الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب الحق على السلام وفضله وكراهة تركه
سلام کہنے پر رغبت، اس کی فضیلت اور اس کو ترک کرنے کی کراہت کا بیان
حدیث نمبر: 8251
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ لَمَّا قَدِمَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَكُنْتُ فِيمَنِ انْجَفَلَ فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهِ كَذَّابٍ فَكَانَ أَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ يَقُولُ أَفْشُوا السَّلَامَ وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ وَصِلُوا الْأَرْحَامَ وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ
۔ سیدنا عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب مدینہ منورہ میں تشریف لائے تولوگ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جانب ٹوٹ پڑے، میں بھی ان میں تھا، جب میں نے آپ کے چہرہ مبارک کو بغور دیکھا تو میں جان گیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا چہرہ جھوٹے کا چہرہ نہیں ہو سکتا، پھر پہلی چیز جو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنی، وہ یہ تھی، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سلام پھیلاؤ، کھانا کھلاؤ، صلہ رحمی کرو اور جب لوگ سوئے ہوں تو تم نماز پڑھو، تم سلامتی کے ساتھ جنت میں داخل ہو جاؤ گے۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8251]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابن ماجه: 1334، والترمذي: 2485، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23784 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24193»
الحكم على الحديث: صحیح