Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

3. باب وَعِيدِ مَنْ آوَى ضَالَةٌ وَلَمْ يُعْرِفُهَا
اس شخص کی وعید کا بیان جس نے گم شدہ چیز اٹھا لی اور اس کا اعلان نہ کیا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6239
عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ آوَى ضَالَّةً فَهُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا
۔ سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گم شدہ چیز اپنے گھر میں رکھ لیتا ہے اور اس کا اعلان نہیں کرتا، وہ گمراہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6239]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 1725، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17055 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17181»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6240
عَنْ مُنْذِرِ بْنِ جَرِيرٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ الْبَجَلِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنْتُ مَعَ أَبِي جَرِيرٍ بِالْبَوَازِيجِ فِي السَّوَادِ فَرَاحَتِ الْبَقَرُ فَرَأَى بَقَرَةً أَنْكَرَهَا فَقَالَ مَا هَذِهِ الْبَقَرَةُ قَالَ بَقَرَةٌ لَحِقَتْ بِالْبَقَرِ فَأَمَرَ بِهَا فَطُرِدَتْ حَتَّى تَوَارَتْ ثُمَّ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ لَا يَأْوِي الضَّالَّةَ إِلَّا ضَالٌّ
۔ عبد اللہ بجلی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں بوازیج مقام پر اپنے باپ سیدنا ابو جریر رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا، اتنے میں ایک گائے چراگاہ کی طرف نکل آئی، جب انھوں نے یہ گائے دیکھی اور اس کی شناخت نہ کی تو کہا: یہ گائے کہاں سے آ گئی ہے؟ میں نے کہا: یہ ہماری گائیوں کے ساتھ مل گئی ہے، لیکن انھوں نے حکم دیا کہ اس کو دھتکار دیا جائے، پس ایسے ہی کیا گیا،یہاں تک کہ وہ چھپ گئی، پھر انھوں نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: وہی آدمی گم شدہ جانور کو اپنے گھر میں جگہ دیتا ہے، جو گمراہ ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6240]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، الضحاك، قال علي بن المديني: لا يعرفونه، ثم انّ ابا حيان اضطرب فيه۔ أخرجه ابوداود: 1720، وابن ماجه: 2503، والنسائي: 2/ 432، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19422»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6241
عَنِ الْجَارُودِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ بَيْنَمَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ وَفِي الظَّهْرِ قِلَّةٌ إِذْ تَذَاكَرَ الْقَوْمُ الظَّهْرَ فَقُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ عَلِمْتُ مَا يَكْفِينَا مِنَ الظَّهْرِ فَقَالَ وَمَا يَكْفِينَا قُلْتُ ذَوْدٌ نَأْتِي عَلَيْهِنَّ فِي جُرُفٍ فَنَسْتَمْتِعُ بِظُهُورِهِنَّ قَالَ لَا ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَلَا تَقْرَبَنَّهَا ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَلَا تَقْرَبَنَّهَا ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ فَلَا تَقْرَبَنَّهَا وَقَالَ فِي اللُّقَطَةِ الضَّالَّةُ تَجِدُهَا فَانْشُدَنَّهَا وَلَا تَكْتُمْ وَلَا تُغَيِّبْ فَإِنْ عُرِفَتْ فَأَدِّهَا وَإِلَّا فَمَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ
۔ سیدنا جارود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں تھے، سواریوں کی قلت تھی، لوگ سواریوں کے بارے میں تبادلۂ خیال کر رہے تھے کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے معلوم ہے کہ ہمیں سواریاں میسر آسکتی ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: وہ کیسے؟ میں نے کہا: (مدینہ منورہ کی) پانی کی بہاؤ والی جگہ میں اونٹ موجود ہیں، ہم ان پر سواری کرنے کا فائدہ حاصل کر لیتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نہیں،مسلمان کا گم شدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا، مسلمان کا گمشدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا، مسلمان کا گمشدہ آگ کا شعلہ ہے، پس ہر گز اس کے قریب نہیں جانا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے گری پڑی چیز کے بارے میں ارشاد فرمایا: جب تو گم شدہ چیز پائے تو ضرور ضرور اس کا اعلان کر اور چھپا کے نہ رکھ اور نہ اس کو غائب کر، اگر وہ پہچان لیا جائے تو متعلقہ بندے کو ادا کر دے، وگرنہ وہ اللہ تعالی کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے، عطا کر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6241]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الدارمي: 2602، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 5792، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 2120، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20754 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21034»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6242
وَعَنْهُ أَيْضًا أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ عَنِ الضَّوَالِّ فَقَالَ ضَالَّةُ الْمُسْلِمِ حَرَقُ النَّارِ
۔ سیدناجارود رضی اللہ عنہ سے اس انداز سے بھی روایت ہے کہ انھوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے گم شدہ جانوروں کے متعلق دریافت کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مسلمان کی گم شدہ چیز آگ کا شعلہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6242]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه الطيالسي: 1294، والنسائي في ’’الكبري‘‘: 5796، وابويعلي: 919، وابن حبان: 4887، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20757 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21038»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6243
عَنْ مُطَرِّفٍ عَنْ أَبِيهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَوَامُّ الْإِبِلِ نُصِيبُهَا قَالَ ضَالَّةُ الْمُؤْمِنِ حَرَقُ النَّارِ
۔ مطرف انپے باپ سیدنا عبد اللہ بن شخیر رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول!: ہم گم شدہ اونٹوں کو پا لیتے ہیں، ان کا کیا حکم ہو گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مؤمن کا گم شدہ جانور آگ کا شعلہ ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6243]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابن ماجه: 2502، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16314 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16423»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6244
عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ لِلْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رُمْحٌ فَكُنَّا إِذَا خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي غَزَاةٍ خَرَجَ بِهِ مَعَهُ فَيَرْكُزُهُ فَيَمُرُّ النَّاسُ عَلَيْهِ فَيَحْمِلُونَهُ فَقُلْتُ لَئِنْ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَأُخْبِرَنَّهُ فَقَالَ إِنَّكَ إِنْ فَعَلْتَ لَمْ تُرْفَعْ ضَالَّةٌ
۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کا ایک نیزہ تھا،جب ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ کسی غزوہ میں جاتے تو سیدنا مغیرہ رضی اللہ عنہ اسے ساتھ لے جاتے اور اسے گاڑھ دیتے اور قصداً چھوڑآتے، لوگ اس کے پاس سے گزرتے اور اسے اٹھا لاتے۔ میں نے کہا: میں اگر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا تو میں اس کاروائی کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ضرور آگاہ کروں گا، جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے (قصداً) ایسا کرنا شروع کر دیا تو گم شدہ چیز کو نہیں اٹھایا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6244]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2809، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1272»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث میں بیان کی گئی وعید اس آدمی کے بارے میں ہے جو مومن کی گمشدہ چیز اس نیت سے اٹھاتا ہے کہ وہ اس پر قبضہ کر لے اور کسی کو نہ بتائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں