Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

1. بَابٌ جَامِعٌ لَآدَابِ النُّقْطَةِ وَأَحْكَامِهَا
گری پڑی چیز کے آداب و احکام کا جامع بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6232
عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ الْجُهَنِيِّ عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ رَاعِي الْغَنَمِ قَالَ هِيَ لَكَ أَوْ لِلذِّئْبِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي ضَالَّةِ رَاعِي الْإِبِلِ قَالَ وَمَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا سِقَاؤُهَا وَحِذَاؤُهَا وَتَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا تَقُولُ فِي الْوَرِقِ إِذَا وَجَدْتُهَا قَالَ اعْلَمْ وِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ أَوِ اسْتَمْتِعْ بِهَا أَوْ نَحْوَ هَذَا
۔ سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے یا کسی آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ بکری کے بارے میں سوال کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تیرے لیے ہے، یا پھر بھیڑیے کے لیے۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! گم شدہ اونٹ کے بارے میں آپ کیا فرمائیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس سے تیرا کیا تعلق ہے، اس کا پینا اور جوتا اس کے پاس ہے اور وہ درختوں سے چرتا رہے گا (یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا)۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر مجھے گم شدہ چاندی مل جائے تو اس کے بارے میں آپ کا کیا حکم ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی، بندھن اور اس کی تعداد کو معلوم کر لے اور ایک سال تک اس کا اعلان کرتا رہ، اگر اس کا مالک آجائے تو اسے دے دے، وگرنہ وہ تیری ہو گی،یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ وگرنہ تو اس سے فائدہ اٹھا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6232]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5292، ومسلم: 1722، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17037 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17163»
وضاحت: فوائد: … ۱۷۰۴۶ میں بحث

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6233
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) قَالَ جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلُقْطَةٍ فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً فَذَكَرَ نَحْوَ مَا تَقَدَّمَ
۔ (دوسری سند) سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے ہی مروی ہے کہ ایک دیہاتی گری پڑی ایک چیز لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ پھر اوپر والی حدیث کی طرح کی روایت بیان کی۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6233]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17186»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6234
وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَالِثٍ سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ فَغَضِبَ وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ وَقَالَ مَا لَكَ وَلَهَا مَعَهَا الْحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ تَرِدُ الْمَاءَ وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ حَتَّى يَجِيءَ رَبُّهَا وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ فَقَالَ خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ وَسُئِلَ عَنِ اللُّقْطَةِ فَقَالَ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً فَإِنِ اعْتُرِفَتْ وَإِلَّا فَخَالِطْهَا بِمَالِكَ
۔ (تیسری سند) سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کے بارے میں سوال کیا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم غصے میں آ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے رخسار سرخ ہوگئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تیرا اس کے ساتھ کیا تعلق ہے، اس کے ساتھ ہی اس کا جوتا اور پینا موجود ہے، وہ پانی پر وارد ہوتا رہے گا اور درختوں سے چرتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ بکری کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اسے پکڑ لو، کیونکہ وہ صرف تیرے لیے ہو گی،یا تیرے بھائی کے لیے،یا بھیڑیئے کے لیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی دوسری گری پڑی چیز کے بارے میں سوال کیا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی تھیلی اور بندھن کی شناخت کر لے، پھر ایک سال تک اس کا اعلان کر، اگر مالک کا پتہ چل جائے تو ٹھیک، وگرنہ اسے اپنے مال میں شامل کرلے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6234]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17176»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6235
عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَجُلًا مِنْ مُزَيْنَةَ يَسْأَلُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ جِئْتُ أَسْأَلُكَ عَنِ الضَّالَّةِ مِنَ الْإِبِلِ قَالَ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا تَأْكُلُ الشَّجَرَ وَتَرِدُ الْمَاءَ فَدَعْهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا قَالَ الضَّالَةُ مِنَ الْغَنَمِ قَالَ لَكَ أَوْ لِأَخِيكَ أَوْ لِلذِّئْبِ تَجْمَعُهَا حَتَّى يَأْتِيَهَا بَاغِيهَا قَالَ الْحَرِيسَةُ الَّتِي تُوجَدُ فِي مَرَاتِعِهَا قَالَ بِهَا ثَمَنُهَا مَرَّتَيْنِ وَضَرْبُ نَكَالٍ وَمَا أُخِذَ مِنْ عَطَنِهِ فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فَالثِّمَارُ وَمَا أُخِذَ مِنْهَا فِي أَكْمَامِهَا قَالَ مَنْ أَخَذَ بِفَمِهِ وَلَمْ يَتَّخِذْ خُبْنَةً فَلَيْسَ عَلَيْهِ شَيْءٌ وَمَنِ احْتَمَلَ عَلَيْهِ ثَمَنُهُ مَرَّتَيْنِ وَضَرْبًا وَنَكَالًا وَمَا أَخَذَ مِنْ أَجْرَانِهِ فَفِيهِ الْقَطْعُ إِذَا بَلَغَ مَا يُؤْخَذُ مِنْ ذَلِكَ ثَمَنَ الْمِجَنِّ قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَاللُّقْطَةُ نَجِدُهَا فِي سَبِيلِ الْعَامِرَةِ قَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا فَإِنْ وَجَدَ بَاغِيهَا فَأَدِّهَا إِلَيْهِ وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ قَالَ مَا يُؤْخَذُ فِي الْخَرِبِ الْعَادِيِّ قَالَ فِيهِ وَفِي الرِّكَازِ الْخُمُسُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سوال کرتے ہوئے کہا: اے اللہ کے رسول! میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ اونٹ کا حکم دریافت کرنے کے لیے آیا ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: چونکہ اس کا جوتا اور مشکیزہ اس کے پاس موجود ہے، پس وہ درختوں سے چرتا رہے گا اور پانی پیتا رہے گا، یہاں تک کہ اس کا مالک اس کو پا لے گا، اس لیے تو اس کو چھوڑ دے۔ اس نے کہا: گم شدہ بکری کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہ تیرے لیے ہے یا تیرے بھائی کے لیے ہے یا پھر بھیڑیئے کے لیے، اس لیے اس کو اپنے پاس رکھ لے، یہاں تک کہ اس کا تلاش کرنے والا آ جائے۔ اس نے کہا: اس بکری کا کیا حکم ہے، جس کو چراگاہ سے چرا لیا گیا ہو؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس کی دوگنا قیمت لی جائے گی اور اس کے ساتھ ساتھ سزا بھی دی جائے گی اور جو چیز اونٹوں کے باڑے سے چرا لی جائے اور اس کی قیمت ڈھال کی قیمت کے برابر ہو تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! پھل کے متعلق کیا حکم ہے، نیز جو پھل شگوفوں سے ہی کھا لیا جائے، اس کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے وہیں (باغ میں) کھا لیا اور کپڑے میں اٹھا کر نہ لے گیا، تو اس پر کوئی حرج نہیں ہو گا، لیکن جو آدمی پھل اٹھا کر لے گیا، اسے اس کی دو گنا قیمت ادا کرنا ہو گی اور اس کو سزا بھی دی جائے گی، لیکن جو چیز (کھلیانوں جیسے) محفوظ مقامات سے اٹھا لی جائے گی اور وہ ڈھال کی قیمت کے برابر ہو گی تو اس میں ہاتھ کاٹا جائے گا۔ اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! شارع عام میں گری پڑی چیز کا کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کر، اگر اس کو تلاش کرنے والا مالک مل جائے تو اس کو دے دے، وگرنہ وہ تیری ہو جائے گی۔ اس نے کہا:جو چیز ویران ہو جانے والے قدیم مقام سے ملے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس میں اور رکاز میں پانچواں حصہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6235]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 1710، والنسائي: 8/ 85، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6683 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6683»
وضاحت: فوائد: … اونٹ کے پاس اس کا جوتا اور مشکیزہ موجود ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دور دور تک چل سکتا ہے اور کئی دنوں تک پانی پئے بغیر زندہ رہ سکتا ہے۔
ویران ہو جانے والا قدیم مقام اس سے مراد وہ جگہ ہے، جو کبھی آباد ہوا کرتی تھی، لیکن اب وہ ویران ہو گئی ہے اور وہاں سے ملنے والی چیز کے مالک کو نہیں پہنچایا جا سکتا۔
ان احادیث ِ مبارکہ سے معلوم ہوا کہ گری پڑی چیز کا ایک سال تک اعلان کیا جائے گا، اگر مالک مل گیا تو ٹھیک، بصورت ِ دیگر وہ بندہ استعمال کر لے گا، لیکن اصل مالک کا حق برقرار رہے گا، جس دن اس سے ملاقات ہو گئی، وہ چیز اس کو واپس کرنا پڑے گی۔ اگلے باب میں تین برسوں کا ذکر ہے، جمع و تطبیق کے لیے اگلا باب ملاحظہ کریں۔ آخری حدیث میں مذکورہ دوسرے احکام کی تفصیل ان کے مقام پر بیان کی گئی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں