الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ الْإِشْهَادِ عَلَى النُّقْطَةِ وَمُدَّةِ التَّعْرِيفِ عَلَى الْيَسِيرِ والكثير منها
گری پڑی چیز پر گواہ بنانے اور کم مقدار اور زیادہ مقدار کی چیز کی مدتِ اعلان کا بیان
حدیث نمبر: 6245
عَنْ عِيَاضِ بْنِ حِمَارٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ وَجَدَ لُقَطَةً فَلْيُشْهِدْ ذَوَيْ عَدْلٍ وَلْيَحْفَظْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَلَا يَكْتُمْ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا وَإِنْ لَمْ يَجِئْ صَاحِبُهَا فَإِنَّهُ مَالُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ
۔ سیدنا عیاض بن حمار رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص گری پڑی چیز پاتا ہے، اس کو چاہیے کہ وہ انصاف والے دو آدمیوں کو گواہ بنالے اور اس کی تھیلی اور تسمے کی شناخت کر لے، اگر اس کا مالک آ جائے تو وہ اس سے نہ چھپائے، کیونکہ یہ اسی کا حق ہے اور اگر مالک نہ ملے تو یہ اللہ تعالیٰ کا مال ہے، وہ جسے چاہتا ہے، عطاکر دیتا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6245]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن۔ أخرجه ابن ماجه: 2809، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1272 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17620»
وضاحت: فوائد: … گمشدہ چیز اٹھانے والے کو چاہئے کہ وہ عادل گواہ بنا لے، اس کی تین وجوہات ہو سکتی ہیں:
(۱) بعد میں شیطان کے ورغلانے کی وجہ سے نفس میں خیانت کرنے کا خیال پیدا ہو سکتا ہے۔
(۲) گمشدہ چیز کو پانے والے شخص کی موت کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گواہ بنائے بغیر مر جائے اور اس کے ورثاء اِس چیز کو اس کا ترکہ سمجھ کر تقسیم کر لیں۔
(۳) یہ بھی ممکن ہے کہ اصل مالک کے شبہات کو دور کرنا مقصود ہو، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کی گم ہونے والی مختلف اشیاء ہوں یا زیادہ مقدار والی چیز ہو، جبکہ اس شخص کو ایک چیز ملی ہو یا کم مقدار ہو، ایسے میں وہ اِس پر خیانت کا الزام لگا سکتا ہے۔ شریعت کے اس حکم پر عمل کر لینے کی وجہ سے ان تمام شکوک و شبہات سے بچا جا سکتا ہے۔
(۱) بعد میں شیطان کے ورغلانے کی وجہ سے نفس میں خیانت کرنے کا خیال پیدا ہو سکتا ہے۔
(۲) گمشدہ چیز کو پانے والے شخص کی موت کا خطرہ بھی ہو سکتا ہے، کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ گواہ بنائے بغیر مر جائے اور اس کے ورثاء اِس چیز کو اس کا ترکہ سمجھ کر تقسیم کر لیں۔
(۳) یہ بھی ممکن ہے کہ اصل مالک کے شبہات کو دور کرنا مقصود ہو، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ اس کی گم ہونے والی مختلف اشیاء ہوں یا زیادہ مقدار والی چیز ہو، جبکہ اس شخص کو ایک چیز ملی ہو یا کم مقدار ہو، ایسے میں وہ اِس پر خیانت کا الزام لگا سکتا ہے۔ شریعت کے اس حکم پر عمل کر لینے کی وجہ سے ان تمام شکوک و شبہات سے بچا جا سکتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 6246
عَنْ يَعْلَى بْنِ مُرَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنِ الْتَقَطَ لُقْطَةً يَسِيرَةً دِرْهَمًا أَوْ حَبْلًا أَوْ شِبْهَ ذَلِكَ فَلْيُعَرِّفْهُ ثَلَاثَةَ أَيَّامٍ فَإِنْ كَانَ فَوْقَ ذَلِكَ فَلْيُعَرِّفْهُ سَنَةً
۔ سیدنایعلی بن مرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو معمولی سی چیز گری پا لے، مثلا درہم، رسی یا اس طرح کی کوئی اور چیز، تو وہ تین دنوں تک اس کا اعلان کرے، اور اگر اس سے قیمتی چیز پا لے تو ایک سال تک اس کا اعلان کرے۔ [الفتح الربانی/كتاب اللقطة/حدیث: 6246]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف عمر بن عبد الله، وجدته حكيمة لا تعرف۔ أخرجه البيھقي: 6/ 195، والطبراني في ’’الكبير‘‘: 22/ 700، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 17566 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 17709»
وضاحت: فوائد: … یہ حدیث چونکہ ضعیف ہے اس لئے حجت نہیں ہے، اعلان ایک سال تک ہی کیا جائے گا، البتہ معمولی چیز کے اعلان کی ضرورت نہیں ہے،مثلا کھجور کا دانہ، ایک دو روپے، وغیرہ۔
الحكم على الحديث: ضعیف