صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
7. باب إِبَاحَةِ الضَّبِّ:
باب: گوہ کا گوشت حلال ہے (یعنی سوسمار کا)۔
ترقیم عبدالباقی: 1945 ترقیم شاملہ: -- 5037
وحَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ بِضَبَّيْنِ مَشْوِيَّيْنِ بِمِثْلِ حَدِيثِهِمْ وَلَمْ يَذْكُرْ يَزِيدَ بْنَ الْأَصَمِّ عَنْ مَيْمُونَةَ.
معمر نے زہری سے، انہوں نے ابوامامہ بن سہل بن حنیف سے، انہوں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں دو بھنے ہوئے سانڈے پیش کیے گئے جبکہ ہم سب حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں موجود تھے ان سب کی حدیث کے مانند انہوں نے (معمر) نے حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا سے روایت کردہ یزید بن اصم کی حدیث کا ذکر نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 5037]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا کے گھر میں تھے، آپ کے پاس دو بھنی ہوئی ضب لائی گئیں، آگے مذکورہ بالا روایت ہے اور اس میں یزید بن الاصم کا میمونہ رضی اللہ تعالی عنہا سے بیان کرنے کا ذکر نہیں ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 5037]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1945
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1945 ترقیم شاملہ: -- 5038
وحَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ جَدِّي، حَدَّثَنِي خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي هِلَالٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُنْكَدِرِ ، أَنَّ أَبَا أُمَامَةَ بْنَ سَهْلٍ أَخْبَرَهُ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ فِي بَيْتِ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيد ِ بِلَحْمِ ضَبٍّ فَذَكَرَ بِمَعْنَى حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ.
ابن منکدر سے روایت ہے کہ ابوامامہ بن سہل نے انہیں بتایا کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں سانڈے کا گوشت لایا گیا، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے گھر تشریف فرما تھے اور ان کے ساتھ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ بھی موجود تھے پھر زہری کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 5038]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم میمونہ رضی اللہ تعالی عنھا کے گھر میں تھے اور خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ بھی آپ کے پاس موجود تھے، ضب کا گوشت لایا گیا، آگے مذکورہ بالا روایت کے ہم معنی روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 5038]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1945
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1947 ترقیم شاملہ: -- 5039
وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ ابْنُ نَافِعٍ: أَخْبَرَنَا غُنْدَرٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ: أَهْدَتْ خَالَتِي أَمُّ حُفَيْدٍ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَمْنًا وَأَقِطًا وَأَضُبًّا، " فَأَكَلَ مِنَ السَّمْنِ وَالْأَقِطِ وَتَرَكَ الضَّبَّ تَقَذُّرًا وَأُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَوْ كَانَ حَرَامًا، مَا أُكِلَ عَلَى مَائِدَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
سعید بن جبیر نے کہا: میں نے حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ میری خالہ ام حفید رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی پنیر اور سانڈے ہدیہ کیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے گھی اور پنیر میں سے تناول فرمایا اور سانڈے کو کراہت محسوس کرتے ہوئے چھوڑ دیا۔ یہ (سانڈا) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھایا گیا۔ اگر یہ حرام ہوتا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر نہ کھایا جاتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 5039]
حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، میری خالہ ام حفید رضی اللہ تعالی عنھا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گھی، پنیر اور ضب پیش کیں، آپ نے گھی اور پنیر کھالیا اور ضب کو کراہت کی بنا پر چھوڑ دیا اور اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر کھایا گیا، اگر وہ حرام ہوتی تو اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دسترخوان پر نہ کھایا جاتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 5039]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1947
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1948 ترقیم شاملہ: -- 5040
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَصَمِّ ، قَالَ: دَعَانَا عَرُوسٌ بِالْمَدِينَةِ، فَقَرَّبَ إِلَيْنَا ثَلَاثَةَ عَشَرَ ضَبًّا، فَآكِلٌ وَتَارِكٌ، فَلَقِيتُ ابْنَ عَبَّاسٍ مِنَ الْغَدِ فَأَخْبَرْتُهُ فَأَكْثَرَ الْقَوْمُ حَوْلَهُ حَتَّى، قَالَ بَعْضُهُمْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا آكُلُهُ وَلَا أَنْهَى عَنْهُ وَلَا أُحَرِّمُهُ "، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : بِئْسَ مَا قُلْتُمْ مَا بُعِثَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَّا مُحِلًّا وَمُحَرِّمًا إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَيْنَمَا هُوَ عِنْدَ مَيْمُونَةَ وَعِنْدَهُ الْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَامْرَأَةٌ أُخْرَى إِذْ قُرِّبَ إِلَيْهِمْ خُوَانٌ عَلَيْهِ لَحْمٌ، فَلَمَّا أَرَادَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْكُلَ، قَالَتْ لَهُ مَيْمُونَةُ: إِنَّهُ لَحْمُ ضَبٍّ، فَكَفَّ يَدَهُ، وَقَالَ: " هَذَا لَحْمٌ لَمْ آكُلْهُ قَطُّ "، وَقَالَ لَهُمْ: كُلُوا، فَأَكَلَ مِنْهُ الْفَضْلُ، وَخَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ، وَالْمَرْأَةُ، وَقَالَتْ مَيْمُونَةُ: لَا آكُلُ مِنْ شَيْءٍ إِلَّا شَيْءٌ يَأْكُلُ مِنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
شیبانی نے یزید بن اصم سے روایت کی، کہا: مدینہ منورہ میں ایک دلھا نے ہماری دعوت کی اور ہمیں تیرہ عدد (بھنے ہوئے) سانڈے پیش کیے۔ کوئی (اس کو) کھانے والا تھا کوئی نہ کھانے والا۔ دوسرے دن میں حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے ملا اور میں نے ان کو یہ بات بتائی۔ ان کے اردگرد موجود لوگوں نے بہت سی باتیں کیں حتی کہ کسی نے یہ بھی کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”میں اسے نہ کھاتا ہوں نہ روکتا ہوں نہ اسے حرام کرتا ہوں۔“ اس پر حضرت ابن عباس نے کہا: تم لوگوں نے جو کہا ناروا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے جو نبی بھیجا وہ حلال کرنے والا اور حرام کرنے والا تھا (حلت و حرمت کے حکم کو واضح کرنے والا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس طرح تم سمجھ رہے ہو۔ غیر واضح بات نہیں کرتے تھے۔) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا کے ہاں تشریف فرما تھے اور آپ کے قریب فضل بن عباس رضی اللہ عنہ اور خالد بن ولید رضی اللہ عنہ تھے۔ ایک اور خاتون بھی موجود تھی تو ان کے سامنے دسترخوان لایا گیا جس پر گوشت تھا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو کھانے کا ارادہ کیا تو حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے عرض کی: یہ سانڈے کا گوشت ہے آپ نے ہاتھ روک لیا اور فرمایا: ”یہ ایسا گوشت ہے جو میں نے کبھی نہیں کھایا۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے لوگوں سے فرمایا: ”کھاؤ۔“ سو اس گوشت میں سے فضل خالد بن ولید رضی اللہ عنہ اور اس خاتون نے کھایا۔ حضرت میمونہ رضی اللہ عنہا نے کہا: میں تو صرف اس کھانے میں سے کھاؤں گی جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھائیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 5040]
حضرت یزید بن اصم رحمۃ اللہ بیان کرتے ہیں، مدینہ میں ایک دولہا نے ہمیں دعوت دی اور ہمارے سامنے تیرہ ضب رکھے، کسی نے کھا لیا، کسی نے چھوڑ دیا، اگلے دن میں ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما کو ملا اور انہیں بتایا، لوگوں نے اس کے بارے میں بہت باتیں کیں، حتیٰ کہ بعض نے کہا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہ میں اس کو کھاتا ہوں، نہ میں اس سے روکتا ہوں اور نہ میں اسے حرام قرار دیتا ہوں۔“ تو ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہما نے کہا، تم نے بہت بری بات کہی، جو نبی بھی اللہ نے بھیجا ہے، حلال یا حرام کرنے کے لیے آیا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جبکہ وہ میمونہ رضی اللہ تعالی عنھا کے ہاں تھے اور آپ کے پاس فضل بن عباس رضی اللہ تعالی عنہ، خالد بن ولید رضی اللہ تعالی عنہ اور ایک اور عورت تھی، کہ اچانک آپ کے سامنے دسترخوان لایا گیا، اس پر گوشت تھا، تو جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کھانے کا ارادہ کیا، حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنھا نے آپ سے کہا، یہ ضب کا گوشت ہے، تو آپ نے اپنا ہاتھ روک لیا اور فرمایا: ”یہ وہ گوشت ہے، جو میں نے کبھی نہیں کھایا۔“ اور حاضرین سے کہا: ”تم کھاؤ۔“ تو اس سے فضل رضی اللہ تعالی عنہما، خالد بن ولید اور عورت نے کھایا اور حضرت میمونہ رضی اللہ تعالی عنھا نے کہا، میں تو وہی چیز کھاؤں گی، جو چیز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کھائیں گے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 5040]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1948
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1949 ترقیم شاملہ: -- 5041
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَعَبْدُ بْنُ حميد ، قَالَا: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ: أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِضَبٍّ، فَأَبَى أَنْ يَأْكُلَ مِنْهُ، وَقَالَ: " لَا أَدْرِي لَعَلَّهُ مِنَ الْقُرُونِ الَّتِي مُسِخَتْ ".
ابوزبیر نے حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کو کہتے ہوئے سنا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سانڈا لایا گیا۔ آپ نے اسے کھانے سے انکار کیا اور فرمایا: ”میں نہیں جانتا کہ شاید یہ (سانڈا بھی) ان قوموں میں سے ہو جن میں مسخ ہوا تھا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 5041]
حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ضب لائی گئی، تو آپ نے اس کے کھانے سے انکار کر دیا اور فرمایا: ”میں نہیں جانتا، شاید یہ ان نسلوں سے ہو، جنہیں مسخ کر دیا گیا۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 5041]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1949
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1950 ترقیم شاملہ: -- 5042
وحَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ شَبِيبٍ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ أَعْيَنَ ، حَدَّثَنَا مَعْقِلٌ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، قَالَ: سَأَلْتُ جَابِرًا عَنِ الضَّبِّ، فَقَالَ: لَا تَطْعَمُوهُ وَقَذِرَهُ، وَقَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُحَرِّمْهُ، إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ، فَإِنَّمَا طَعَامُ عَامَّةِ الرِّعَاءِ مِنْهُ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي طَعِمْتُهُ ".
ابوزبیر نے کہا: میں نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے سانڈے کے متعلق سوال کیا، انہوں نے کہا: اسے مت کھاؤ۔ اور اس سے اظہار کراہت کیا اور بیان کیا کہ حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام نہیں کیا۔ بلاشبہ اللہ تعالیٰ اس کے ذریعے سے (بھی) کو نفع پہنچاتا ہے، یہ عام چرواہوں کی غذا ہے। (حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مزید کہا:) اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے کھا لیتا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 5042]
ابو زبیر بیان کرتے ہیں، میں نے حضرت جابر رضی اللہ تعالی عنہما سے ضب کے بارے میں سوال کیا؟ تو انہوں نے جواب دیا، اسے نہ کھاؤ اور اس سے کراہت کا اظہار کیا اور بتایا، حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حرام قرار نہیں دیا، اللہ عزوجل بہت سے لوگوں کو اس سے نفع پہنچائے گا، اکثر چرواہوں کی خوراک بس یہی ہے اور اگر یہ میرے پاس ہوتی، تو میں اسے کھاتا (مکہ اور مدینہ میں یہ نہیں تھی)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 5042]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1950
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1951 ترقیم شاملہ: -- 5043
وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ دَاوُدَ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، قَالَ: قَالَ رَجُلٌ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا بِأَرْضٍ مَضَبَّةٍ فَمَا تَأْمُرُنَا أَوْ فَمَا تُفْتِينَا؟ قَالَ ذُكِرَ لِي أَنَّ أُمَّةً مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ مُسِخَتْ، فَلَمْ يَأْمُرْ وَلَمْ يَنْهَ. قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: فَلَمَّا كَانَ بَعْدَ ذَلِكَ، قَالَ عُمَرُ : " إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيَنْفَعُ بِهِ غَيْرَ وَاحِدٍ، وَإِنَّهُ لَطَعَامُ عَامَّةِ هَذِهِ الرِّعَاءِ وَلَوْ كَانَ عِنْدِي لَطَعِمْتُهُ إِنَّمَا عَافَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ".
داود نے ابونضرہ سے، انہوں نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک شخص نے عرض کی: اللہ کے رسول! ہم سانڈوں سے بھری ہوئی سرزمین میں رہتے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ یا کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ مجھے بتایا گیا کہ بنو اسرائیل کی ایک امت (بڑی جماعت) مسخ کر (کے رینگنے والے جانوروں میں تبدیل کر) دی گئی تھی۔ (اس کے بعد) آپ نے نہ اجازت دی اور نہ منع فرمایا۔ حضرت ابوسعید (خدری) رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر بعد کا عہد آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ عزوجل اس کے ذریعے سے ایک سے زیادہ لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے۔ یہ عام چرواہوں کی غذا ہے، اگر یہ میرے پاس ہوتا تو میں اسے کھاتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو نامرغوب محسوس کیا تھا۔ (اسے حرام قرار نہیں دیا تھا۔) [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 5043]
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، ایک شخص نے کہا، اے اللہ کے رسول! ہم ایسے علاقہ میں رہتے ہیں، جہاں ضب بہت ہیں، تو آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ یا آپ ہمیں کیا فتویٰ دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "مجھے بتایا گیا ہے کہ بنو اسرائیل کی ایک جماعت مسخ کر دی گئی (شاید یہ وہ ہو)۔" اس لیے آپ نے نہ حکم دیا اور نہ روکا، ابو سعید رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں، اس واقعہ کے بعد، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا، اللہ عزوجل اس سے بہت سے لوگوں کو نفع پہنچاتا ہے اور ان عام چرواہوں کی خوراک یہی ہے اور اگر میرے پاس ہوتی تو میں اسے کھاتا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو اس سے کراہت محسوس کی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 5043]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 1951 ترقیم شاملہ: -- 5044
حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا بَهْزٌ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَقِيلٍ الدَّوْرَقِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو نَضْرَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنِّي فِي غَائِطٍ مَضَبَّةٍ وَإِنَّهُ عَامَّةُ طَعَامِ أَهْلِي، قَالَ: فَلَمْ يُجِبْهُ، فَقُلْنَا: عَاوِدْهُ فَعَاوَدَهُ، فَلَمْ يُجِبْهُ ثَلَاثًا، ثُمَّ نَادَاهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الثَّالِثَةِ، فَقَالَ يَا أَعْرَابِيُّ: " إِنَّ اللَّهَ لَعَنَ أَوْ غَضِبَ عَلَى سِبْطٍ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ، فَمَسَخَهُمْ دَوَابَّ يَدِبُّونَ فِي الْأَرْضِ، فَلَا أَدْرِي لَعَلَّ هَذَا مِنْهَا فَلَسْتُ آكُلُهَا وَلَا أَنْهَى عَنْهَا ".
ابوعقیل دورقی نے کہا: ہمیں ابونضرہ نے حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ سے حدیث بیان کی کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ میں سانڈوں سے بھرے ہوئے ایک نشیبی علاقے میں رہتا ہوں اور میرے گھر والوں کی عام غذا یہی ہے۔ آپ نے اس کو کوئی جواب نہیں دیا، ہم نے اس سے کہا: دوبارہ عرض کرو، اس نے دوبارہ عرض کی، مگر آپ نے تین بار (دہرانے پر بھی) کوئی جواب نہ دیا، پھر تیسری بار رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو آواز دی اور فرمایا: ”اے اعرابی! اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے کسی گروہ پر لعنت کی یا غضب فرمایا اور ان کو زمین پر چلنے والے جانوروں کی شکل میں مسخ کر دیا۔ مجھے علم نہیں، شاید یہ انہی جانوروں میں سے ہو، (جن کی شکل میں ان لوگوں کو مسخ کیا گیا تھا) اس لیے نہ اس کو کھاتا ہوں اور نہ اس سے روکتا ہوں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 5044]
حضرت ابوسعید رضی اللہ تعالی عنہ سے روایت ہے کہ ایک اعرابی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا، میں ایک نشیبی، ضب والی زمین میں رہتا ہوں اور یہ میرے گھر والوں کا عمومی کھانا ہے، آپ نے اسے کوئی جواب نہ دیا، تو ہم نے کہا، آپ سے دوبارہ پوچھیں، اس نے آپ سے دوبارہ پوچھا، تو آپ نے اسے جواب نہ دیا، تین دفعہ ایسے ہوا، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری دفعہ آواز دی اور فرمایا: ”اے اعرابی! اللہ تعالیٰ نے بنو اسرائیل کے ایک خاندان پر لعنت بھیجی، یا ان سے ناراض ہوا اور انہیں جانوروں کی صورت میں مسخ کر دیا، وہ زمین میں چلتے ہیں، میں نہیں جانتا، شاید یہ ان میں سے ہو، اس لیے میں اسے نہیں کھاتا اور اسے روکتا بھی نہیں۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب الصَّيْدِ وَالذَّبَائِحِ وَمَا يُؤْكَلُ مِنْ الْحَيَوَانِ/حدیث: 5044]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1951
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة