الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب النهي عن جده وهزله ووعيد من اختصب مال أخيه
جان بوجھ کر اور از راہِ مذاق غصب کی ممانعت اور مسلمان بھائی کا مال غصب کرنے کی وعید کا بیان
حدیث نمبر: 6192
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَلَا لَا تُحْتَلَبَنَّ مَاشِيَةُ امْرِئٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ تُوتَى مَشْرَبَتُهُ فَيُكْسَرَ بَابُهَا ثُمَّ يُنْتَثَلَ مَا فِيهَا فَإِنَّ مَا فِي ضُرُوعِ مَوَاشِيهِمْ طَعَامُ أَحَدِهِمْ أَلَا فَلَا تُحْلَبَنَّ مَاشِيَةُ امْرِئٍ إِلَّا بِإِذْنِهِ أَوْ قَالَ بِأَمْرِهِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! کسی کے مویشی اس کی اجازت کے بغیر نہ دوہے جائیں، کیا تم یہ پسند کرتے ہو کہ کوئی تمہارے بالاخانے میں آئے اور اس کا دروازہ توڑ کر اس کے اندر والی چیزیں لے جائے، اسی طرح ہی مویشیوں کے تھنوں میں جوکچھ ہے، وہ ان کے مالکوں کا کھانا ہے، خبردار! کسی کے مویشی اس کی اجازت یا حکم کے بغیر نہ دوہے جائیں۔ [الفتح الربانی/مسائل الغصب/حدیث: 6192]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1726، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4505 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4505»
الحكم على الحديث: صحیح