الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
48. باب وُجُوبِ الصَّلَاةِ عَلَى النَّبِيِّ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر درود بھیجنے کے وجوب کا بیان
حدیث نمبر: 5704
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا تَتَّخِذُوا قَبْرِي عِيدًا وَلَا تَجْعَلُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا وَحَيْثُمَا كُنْتُمْ فَصَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ تَبْلُغُنِي
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہ میری قبر کو عید بناؤ اور نہ اپنے گھروں کو قبرستان بناؤ اور تم جہاں کہیں بھی ہو، مجھ پر درود پڑھا کرو، کیونکہ تمہارا درود مجھ تک پہنچ جاتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5704]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه ابوداود: 2042، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8804 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8790»
وضاحت: فوائد: … ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {اِنَّ اللّٰہَ وَمَلٰٓئِکَتَہٗ یُصَلُّوْنَ عَلَی النَّبِیِّ ٰٓیاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَیْہِ وَسَلِّمُوْا تَسْلِیْمًا۔} … بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی پر صلوٰۃ بھیجتے ہیں، اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اس پر صلوٰۃ بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا۔ (سورۂ احزاب: ۵۶)
الحكم على الحديث:
اسناده حسن
حدیث نمبر: 5705
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّهَا زَكَاةٌ لَكُمْ وَاسْأَلُوا اللَّهَ لِيَ الْوَسِيلَةَ فَإِنَّهَا دَرَجَةٌ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ لَا يَنَالُهَا إِلَّا رَجُلٌ وَأَرْجُو أَنْ أَكُونَ أَنَا هُوَ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھ پر درود بھیجا کرو، کیونکہ یہ تمہارے لیے باعث ِ طہارت ہے، اور اللہ تعالیٰ سے میرے لیے وسیلے کا سوال کیا کرو، یہ جنت کا سب سے بلند درجہ ہے، صرف ایک آدمی اس تک پہنچ سکے گا اور میں امید کرتا ہوںکہ وہ میں ہی ہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْأَذْكَارِ وَالدَّعَوَاتِ/حدیث: 5705]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شريك القاضي سييء الحفظ، وليث بن ابي سليم ضعيف، كعب مجھول، أخرجه الترمذي: 3612، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8770 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8755»
وضاحت: فوائد: … اس موضوع سے متعلقہ صحیح احادیث، اس روایت سے مستغنی کر دیتی ہیں۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف