الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ إِقْطَاعِ الأَرَاضِي
الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 6174
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَ الزُّبَيْرَ حُضْرَ فَرْسِهِ بِأَرْضٍ يُقَالُ لَهَا ثُرَيْرٌ فَأَجْرَى الْفَرَسَ حَتَّى قَامَ ثُمَّ رَمَى بِسَوْطِهِ فَقَالَ أَعْطُوهُ حَيْثُ بَلَغَ السَّوْطُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ثریر نامی زمین سے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کو اتنی جگہ الاٹ کر دی، جہاں تک ان کا گھوڑا دوڑ سکے، پس انھوں نے گھوڑا دوڑایا،یہاں تک کہ جب وہ کھڑا ہو گیا تو انھوں نے اپنا کوڑا پھینک دیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کو اتنی جگہ دے دو، جہاں تک اس کا کوڑا پہنچا ہے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6174]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عبد الله العمري۔ أخرجه ابوداود: 3072، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6458 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6458»
وضاحت: فوائد: … سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کہتی ہیں: میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی اس زمین سے اپنے سر پر گٹھلیاں لاتی تھی، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو الاٹ کی تھی، وہ مجھ سے دو تہائی فرسخ کے فاصلے پر تھی۔ (صحیح بخاری: ۳۱۵۱، ۵۲۲۴)
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 6175
عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَقْطَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا فَذَهَبَ الزُّبَيْرُ إِلَى آلِ عُمَرَ فَاشْتَرَى نَصِيبَهُ فَأَتَى عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ فَقَالَ إِنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ عَوْفٍ زَعَمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ وَعُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَرْضَ كَذَا وَكَذَا وَإِنِّي اشْتَرَيْتُ نَصِيبَ آلِ عُمَرَ فَقَالَ عُثْمَانُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ جَائِزُ الشَّهَادَةِ لَهُ وَعَلَيْهِ
۔ سیدنا عروہ بن زبیر رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو فلاں فلاں زمین بطور جاگیر دی، پھر سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ،آلِ عمر کے پاس گئے اور ان کا حصہ خرید کر سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہا: سیدنا عبد الرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کا خیال ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو فلاں فلاں زمین بطور جاگیر دی تھی اور میں نے آل عمر کا حصہ خرید لیا ہے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: سیدنا عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سچی شہادت والے ہیں، وہ ان کے حق میں ہے یا ان کی مخالفت میں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6175]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات الا ان في سماع عروة من عبد الرحمن بن عوف وقفة۔ أخرجه البيھقي: 10/ 124، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1670 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1670»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6176
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَعَا الْأَنْصَارَ لِيُقْطِعَ لَهُمُ الْبَحْرَيْنِ فَقَالُوا لَا حَتَّى تُقْطِعَ لِإِخْوَانِنَا الْمُهَاجِرِينَ مِثْلَنَا فَقَالَ إِنَّكُمْ سَتَلْقَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً فَاصْبِرُوا حَتَّى تَلْقَوْنِي
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انصار کو بلایا تاکہ بحرین کی زمین ان کو الاٹ کر دیں، لیکن انہوں نے کہا: جی نہیں، (ہم اس وقت تک یہ زمین نہیں لیں گے) جب تک آپ ہمارے مہاجر بھائیوں کو اسی طرح کی جاگیر نہیں دیں گے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک تم میرے بعد اپنے آپ پر ترجیح کو پاؤ گے، پس صبر کرنا، یہاں تک کہ مجھ سے ملاقات ہو جائے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6176]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2376، 3794، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12084 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12109»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6177
عَنْ كُلْثُومٍ عَنْ زَيْنَبَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَرَّثَ النِّسَاءَ خِطَطَهُنَّ
۔ سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے عورتوں کو ان کے گھروں کا وارث بنایا تھا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6177]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وانظر الحديث الآتي، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27049 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27589»
وضاحت: فوائد: … اگلی حدیث میں قدرے تفصیل بیان کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6178
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ كَانَتْ زَيْنَبُ تَفْلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَعْظُونٍ وَنِسَاءٌ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ يَشْكُونَ مَنَازِلَهُنَّ وَأَنَّهُنَّ يُخْرَجْنَ مِنْهُ وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِنَّ فِيهِ فَتَكَلَّمَتْ زَيْنَبُ وَتَرَكَتْ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّكِ لَسْتِ تَكَلَّمِينَ بِعَيْنَيْكِ تَكَلَّمِي وَاعْمَلِي عَمَلَكِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ يُوَرَّثَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ النِّسَاءُ فَمَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَوَرِثَتْهُ امْرَأَتُهُ دَارًا بِالْمَدِينَةِ
۔ (دوسری سند)کلثوم کہتی ہیں: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جوئیں نکال رہی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی اور کچھ مہاجر خواتین بیٹھی ہوئی تھیں،یہ اپنے گھروں کے بارے میں شکایت کر رہی تھیں کہ (خاوند کی وفات کے بعد) ان کو گھروں سے نکال دیا جاتا ہے اور ان پر تنگی کر دی جاتی ہے، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک چھوڑ کر بات کرنے لگ گئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اپنی آنکھوں سے تو باتیں نہیں کرنی، بات بھی کرو اور اپنا کام بھی کرو۔ (یہ ساری باتیں سن کر) اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ عورتوں کو (ان کے مہاجر خاوندوں) کا وارث بنا یا جائے، پس جب سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان کی اہلیہ ان کے مدینہ والے گھر کی وارث بنیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6178]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27050 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27590»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب خاوند فوت ہو جائے تو اس کے ورثاء کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس کی بیوی کو اس کے گھر سے نکال دیں، بلکہ ان پر یہ لازم ہے کہ وہ اس کے لیے اس کے گھر کو خالی کر دیں، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم مہاجرین کے ساتھ خاص تھا اور ان کے ختم ہونے کے ساتھ یہ حکم بھی ختم ہو گیا، واللہ اعلم۔ اب میراث کے احکام مرتّب ہو چکنے کے بعد بیوی کو اس کا مخصوص حصہ دیا جائے گا، لیکن اس معاملے میں اس کو جتنی سہولت پہنچائی جا سکتی ہو، وہ پہنچانی چاہیے، مثلا اگر اس کا حصہ اس کے خاوند کے گھر کی قیمت کے برابر ہو تو اس کو گھر دے دیا جائے، بہرحال جتنا ممکن ہو ترکہ کی تقسیم میں بیوی کی رضامندی کا خیال رکھا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6179
عَنْ عَلْقَمَةَ بْنِ وَائِلٍ عَنْ أَبِيهِ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَقْطَعَهُ أَرْضًا قَالَ فَأَرْسَلَ مَعِيَ مُعَاوِيَةَ أَنْ أَعْطِيهَا إِيَّاهُ أَوْ قَالَ أَعْلِمْهَا إِيَّاهُ قَالَ فَقَالَ لِي مُعَاوِيَةُ أَرْدِفْنِي خَلْفَكَ فَقُلْتُ لَا تَكُونُ مِنْ أَرْدَافِ الْمُلُوكِ قَالَ فَقَالَ أَعْطِنِي نَعْلَكَ فَقُلْتُ انْتَعِلْ ظِلَّ النَّاقَةِ قَالَ فَلَمَّا اسْتُخْلِفَ مُعَاوِيَةُ أَتَيْتُهُ فَأَقْعَدَنِي مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ فَذَكَّرَنِي الْحَدِيثَ فَقَالَ سِمَاكٌ أَحَدُ الرُّوَاةِ فَقَالَ وَدِدْتُ أَنِّي كُنْتُ حَمَلْتُهُ بَيْنَ يَدَيَّ
۔ سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک زمین الاٹ دی اور سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو ان کے ساتھ بھیجا کہ وہ مجھے یہ زمین دے سکیں یا اس کی نشاندہی کر سکیں۔ سیدنا وائل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے کہا: مجھے اپنے پیچھے سوار کر لو، لیکن میں نے کہا: اے معاویہ! آپ بادشاہوں کے پیچھے سوار ہونے والوں (یا ان کے نائب بننے والوں میں سے) نہیں ہیں۔ انھوں نے کہا: تو پھر مجھے اپنا جوتا دے دو (تاکہ میں زمین کی شدت سے بچ سکوں)، میں نے کہا: اونٹنی کے سائے میں چل لو۔ پھر جب سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ خلیفہ منتخب ہوئے اورمیں ان کے پاس گیا تو انہوں نے مجھے اپنے ساتھ تخت پر بٹھایا اور مجھے یہ بات یاد کرا دی، میں نے کہا: اب تو میں یہ پسند کر رہا ہوں کہ کاش آپ کو اپنے سامنے بٹھا لیتا۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6179]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3059، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27239 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27781»
وضاحت: فوائد: … سیدنا وائل رضی اللہ عنہ حمیر کے شہزادے تھے اور اس وقت سیدنا امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کی مالی حالت درست نہ تھی، آداب اسلامی سے نا آشنائی اور تعلیمات دین سے عدم واقفیت کی بناء پر سیدنا وائل رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ یہ سلوک کیا تھا، انسانی ہمدردی اور حسن سلوک کا تقاضا کچھ اور تھا، جبکہ بعد میں ان کو احساس بھی ہو گیا تھا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6180
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَامَلَ أَهْلَ خَيْبَرَ بِشَطْرِ مَا خَرَجَ مِنْ زَرْعٍ أَوْ تَمْرٍ فَكَانَ يُعْطِي أَزْوَاجَهُ كُلَّ عَامٍ مِائَةَ وَسْقٍ ثَمَانِينَ وَسْقًا مِنْ تَمْرٍ وَعِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ شَعِيرٍ فَلَمَّا قَامَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ قَسَمَ خَيْبَرَ فَخَيَّرَ أَزْوَاجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُقْطِعَ لَهُنَّ مِنَ الْأَرْضِ أَوْ يَضْمَنَ لَهُنَّ الْوُسُوقَ كُلَّ عَامٍ فَاخْتَلَفْنَ فَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ أَنْ يُقْطِعَ لَهَا الْأَرْضَ وَمِنْهُنَّ مَنِ اخْتَارَ الْوُسُوقَ وَكَانَتْ حَفْصَةُ وَعَائِشَةُ مِمَّنِ اخْتَارَ الْوُسُوقَ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اہل خیبر سے کھیتی یا پھل کی نصف پیداوار پر معاملہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہر سال اپنی بیویوں کو اسی وسق کھجوروں کے اور بیس وسق جو، یعنی کل سو وسق دیا کرتے تھے، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے اور خیبر کو تقسیم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ازواج مطہرات کو یہ اختیار دیا کہ ان کے لیے زمین الاٹ کر دی جائے یا (سابقہ روٹین کے مطابق) ہر سال ان کو وسق دے دیئے جائیں، امہات المؤمنین نے مختلف انداز اختیار کیے، بعض نے اس چیز کو پسند کیا کہ زمین ان کے نام الاٹ کر دی جائے اور بعض نے اس چیز کو ترجیح دی کہ ان کو وسق ہی دے دئیے جائیں، سیدہ حفصہ اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہما ان میں سے تھیں، جنھوں نے وسق پسند کیے تھے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6180]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2328، ومسلم: 1551، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4732 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4732»
وضاحت: فوائد: … یہ کھجوریں ازواج مطہرات کی میراث نہیں تھیں، ان کی کفالت کے لیے ان کو یہ حق دیا گیا تھا، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی چھوڑی ہوئی چیزیں صدقہ ہوتی ہیں۔ ان احادیث سے معلوم ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ بعض زمینیں بعض لوگوں کو الاٹ کر سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح