Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. باب إقطاع الأراضي
الاٹ کی ہوئی زمینوں اور چراگاہوں کے مسائل زمینیں الاٹ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6178
وَعَنْهَا مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ قَالَتْ كَانَتْ زَيْنَبُ تَفْلِي رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعِنْدَهُ امْرَأَةُ عُثْمَانَ بْنِ مَعْظُونٍ وَنِسَاءٌ مِنَ الْمُهَاجِرَاتِ يَشْكُونَ مَنَازِلَهُنَّ وَأَنَّهُنَّ يُخْرَجْنَ مِنْهُ وَيُضَيَّقُ عَلَيْهِنَّ فِيهِ فَتَكَلَّمَتْ زَيْنَبُ وَتَرَكَتْ رَأْسَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّكِ لَسْتِ تَكَلَّمِينَ بِعَيْنَيْكِ تَكَلَّمِي وَاعْمَلِي عَمَلَكِ فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ يَوْمَئِذٍ أَنْ يُوَرَّثَ مِنَ الْمُهَاجِرِينَ النِّسَاءُ فَمَاتَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْعُودٍ فَوَرِثَتْهُ امْرَأَتُهُ دَارًا بِالْمَدِينَةِ
۔ (دوسری سند)کلثوم کہتی ہیں: سیدہ زینب رضی اللہ عنہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جوئیں نکال رہی تھیں اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس سیدنا عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ کی بیوی اور کچھ مہاجر خواتین بیٹھی ہوئی تھیں،یہ اپنے گھروں کے بارے میں شکایت کر رہی تھیں کہ (خاوند کی وفات کے بعد) ان کو گھروں سے نکال دیا جاتا ہے اور ان پر تنگی کر دی جاتی ہے، سیدہ زینب رضی اللہ عنہا بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر مبارک چھوڑ کر بات کرنے لگ گئیں، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: تم نے اپنی آنکھوں سے تو باتیں نہیں کرنی، بات بھی کرو اور اپنا کام بھی کرو۔ (یہ ساری باتیں سن کر) اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حکم دیا کہ عورتوں کو (ان کے مہاجر خاوندوں) کا وارث بنا یا جائے، پس جب سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فوت ہوئے تو ان کی اہلیہ ان کے مدینہ والے گھر کی وارث بنیں۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6178]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابوداود: 3080، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27050 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27590»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ جب خاوند فوت ہو جائے تو اس کے ورثاء کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ وہ اس کی بیوی کو اس کے گھر سے نکال دیں، بلکہ ان پر یہ لازم ہے کہ وہ اس کے لیے اس کے گھر کو خالی کر دیں، ایسے معلوم ہوتا ہے کہ یہ حکم مہاجرین کے ساتھ خاص تھا اور ان کے ختم ہونے کے ساتھ یہ حکم بھی ختم ہو گیا، واللہ اعلم۔ اب میراث کے احکام مرتّب ہو چکنے کے بعد بیوی کو اس کا مخصوص حصہ دیا جائے گا، لیکن اس معاملے میں اس کو جتنی سہولت پہنچائی جا سکتی ہو، وہ پہنچانی چاہیے، مثلا اگر اس کا حصہ اس کے خاوند کے گھر کی قیمت کے برابر ہو تو اس کو گھر دے دیا جائے، بہرحال جتنا ممکن ہو ترکہ کی تقسیم میں بیوی کی رضامندی کا خیال رکھا جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح