الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَاب مَا جَاءَ فِي نُقْطَةِ الذَّهَبِ وَالْفِضَّةِ وَمَا جَاءَ فِي مَعْنَاهُمَا مِنَ الْأَمْتِعَةِ
سونے اور چاندی کی گری پڑی چیز اور اس طرح کے دوسرے سامان کا بیان
حدیث نمبر: 6236
عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ سَمِعْتُ سُوَيْدَ بْنَ غَفْلَةَ قَالَ غَزَوْتُ مَعَ زَيْدِ بْنِ صُوحَانَ وَسَلْمَانَ بْنِ رَبِيعَةَ فَوَجَدْتُ سَوْطًا فَأَخَذْتُهُ فَقَالَا لِي اطْرَحْهُ فَقُلْتُ لَا وَلَكِنْ أُعَرِّفُهُ فَإِنْ وَجَدْتُ مَنْ يَعْرِفُهُ وَإِلَّا اسْتَمْتَعْتُ بِهِ فَأَبَيَا عَلَيَّ وَأَبَيْتُ عَلَيْهِمَا فَلَمَّا رَجَعْنَا مِنْ غَزَاتِنَا حَجَجْتُ فَأَتَيْتُ الْمَدِينَةَ فَلَقِيتُ أُبَيَّ بْنَ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرْتُ لَهُ قَوْلَهُمَا وَقَوْلِي لَهُمَا فَقَالَ وَجَدْتُ صُرَّةً فِيهَا مِائَةُ دِينَارٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَذَكَرْتُ لَهُ ذَلِكَ فَقَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا فَلَمْ أَجِدْ مَنْ يَعْرِفُهَا فَقَالَ عَرِّفْهَا حَوْلًا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ وَلَا أَدْرِي قَالَ لَهُ ذَلِكَ فِي سَنَةٍ أَوْ فِي ثَلَاثِ سِنِينَ فَقَالَ لَهُ فِي الرَّابِعَةِ اعْرِفْ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا فَإِنْ وَجَدْتَ مَنْ يَعْرِفُهَا وَإِلَّا فَاسْتَمْتِعْ بِهَا وَهَذَا لَفْظُ حَدِيثِ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ وَزَادَ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ فِي حَدِيثِهِ قَالَ فَلَقِيتُهُ بَعْدَ ذَلِكَ بِمَكَّةَ فَقَالَ لَا أَدْرِي ثَلَاثَةَ أَحْوَالٍ أَوْ حَوْلًا وَاحِدًا
۔ سویدین بن غفلہ کہتے ہیں: میں نے زید بن صوحان اور سلمان بن ربیعہ کی معیت میں غزوہ کیا، میں نے راستے میں ایک کوڑا پایا اور اس کو اٹھا لیا، لیکن انہوں نے مجھے کہا: یہ کوڑا پھینک دے، میں نے کہا: میں اسے نہیں پھینکوں گا، بلکہ اس کا اعلان کروں گا، اگر اس کو پہچان لینے والے مالک کو پا لیا تو اسے دے دوں گا،وگرنہ خود استعمال کر لوں گا، ان دونوں نے یہ بات تسلیم کرنے سے انکار کر دیا اور میں نے بھی ان سے اتفاق نہ کیا، جب ہم غزوہ سے واپس آئے اورمیں حج کے لئے گیا تو میں مدینہ منورہ گیا اور سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے ملا اور ان کو اُن دونوں کی اور اپنی بات بتلائی، انھوں نے آگے سے کہا: عہد ِ نبوی کی بات ہے، مجھے سو دیناروں پر مشتمل ایک تھیلی ملی تھی، جب میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس گیا اور اس کے بارے میں ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اس کا اعلان کرو۔ میں نے ایسا ہی کیا، لیکن ایسا کوئی شخص نہ ملا جو اس تھیلی کو پہچانتا ہو، اس لیے میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بتلایا کہ کوئی ایسا نہیں ملا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مزید ایک سال اعلان کرو۔ تین دفعہ ایسے ہی ہوا، راوی کہتا ہے: میں نہیں جانتا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو ایک سال میں (اعلان کرنے کا) کہا تھا یا تین برسوں میں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے چوتھی مرتبہ مجھے فرمایا: ان دیناروں کی تعداد اور اس تھیلی کے تسمے کو ذہن نشین کرلے اور اگر اس کےبعد اس کو پہچاننے والے کو پا لے تو اسے دے دینا، وگرنہ اس سے خود فائدہ اٹھا لینا۔ یہ الفاظ یحییٰ بن سعید کی حدیث کے ہیں، محمد بن جعفر نے اپنی بیان کردہ حدیث میں کہاہے کہ سیدنا شعبہ کہتے ہیں میں اس کے بعد سلمہ بن کہیل کو مکہ میں ملا اوران سے پوچھا تو انھوں نے کہا: مجھے معلوم نہیں کہ تین سال مراد ہیں یا ایک سال میں تین دفعہ اعلان کرنا مراد ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6236]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2426، ومسلم: 1723، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21167 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21486»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6237
وَفِي لَفْظٍ آخَرَ مِنْ طَرِيقِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ قَالَ فَعَرِّفْهَا عَامَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً قَالَ اعْرِفْ عَدَدَهَا وَوِعَاءَهَا وَوِكَاءَهَا وَاسْتَمْتِعْ بِهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَعَرَفَ عِدَّتَهَا وَوِكَاءَهَا فَأَعْطِهَا إِيَّاهُ
۔ (دوسری سند) حماد بن سلمہ سے مروی ہے کہ سلمہ بن کہیل نے اپنی روایت کو اس طرح بیان کیا: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دو یا تین سال تک اس کا اعلان کرو۔ پھر فرمایا: وگرنہ اس چیز کی تعداد،تھیلی اور تسمے کو ذہن نشین کر لو اور اس سے فائدہ اٹھاؤ، اگر بعد میں اس کامالک آگیا اور اس کی تعداد اورتسمے کو پہنچان لیا تو اس کو دے دینا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6237]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21489»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6238
عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ الْتَقَطْتُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مِائَةَ دِينَارٍ فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً فَعَرَّفْتُهَا سَنَةً ثُمَّ أَتَيْتُهُ فَقُلْتُ قَدْ عَرَّفْتُهَا سَنَةً فَقَالَ عَرِّفْهَا سَنَةً أُخْرَى فَعَرَّفْتُهَا سَنَةً أُخْرَى ثُمَّ أَتَيْتُهُ فِي الثَّالِثَةِ فَقَالَ أَحْصِ عَدَدَهَا وَوِكَاءَهَا وَاسْتَمْتِعْ بِهَا
۔ سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: عہد ِ نبوی میں میں نے سو دینار اٹھا لیے (جوکہ کسی کے گم ہوئے تھے) اوررسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ گیا،آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک سال تک اعلان کرو۔ میں نے ایک سال تک اعلان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر عرض کی کہ میں نے ایک سال اس کا اعلان کر دیا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مزید ایک سال اعلان کرو۔ پس میں نے مزید ایک سال اعلان کیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آ کر کہا کہ میں نے مزید ایک سال تک اعلان کر دیا ہے، اس بار آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اب تم ان کی تعداد شمار کر لو اور اس کا تسمہ پہچان لو اور ان سے فائدہ حاصل کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6238]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1723، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21169 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21488»
وضاحت: فوائد: … مسند احمد کی ایک روایت میں تین سال اعلان کرنے کا ذکر ہے۔ پچھلے باب کی احادیث میں ایک سال کا اور اِن احادیث میں تین سال کا ذکر ہے، جمع و تطبیق کی صورتیںیہ ہیں:
(۱) ایک سال تک اعلان کرنا ضروری ہے اور تین سالوں تک مستحبّ ہے، یعنی ایک سال کے بعد چیز کو استعمال تو کیا جا سکتا ہے، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ مزید دو سالوں تک اعلان کیا جائے۔
(۲) عام چیز کا ایک سال تک اعلان کیا جائے گا اور قیمتی چیز کا تین سالوں تک۔
(۳) جو آدمی چیز کا استعمال کر لینے کے بعد مالک کے آ جانے کی صورت میں آسانی سے اس چیز کا اہتمام کر سکتا ہو، وہ ایک سال تک اعلان کرے اور جس کو یہ خطرہ ہو کہ اگر اس نے اس چیز کواستعمال کر لیا تو اس کا از سرِ نو اہتمام کرنا مشکل ہو جائے گا تو وہ تین برسوں تک اعلان کر لے، عام طور پر اتنے عرصے کے بعد اصل مالک کا آنا مشکل ہو جاتا ہے۔
(۱) ایک سال تک اعلان کرنا ضروری ہے اور تین سالوں تک مستحبّ ہے، یعنی ایک سال کے بعد چیز کو استعمال تو کیا جا سکتا ہے، لیکن زیادہ بہتر یہ ہے کہ مزید دو سالوں تک اعلان کیا جائے۔
(۲) عام چیز کا ایک سال تک اعلان کیا جائے گا اور قیمتی چیز کا تین سالوں تک۔
(۳) جو آدمی چیز کا استعمال کر لینے کے بعد مالک کے آ جانے کی صورت میں آسانی سے اس چیز کا اہتمام کر سکتا ہو، وہ ایک سال تک اعلان کرے اور جس کو یہ خطرہ ہو کہ اگر اس نے اس چیز کواستعمال کر لیا تو اس کا از سرِ نو اہتمام کرنا مشکل ہو جائے گا تو وہ تین برسوں تک اعلان کر لے، عام طور پر اتنے عرصے کے بعد اصل مالک کا آنا مشکل ہو جاتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح