الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. بَابُ الْحَقِّ عَلَى السَّلَامِ وَفَضْلِهِ وَكَرَاهَةِ تَرْكِهِ
سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 8248
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا ثُمَّ قَالَ هَلْ أَدُلُّكُمْ عَلَى شَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو گے، جب تک ایمان نہیں لاؤ گے اور تم اس وقت تک ایمان نہیں لا سکتے، جب تک آپس میں محبت نہیں کرو گے، اب کیا میں تمہیں وہ چیز بتا دوں کہ جب تم اس پر عمل کروگے تو تم آپس میں محبت کرنے لگ جاؤ گے،پس تم آپس میں سلام کو عام کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8248]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 54، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 9709 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 9707»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8249
عَنْ نَافِعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ ابْنَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا كَانَ يَقُولُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَكُونُوا إِخْوَانًا كَمَا أَمَرَكُمُ اللَّهُ
۔ سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام کو پھیلاؤ، لوگوں کو کھانا کھلاؤ، اور اس طرح بھائی بھائی بن جاؤ، جس طرح اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8249]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ماجه: 3252، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6450 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6450»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8250
عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَفْشُوا السَّلَامَ تَسْلَمُوا وَالْأَثَرَةُ أَشَرُّ
۔ سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام عام کرو، تم سلامت رہو گے،صرف بعض لوگوں کو (ملاقات اور سلام کے لیے) ترجیح دینا بدترین بات ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8250]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه البخاري في الادب المفرد: 477، 979، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18530 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18729»
وضاحت: فوائد: … ظاہر بات ہے کہ مسلمان بوقت ِ ملاقات ایک دوسرے کے لیے سلامت و سلامتی اور رحمت و برکت کی دعائیں کریں گے تو نتیجتاً سلامتیاں ہی نصیب ہوں گی، دوسری احادیث کی روشنی میں سلام کی وجہ سے محبت بڑھے گی، ایمان میں اضافہ ہو گا اور جنت میں داخلہ نصیب ہو گا۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8251
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَكُنْتُ فِيمَنِ انْجَفَلَ فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تولوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب ٹوٹ پڑے، میں بھی ان میں تھا، جب میں نے آپ کے چہرہ مبارک کو بغور دیکھا تو میں جان گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا، پھر پہلی چیز جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی، وہ یہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور جب لوگ سوئے ہوں تو تم نماز پڑھو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8251]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ماجه: 1334، والترمذي: 2485، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24193»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8252
عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ الْعَوَّامِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ دَبَّ إِلَيْكُمْ دَاءُ الْأُمَمِ قَبْلَكُمْ الْحَسَدُ وَالْبَغْضَاءُ وَالْبَغْضَاءُ هِيَ الْحَالِقَةُ حَالِقَةُ الدِّينِ لَا حَالِقَةُ الشَّعَرِ وَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ لَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا أَفَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِشَيْءٍ إِذَا فَعَلْتُمُوهُ تَحَابَبْتُمْ أَفْشُوا السَّلَامَ بَيْنَكُمْ
۔ سیدنا زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے اندر تم سے پہلی والی امتوں کی بیماری سرایت کر جائے گی اور وہ بیماری حسد اور بغض ہے، یہ دین کو ٹنڈ منڈ کر دینے والی ہے، یہ بالوں کو مونڈنے والی نہیں ہے (یہ تو دین کا ستیاناس کر دیتی ہے)، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان ہے! تم اس وقت تک مومن نہیں ہو سکتے جب تک تم آپس میں محبت نہیں کرو گے اور کیا میں تمہیں وہ چیز نہ بتا دوں کہ جب تم اس پر عمل کرو گے تو باہمی محبت کرنے والے بن جاؤ گے، پس سلام کو آپس میں عام کرو۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8252]
تخریج الحدیث: «حسن، قاله الالباني، أخرجه الترمذي: 2510، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1412 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1412»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8253
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) وَفِيهِ لَا تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ حَتَّى تُؤْمِنُوا وَلَا تُؤْمِنُوا حَتَّى تَحَابُّوا الْخَ
۔ (دوسری سند) اس میں ہے: تم اس وقت تک جنت میں داخل نہیں ہو سکتے، جب تک کہ تم ایمان نہیں لاؤ گے اور اس وقت تک ایمان نہیں لا سکتے، جب تک تم آپس میں محبت نہیں کرو گے، …۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8253]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الاول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1430»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 8254
عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ السَّلَامُ تَحِيَّةُ أَهْلِ الْجَنَّةِ
۔ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام کہنا اہل جنت کا تحفہ ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8254]
تخریج الحدیث: «ھذا اسناد ضعيف لاضطرابه، لكن له شاھد موقوف من حديث ابن عباس، رواه البيھقي في الشعب، أخرجه البزار: 1461، والطبراني في الكبير: 20/ 90، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19404 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19624»
الحكم على الحديث: ضعیف
حدیث نمبر: 8255
عَنْ أَبِي أُمَامَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ بَدَأَ بِالسَّلَامِ فَهُوَ أَوْلَى بِاللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ وَرَسُولِهِ
۔ سیدنا ابو امامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو سلام کرنے میں پہل کرے گا، وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے قریب تر ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8255]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 5197، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22192 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 22545»
وضاحت: فوائد: … بہت ساری احادیث ِ مبارکہ میں سلام کو عام کرنے کی تاکید کی گئی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح