Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. باب النهي عَنْ جِدِهِ وَهَزْلِهِ وَوَعِيدِ مَنِ اخْتَصَبَ مَالَ أخيه
جان بوجھ کر اور از راہِ مذاق غصب کی ممانعت اور مسلمان بھائی کا مال غصب کرنے کی وعید کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6186
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ السَّائِبِ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَأْخُذَنَّ أَحَدُكُمْ مَتَاعَ صَاحِبِهِ جَادًّا وَلَا لَاعِبًا وَإِذَا وَجَدَ وَفِي لَفْظٍ وَإِذَا أَخَذَ أَحَدُكُمْ عَصَا صَاحِبِهِ فَلْيَرُدَّهَا عَلَيْهِ
۔ عبد اللہ بن سائب اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی نہ حقیقت میں اپنے ساتھی کا سامان لے اور نہ مذاق کرتے ہوئے، اگر کوئی شخص اپنے بھائی کی چھڑی اٹھا لے تو وہ اسے واپس کر دے۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6186]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه ابوداود: 5003، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18942 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18106»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6187
عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ الضَّمْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ شَهِدْتُ خُطْبَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِمِنًى فَكَانَ فِيمَا خَطَبَ بِهِ أَنْ قَالَ وَلَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ إِلَّا مَا طَابَتْ بِهِ نَفْسُهُ قَالَ فَلَمَّا سَمِعْتُ ذَلِكَ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَرَأَيْتَ لَوْ لَقِيتُ غَنَمَ ابْنِ عَمِّي فَأَخَذْتُ مِنْهَا شَاةً فَاجْتَزَرْتُهَا هَلْ عَلَيَّ فِي ذَلِكَ شَيْءٌ قَالَ إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً تَحْمِلُ شَفْرَةً وَأَزْنَادًا فَلَا تَمَسَّهَا
۔ سیدنا عمرو بن یثربی ضمری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں منیٰ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے خطبہ میں موجود تھا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جو خطبہ دیا، اس میں یہ بھی فرمایا: کسی آدمی کے لئے اس کے بھائی کا مال حلال نہیں ہے، مگر وہ جو وہ خوشدلی سے دے دے۔ یہ سن کر میں نے عرض کی: اے اللہ کے رسول! آپ اس چیز کی وضاحت فرمادیں کہ میں اپنے بھتیجے کی بکریاں دیکھتا ہوں اور ان میں سے ایک پکڑ کر ذبح کر لیتا ہوں‘ کیایہ میرے لئے بوجھ ہوگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو بھیڑ بکری کو اس حال میں پاتا ہے کہ وہ چھری اور چقماق اٹھائے ہوئے ہو، پھر بھی اسے ہاتھ تک نہ لگانا۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6187]
تخریج الحدیث: «شطره الاول صحيح لغيره، وھذا اسناده ضعيف، عماره بن حارثة الضمري انفرد بالرواية عنه عبد الرحمن بن ابي سعيد، وقد سقط من اسناد محمد بن عباد وذكره غيره، ولم يؤثر توثيقه عن غير ابن حبان۔ أخرجه الدارقطني: 3/ 26، والطحاوي في ’’شرح المعاني‘‘: 4/ 241، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21082 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21397»
وضاحت: فوائد: … آخری جملے کا مفہوم ہے کہ اگر بکری کے ساتھ ذبح کرنے کے آلات اور پھر اس کو بھوننے کا ساز و سا مان بھی موجود ہو تو پھر بھی تم اس کو نہیں لے سکتے۔ یہ عدمِ جواز میں مبالغہ ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6188
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) بِمِثْلِهِ وَفِيهِ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَهُ إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً تَحْمِلُ شَفْرَةً وَزِنَادًا بِخَبْتِ الْجَمِيشِ فَلَا تُهِجْهَا قَالَ يَعْنِي بِخَبْتِ الْجَمِيشِ أَرْضًا بَيْنَ مَكَّةَ وَالْجَارِ أَرْضٌ لَيْسَ بِهَا أَنِيسٌ
۔ ایک روایت میں ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تو بکری کو اس حال میں پائے کہ وہ چھری اور چقماق اٹھائے ہوئے ہو اور ہو بھی خبت الجمیش علاقے میں (جو مکہ اور جار کے درمیان بے نبات اور پست و کشادہ زمین ہے اور وہاں کوئی مانوس چیز بھی نہیں ہے، پھر بھی تو اسے ہاتھ نہیں لگا سکتا)۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6188]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21397»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا مفہوم یہ ہے کہ وہ بکری کسی صورت میں تیرے لیے جائز نہیں ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6189
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِغَيْرِ حَقٍّ لَقِيَ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَهُوَ عَلَيْهِ غَضْبَانُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے بغیر حق کے مسلمان آدمی کے مال پر قبضہ کر لیا، وہ اللہ تعالی کو اس حال میں ملے گا کہ وہ اس پر ناراض ہو گا۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6189]
تخریج الحدیث: «أخرجه بنحوه البخاري: 2416، 2417، 2666، ومسلم: 138، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3946 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3946»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6190
عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِامْرِئٍ أَنْ يَأْخُذَ مَالَ أَخِيهِ بِغَيْرِ حَقِّهِ وَذَلِكَ لِمَا حَرَّمَ اللَّهُ مَالَ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ قَالَ أَبِي وَقَالَ عُبَيْدُ بْنُ أَبِي قُرَّةَ ثَنَا سُلَيْمَانُ حَدَّثَنِي سُهَيْلٌ حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَعْدٍ عَنْ أَبِي حُمَيْدٍ السَّاعِدِيِّ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ أَنْ يَأْخُذَ عَصَا أَخِيهِ بِغَيْرِ طِيبِ نَفْسٍ وَذَلِكَ لِشِدَّةِ مَا حَرَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَالَ الْمُسْلِمِ عَلَى الْمُسْلِمِ
۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کا مال ناحق طریقے سے لے۔ اس فرمان کی وجہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ایک مسلمان پر دوسرے مسلمان کا مال حرام قرار دیا ہے۔ سیدنا ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ دوسری روایت بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی آدمی کے لئے حلال نہیں ہے کہ وہ اپنے بھائی کی لاٹھی اس کی رضامندی کے بغیر لے۔ اس ارشاد کی وجہ یہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سختی سے ایک مسلمان کے مال کو دوسرے مسلمان پر حرام قرار دیا ہے۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6190]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه البزار: 3717، وابن حبان: 5978، والبيھقي: 9/ 358، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23605 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24003»
وضاحت: فوائد: … ارشاد ربانی ہے: {وَلَا تَاْکُلُوْا اَمْوَالَکُمْ بَیْنَکُمْ بِالْبَاطِلِ} … اپنے مالوں کو آپس میں باطل طریقے سے مت کھائو۔ (سورۂ بقرہ: ۱۸۸)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6191
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَحِلُّ لِأَحَدٍ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ يَحُلَّ صِرَارَ نَاقَةٍ بِغَيْرِ إِذْنِ أَهْلِهَا فَإِنَّهُ خَاتِمُهُمْ عَلَيْهَا فَإِذَا كُنْتُمْ بِقَفْرٍ فَرَأَيْتُمُ الْوَطْبَ أَوِ الرَّاوِيَةَ أَوِ السِّقَاءَ مِنَ اللَّبَنِ فَنَادُوا أَصْحَابَ الْإِبِلِ ثَلَاثًا فَإِنْ سَقَاكُمْ فَاشْرَبُوا وَإِلَّا فَلَا وَإِنْ كُنْتُمْ مُرْمَلِينَ وَلَمْ يَكُنْ مَعَكُمْ طَعَامٌ فَلْيُمْسِكْهُ رَجُلَانِ مِنْكُمْ ثُمَّ اشْرَبُوا
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص اللہ تعالیٰ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو، اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ مالکوں کی اجازت کے بغیر کسی اونٹنی کا دودھ بند کھولے، کیونکہ یہ اس جانور کے دودھ پر مہر کی حیثیت رکھتا ہے اور جب تم بے آباد جگہ میں ہو اور تم وہاں کوئی دودھ بھری مشک پاؤ تو وہاں اونٹ والوں کوتین مرتبہ آواز دو، اگر اس کا مالک تمہیں پینے کی اجازت دے تو پی لو، وگرنہ نہیں،اور اگر تم محتاج ہو اور تمہارے ساتھ کھانا نہ ہو تو تم میں سے دو آدمی اس کو پکڑ کر رکھیں اور پھر تم پی لو۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6191]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف شريك النخعي۔ أخرجه مختصرا البيھقي: 9/ 360، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11419 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11439»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مالکوںکی اجازت کے بغیر مویشیوں کا دودھ دوہنے سے منع فرمایا ہے۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم)

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6192
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا لَا تُحْتَلَبَنَّ مَاشِيَةُ امْرِئٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُوتَى مَشْرَبَتُهُ فَيُكْسَرَ بَابُهَا ثُمَّ يُنْتَثَلَ مَا فِيهَا فَإِنَّ مَا فِي ضُرُوعِ مَوَاشِيهِمْ طَعَامُ أَحَدِهِمْ أَلَا فَلَا تُحْلَبَنَّ مَاشِيَةُ امْرِئٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ أَوْ قَالَ بِأَمْرِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! کسی کے مویشی اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے جائیں، کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ کوئی تمہارے بالاخانے میں آئے اور اس کا دروازہ توڑ کر اس کے اندر والی چیزیں لے جائے، اسی طرح ہی مویشیوں کے تھنوں میں جوکچھ ہے، وہ ان کے مالکوں کا کھانا ہے، خبردار! کسی کے مویشی اس کی اجازت یا حکم کے بغیر نہ دوہے جائیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6192]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1726، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4505»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6193
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَرْمَلْنَا وَأَنْفَضْنَا فَأَتَيْنَا عَلَى إِبِلٍ مَصْرُورَةٍ بِلِحَاءِ الشَّجَرِ وَابْتَدَرَهَا الْقَوْمُ لِيَحْلِبُوهَا فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ هَذِهِ عَسَى أَنْ يَكُونَ فِيهَا قُوتُ أَهْلِ بَيْتٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ أَتُحِبُّونَ لَوْ أَنَّهُمْ أَتَوْا عَلَى مَا فِي أَزْوَادِكُمْ فَأَخَذُوهُ ثُمَّ قَالَ إِنْ كُنْتُمْ لَا بُدَّ فَاعِلِينَ فَاشْرَبُوا وَلَا تَحْمِلُوا
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے رایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے،ہوا یوں کہ ہمارا زادِ راہ ختم ہوگیا اور ہم محتاج ہو گئے، اتنے میں ہمارا گزر ایسی اونٹنیوں کے پاس سے ہواکہ جن کے تھن درخت کے چھلکوں سے بندھے ہوئے تھے، لوگ ان کو دوہنے کے لیے ان کی طرف لپکے، لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان سے فرمایا: ہوسکتا ہے کہ یہ مسلمانوں میں سے کسی خاندان کی خوراک ہو، بھلا کیا تم یہ پسند کرو گے کہ یہ لوگ آ کر تمہارے زاد راہ لے جائیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے لیے کوئی اور چارۂ کار نہیں ہے تو پھر یہیں پیلو اور اپنے ساتھ اٹھا کر نہ لے جاؤ۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6193]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره۔ أخرجه ابن ماجه: 2303، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9252 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9241»
وضاحت: فوائد: … اس باب سے متعلقہ مزید درج ذیل احادیث پر غور کریں:
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((اِذَا اَتٰی اَحَدُکُمْ حَائِطًا فَاَرَادَ اَنْ یَّاْکُلَ فَلْیُنَادِ: یَا صَاحِبَ الْحَائِطِ، ثَلَاثًا، فَاِنْ اَجَابَہٗ،وَاِلَّافَلْیَأْکُلْ، وَاِذَا مَرَّ اَحَدُکُمْ بِاِبِلٍ، فَأَرَادَ اَنْ یَّشْرَبَ مِنْ اَلْبَانِھَا فَلْیُنَادِ: یَا صَاحِبَ الْاِبِلِ، یَا رَاعِیَ الْاِبِلِ، فَاِنْ اَجَابَہٗ،وَاِلَّافَلْیَشْرَبْ۔)) … جب تم میں سے کوئی آدمی کسی باغ میں آئے اور وہاں سے کچھ کھانا چاہے تو وہ تین دفعہ آواز دے: اے باغ والے، اگر وہ اس کو جواب دے دے تو ٹھیک، وگرنہ وہ وہاں سے کھا لے، اسی طرح اگر کوئی آدمی اونٹوں کے پاس سے گزرے اور ان کا دودھ پینا چاہے تو وہ آواز دے: اے اونٹوں والے! اے اونٹوں کے چرواہے! اگر جواب آ جائے تو ٹھیک، وگرنہ وہ دودھ پی لے۔ (مسند احمد: ۳/ ۸)
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب کوئی آدمی کسی کے جانوروں کے پاس سے گزرے، اگر ان کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دے دے تو دودھ دوہ کر پی لے اور اگر ان میں کوئی آدمی موجود نہ ہو تو وہ تین بار آواز دے، اگر کوئی آدمی جواب دے تو اجازت طلب کرلے اور اگر کوئی جواب نہ دے تو وہ دودھ دوہ کر پی لے، لیکن ساتھ اٹھا کر نہ لے جائے۔ (ابوداود: ۲۶۱۹، ترمذی: ۱۲۹۶)
سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، اس کا ایک حصہ یہ ہے: آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پھلوں کے بارے میں اور ان کھجوروں کے بارے میں سوال کیا گیا، جو شاخوں سے اتار لی جاتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ((مَنْ اَخَذَ بَفَمِہٖ،وَلَمْیَتَّخِذْ خُبْنَۃً فَلَیْسَ عَلَیْہِ شَیْئٌ، وَمَنِ احْتَمَلَ فَعَلَیْہِ ثَمَنُہٗمَرَّتَیْنِ وَ ضَرْبًا وَنَکَالًا۔)) … جس نے وہیں کچھ کھا لیا اور کپڑے میں اٹھا کر نہیں لے گیا، تو اس پر کوئی حرج نہیں ہو گی اور جو پھل اٹھا کر لے گیا تو اس کو اس کا دو گنا جرمانہ ادا کرنا ہو گا اور اس کو زد و کوب بھی کیا جائے گا۔ (ابو داود: ۱۷۱۰، نسائی: ۸/ ۸۵)
اس طرح اس موضوع سے متعلقہ یہ مختلف احادیث ہیں، اس باب کی احادیث سے پتہ چلا کہ مسلمان کے مال کی بڑی حرمت ہے اور بغیر اجازت کے اس کو چھیڑا نہیں جا سکتا، اس معاملے میں چھوٹی اور بڑی چیز میں کوئی فرق نہیں ہے، لیکن فوائد میں مذکورہ تین احادیث سے پتہ چلتا ہے کہ مالک کی اجازت کے بغیر باغ کا پھل کھایا جا سکتا ہے اور مویشیوں کا دودھ دوہا جا سکتا ہے۔ تو گزارش یہ ہے کہ اصل قانون تو یہی ہے کہ ایک مسلمان کا مال اس کی اجازت کے بغیر دوسرے پر حرام ہے، لیکن احادیث ِ مبارکہ کی روشنی میں جس جس چیز کو مستثنی کیا جائے گا، اس کا جواز ملتا جائے گا اور ان شرعی قوانین کی روشنی میں مالک کو بھی دوسرے مسلمان کا یہ حق تسلیم کرنا پڑے گا، آپ خود غور کریں کہ جب پھل کو کھلیان میں جمع کر دیا جائے تو کسی مسلمان کو مالک کی اجازت کے بغیر وہاں سے کچھ بھی لینے کی اجازت نہیں ہے، لیکن اگر ابھی تک پھل باغ میں ہے تو محتاج کو وہاں سے کھا لینے کی اجازت ہے، لیکن ساتھ اٹھا کر لے جانے کی اجازت نہیں ہے، اسی قسم کا معاملہ مویشیوں کا ہے کہ کسی جانور کو ذبح نہیں کیا جا سکتا ہے، البتہ محتاج کو تین بار آواز دینے کے بعد یہ حق حاصل ہے کہ وہ دودھ دوہ کر پی لے، لیکن اٹھا کر ساتھ نہ لے جائے۔ مسلمانوں کی سخت حاجات و ضروریات کے پیش نظر شریعت ِ مطہرہ نے مذکورہ بالا صورتوں میں اجازت کے بغیر دوسرے مسلمان کا مال لینے کی اجازت دی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں