہی نہیں کرتا، تو وہ ان کے ساتھ جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4731]
ترقیم فوادعبدالباقی: 142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 142 ترقیم شاملہ: -- 4732
وحَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ الْعَمِّيُّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِسْحَاقَ ، أَخْبَرَنِي سَوَادَةُ بْنُ أَبِي الْأَسْوَدِ ، حَدَّثَنِي أَبِي أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ مَرِضَ، فَأَتَاهُ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ زِيَادٍ يَعُودُهُ نَحْوَ حَدِيثِ الْحَسَنِ، عَنْ مَعْقِلٍ.
سوادہ بن ابواسود نے خبر دی کہ میرے والد نے مجھے حدیث بیان کی کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے تو عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لیے گیا۔ (آگے) حسن بصری کی حضرت معقل رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث کی طرح ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4732]
سوادہ بن ابی الاسود اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ حضرت معقل بن یسار رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے، تو عبیداللہ بن زیاد ان کی عیادت کے لیے گیا، آگے حسن بصری کی طرح حضرت معقل رضی اللہ عنہ کی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4732]
ترقیم فوادعبدالباقی: 142
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1830 ترقیم شاملہ: -- 4733
حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ ، أَنَّ عَائِذَ بْنَ عَمْرٍو ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، دَخَلَ عَلَى عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ زِيَادٍ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ، فَإِيَّاكَ أَنْ تَكُونَ مِنْهُمْ، فَقَالَ لَهُ: اجْلِسْ، فَإِنَّمَا أَنْتَ مِنْ نُخَالَةِ أَصْحَابِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: وَهَلْ كَانَتْ لَهُمْ نُخَالَةٌ؟، إِنَّمَا كَانَتِ النُّخَالَةُ بَعْدَهُمْ وَفِي غَيْرِهِمْ ".
حسن بصری رحمہ اللہ نے بتایا کہ عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ اور وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے تھے، عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور فرمایا: میرے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: بدترین راعی، سخت گیر اور ظلم کرنے والا ہوتا ہے، تم اس سے بچنا کہ تم ان میں سے ہو۔ اس نے کہا: آپ بیٹھیے: آپ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے چھلنی میں بچ جانے والے آخری حصے کی طرح ہیں۔ (آخر میں چونکہ تنکے، پتھر، بھوسی بچ جاتے ہیں، اس لیے) انہوں نے کہا: کیا ان میں بھوسی، تنکے، پتھر تھے؟ یہ تو ان کے بعد ہوئے اور ان کے علاوہ دوسروں میں ہوئے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4733]
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں میں سے ہیں، عبیداللہ بن زیاد کے پاس گئے اور کہا: اے بیٹے! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے: «إِنَّ شَرَّ الرِّعَاءِ الْحُطَمَةُ» بدترین (نگران) سخت گیر ہے، تو ان میں سے ہونے سے بچاؤ کر۔ تو اس نے جواب دیا: بیٹھیے، تم تو بس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھیوں کا چھان بورا ہو، تو حضرت عائذ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا ان میں چھان بورا بھی تھا؟ چھان بورا تو ان کے بعد اور دوسروں میں پیدا ہوا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الْإِمَارَةِ/حدیث: 4733]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1830
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں