الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
7. بَابُ جَوَاز إِنْخَاذِ الشَّعْرِ وَاكْرَامِهِ
بال رکھنے اور ان کو سنوارنے کے جواز کا بیان
حدیث نمبر: 8220
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِلَى أَنْصَافِ أُذُنَيْهِ وَفِي لَفْظٍ لَا يُجَاوِزُ أُذُنَيْهِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال نصف کانوں تک آتے تھے، ایک روایت میں ہے: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کانوں سے تجاوز نہیں کرتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8220]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12118 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12142»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8221
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ كَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ شَعْرٌ يُصِيبُ وَفِي لَفْظٍ يَضْرِبُ مَنْكِبَيْهِ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کندھوں تک آتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8221]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 5903، 5904، ومسلم: 2338، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12175 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12199»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8222
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كَانَ شَعْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دُونَ الْجُمَّةِ وَفَوْقَ الْوَفْرَةِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بال کندھوں سے اوپر اور کانوں سے نیچے تک ہوتے تھے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8222]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4187، والترمذي: 1755، وابن ماجه: 3635، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24871 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25383»
وضاحت: فوائد: … عربی میں سر کے لمبے بالوں کے لیے تین لفظ استعمال کیے جاتے ہیں:
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8223
عَنْ أُمِّ هَانِئٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَكَّةَ مَرَّةً وَلَهُ أَرْبَعُ غَدَائِرَ
۔ سیدہ ام ہانی رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مکہ میں آئے تو آپ کی چار مینڈھیاں تھیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8223]
تخریج الحدیث: «صحيح، قاله الالباني، أخرجه ابوداود: 4191، والترمذي: 1781، وابن ماجه: 3631، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26890 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 27428»
وضاحت: فوائد: … بچوں کے بال قابو میں رکھنے کے لیے تو ان کی مینڈھیاں بنا دینا عام تھا، اس حدیث ِ مبارکہ سے ثابت ہوا کہ بڑے مرد بھی مینڈھیاں بنا سکتے ہیں۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8224
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ كَانَ الْمُشْرِكُونَ يَفْرُقُونَ رُءُوسَهُمْ وَكَانَ أَهْلُ الْكِتَابِ يَسْدِلُونَ قَالَ يَعْقُوبُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَشْعَارَهُمْ وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يُحِبُّ وَيُعْجِبُهُ مُوَافَقَةُ أَهْلِ الْكِتَابِ قَالَ يَعْقُوبُ فِي بَعْضِ مَا لَمْ يُؤْمَرْ قَالَ إِسْحَاقُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِيمَا لَمْ يُؤْمَرْ فِيهِ فَسَدَلَ نَاصِيَتَهُ ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ مشرک اپنے بالوں کی مانگ نکالتے تھے اور اہل کتاب بالوں کو بغیر مانگ کے چھوڑ دیتے تھے، جب تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نیا اور خاص حکم نہیں دیا جاتا تھا، اس وقت تک آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اہل کتاب کی موافقت پسند فرماتے تھے، اس لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شروع میں بالوں کو پیشانی پر چھوڑے رکھا، پھر مانگ نکالنا شروع کر دیا تھا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8224]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3558، 3944، ومسلم:2336، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 2209 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 2209»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8225
عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَاصِيَتَهُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَسْدُلَهَا ثُمَّ فَرَقَ بَعْدُ
۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے جب تک چاہا نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے بالوں کو سیدھا چھوڑے رکھا، پھر مانگ نکالنا شروع کر دی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8225]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين غير حماد بن خالد فمن رجال مسلم، والصواب في ھذا الحديث الارسال، أخرجه الحاكم: 2/ 606، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13254 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13287»
وضاحت: فوائد: … عادات میں جب تک نہی نہ آئے، جواز قائم رہتا ہے، چونکہ مانگ نکالنے سے نہی وارد نہیں ہوئی، لہذا مانگ نکالنا جائز ہے اور نہ نکالنا بھی جائز ہے، کیونکہ نکالنے کا حکم بھی وارد نہیں ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے مانگ نکالنا بھی ثابت ہے اور نہ نکالنا بھی، اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ اس کی بابت شریعت نے کوئی مخصوص حکم نہیں دیا، حالات کے تحت دونوں میں سے کسی کو بھی اختیار کیا جا سکتا ہے، ایسے مسائل میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اہل کتاب کی موافقت کرنا ان کی تالیف قلبی کے لیے تھا کہ شاید وہ اسلام کی طرف مائل ہو جائیں، مگر جب محسوس ہوا کہ ان کی موافقت مفید نہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی موافقت چھوڑ دی۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اہل کتاب کی موافقت اس لیے بھی پسند تھی کہ وہ کم از کم، دعوے کی حد تک ہی سہی، سماوی دین پر عمل پیرا ہونے کے دعویدار تھے، اس کے برعکس مشرکین تو پکے بت پرست تھے۔ مانگ درمیان میںنکالنی چاہیے کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی عادت مبارکہ درمیان سے مانگ نکالنا ہی تھی۔ واللہ اعلم۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8226
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ كُنْتُ إِذَا فَرَقْتُ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ صَدَعْتُ فَرْقَهُ عَنْ يَافُوخِهِ وَأَرْسَلْتُ نَاصِيَتَهُ بَيْنَ عَيْنَيْهِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بالوں کی مانگ نکالا کرتی تھی تو آپ کے سر کی چوٹی سے بالوں کو دو حصوں میں تقسیم کر دیتی تھی اور پیشانی کے بال آپ کی آنکھوں کے درمیان یعنی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی پیشانی پر چھوڑ دیتی تھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8226]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، أخرجه ابوداود: 4189،و ابن ماجه: 3633، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 26355 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 26887»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 8227
عَنْ هُبَيْرَةَ بْنِ يَرِيمَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَدَعَا ابْنًا لَهُ يُقَالُ لَهُ عُثْمَانُ لَهُ ذُؤَابَةٌ
۔ ہبیرہ بن یریم کہتے ہیں: ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، انھوں نے اپنے بیٹے کو بلایا،اس کا نام عثمان تھا اور اس کے بالوں کی مینڈھی تھی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8227]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، شريك بن عبد الله النخعي سييء الحفظ، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1116 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1116»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 8228
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ الْمُزَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ التَّرَجُّلِ إِلَّا غِبًّا
۔ سیدنا عبداللہ بن مغفل مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بلاناغہ کنگھی کرنے سے منع فرمایا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الادب/حدیث: 8228]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه ابوداود: 4159، والترمذي: 1756، والنسائي: 8/ 132، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 16793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 16916»
وضاحت: فوائد: … شیخ البانی رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں: الترجُّل کے معانی ہیں: بالوں میں کنگھی کرنا، ان کو صاف کرنا اور ان کو خوبصورت بنانا۔
الحكم على الحديث: صحیح