الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ مَا جَاءَ فِي التَّرْهِيبِ مِنْ عُقُوقِ الْوَالِدَيْنِ
والدین کی نافرمانی سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9683
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا رَفَعَهُ سُفْيَانُ وَوَقَفَهُ مِسْعَرٌ قَالَ مِنَ الْكَبَائِرِ أَنْ يَشْتِمَ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالُوا وَكَيْفَ يَشْتِمُ الرَّجُلُ وَالِدَيْهِ قَالَ يَسُبُّ أَبَا الرَّجُلِ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: آدمی کا اپنے والدین کو گالی دینا کبیرہ گناہوں میں سے ہے۔ لوگوں نے کہا: بھلا آدمی اپنے والدین کو کیسے گالیاں دیتا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ کسی کے باپ کو برا بھلا کہتا ہے، وہ جواباً اس کے باپ کو برا بھلا کہتاہے، یہ کسی کی ماں کو گالی دیتا ہے اور وہ جواباً اس کی ماں کو گالی دیتا ہے۔سفیان راوی نے اس حدیث کو مرفوعاً اور مسعر نے موقوفاً بیان کیا ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9683]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 90، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6529 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6529»
وضاحت: فوائد: … اللہ تعالیٰ کے حقوق کے بعد والدین کا حق سب سے مقدم ہے، قرآن مجید میں کئی مقامات پر جہاں اللہ تعالیٰ کی الوہیت و عبودیت کا حکم دیا گیا، وہاں والدین کے ساتھ حسنِ سلوک سے پیش آنے کی تلقین بھی کی گئی۔ مسلمان والدین کے احترام و اکرام کا اندازہ اس حقیقت سے لگایا جا سکتا ہے کہ اگر والدین مشرک اور کافر بھی ہوں، تب بھی ان کی خدمت اور ان سے حسنِ سلوک کرنا ضروری ہے، جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے: {وَ اِنْ جَاہَدٰکَ عَلٰٓی اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَالَیْسَ لَکَ بِہٖعِلْمٌفَـلَاتُطِعْہُمَاوَصَاحِبْہُمَافِی الدُّنْیَا مَعْرُوْفًا } (سورۂ لقمان: ۱۵) … اور اگر وہ (والدین) تجھ پر اس بات کا دباؤ ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے، جس کا تجھے علم نہ ہو تو ان کا کہنا نہ ماننا، ہاں دنیا میں ان کے ساتھ اچھی طرح پیش آنا۔
جب تک اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہو، اس وقت تک والدین کی اطاعت کرنا، ان کی خدمت کرنا اور ان کی رضامندی
چاہنا مطلوبِ شریعت ہے۔ جب تک شریعت کے کسی حکم کی مخالفت نہ ہو، اس وقت تک والدین کا ہر مطالبہ پورا کر کے ان کو راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کتنی غور طلب بات ہے کہ مشرک اور شرک پر مجبور کرنے والے والدین کے ساتھ بھی ہمیں حسنِ سلوک کرنے کا درس دیا گیا ہے، مسلمان والدین کے مقام و مرتبہ کا خود اندازہ لگا لیں۔
والدین کی رفعت و منزلت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ جو بچہ اپنی زندگی میں اپنے ماں باپ دونوں یا کسی ایک کو پا لیتا ہے اور پھر ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل ہونے کے اسباب پیدا نہیں کرتا تو نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے ذلالت، ہلاکت اور رحمت ِ الہی سے دوری کی بد دعا کرتے ہیں۔
اگر اس سلسلے میں شریعت خاموش ہی رہتی تب بھی عقل و شعور کا فیصلہیہی ہوتا کہ ماں باپ کی نافرمانی کرنا مروّت نہیں اور ذوقِ سلیم اور وجدان بھییہی کہتا اور انسانیت کا بھییہی تقاضا ہوتا کہ جن پاک نفوس نے بچپن میں اولاد کے ساتھ حسنِ سلوک کیا، اولاد کو بھی چاہئے کہ وہ {ھَلْ جَزَائُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ}کے تحت ان کے سامنے عاجزی و فرمانبرداری کے بازو بچھا دے۔
امام مبارکپوریؒ نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا، جس میں والدین کی رضامندی میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی قرار دیا گیا ہے: چونکہ اللہ تعالیٰ نے خود والدین کی اطاعت کرنے اور ان کی تکریم کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے جو اپنے والدین کو ناراض کرے گا، وہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کو ناراض کر دے گا، یہ سخت وعید ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے۔ (تحفۃ الاحوذی)
لیکن افسوس کہ آجکل لوگوں نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک یا بد سلوکی سے پیش آنے کے لیے اپنے بیوی بچوں اور دوستوں کو معیار قرار دیا ہے، اپنی بیوی کے ہر قسم کے ناز نخرے پورے کئے جاتے ہیں، لیکن والدین پر ہونے والے اخراجات کو بوجھ سمجھا جاتا ہے، اگرچہ ان کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔
جب تک اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ ہو، اس وقت تک والدین کی اطاعت کرنا، ان کی خدمت کرنا اور ان کی رضامندی
چاہنا مطلوبِ شریعت ہے۔ جب تک شریعت کے کسی حکم کی مخالفت نہ ہو، اس وقت تک والدین کا ہر مطالبہ پورا کر کے ان کو راضی کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔ کتنی غور طلب بات ہے کہ مشرک اور شرک پر مجبور کرنے والے والدین کے ساتھ بھی ہمیں حسنِ سلوک کرنے کا درس دیا گیا ہے، مسلمان والدین کے مقام و مرتبہ کا خود اندازہ لگا لیں۔
والدین کی رفعت و منزلت کا اندازہ اس سے لگائیں کہ جو بچہ اپنی زندگی میں اپنے ماں باپ دونوں یا کسی ایک کو پا لیتا ہے اور پھر ان کی خدمت کر کے جنت میں داخل ہونے کے اسباب پیدا نہیں کرتا تو نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے لیے ذلالت، ہلاکت اور رحمت ِ الہی سے دوری کی بد دعا کرتے ہیں۔
اگر اس سلسلے میں شریعت خاموش ہی رہتی تب بھی عقل و شعور کا فیصلہیہی ہوتا کہ ماں باپ کی نافرمانی کرنا مروّت نہیں اور ذوقِ سلیم اور وجدان بھییہی کہتا اور انسانیت کا بھییہی تقاضا ہوتا کہ جن پاک نفوس نے بچپن میں اولاد کے ساتھ حسنِ سلوک کیا، اولاد کو بھی چاہئے کہ وہ {ھَلْ جَزَائُ الْاِحْسَانِ اِلَّا الْاِحْسَانُ}کے تحت ان کے سامنے عاجزی و فرمانبرداری کے بازو بچھا دے۔
امام مبارکپوریؒ نے اس حدیث کی شرح کرتے ہوئے لکھا، جس میں والدین کی رضامندی میں اللہ تعالیٰ کی رضامندی قرار دیا گیا ہے: چونکہ اللہ تعالیٰ نے خود والدین کی اطاعت کرنے اور ان کی تکریم کرنے کا حکم دیا ہے، اس لیے جو اپنے والدین کو ناراض کرے گا، وہ حقیقت میں اللہ تعالیٰ کو ناراض کر دے گا، یہ سخت وعید ہے اور اس سے پتہ چلتا ہے کہ والدین کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے۔ (تحفۃ الاحوذی)
لیکن افسوس کہ آجکل لوگوں نے والدین کے ساتھ حسنِ سلوک یا بد سلوکی سے پیش آنے کے لیے اپنے بیوی بچوں اور دوستوں کو معیار قرار دیا ہے، اپنی بیوی کے ہر قسم کے ناز نخرے پورے کئے جاتے ہیں، لیکن والدین پر ہونے والے اخراجات کو بوجھ سمجھا جاتا ہے، اگرچہ ان کی مقدار بھی کم ہوتی ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9684
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ قَالَ قِيلَ مَا عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ قَالَ يَسُبُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک والدین کی نافرمانی کرنا سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے۔ کسی نے کہا: والدین کی نافرمانی سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کسی دوسرے آدمی کو برا بھلا کہے اور وہ جوابی کاروائی کرتے ہوئے اس کے باپ کو برا بھلا کہے، اور یہ اُس کی ماں کو گالی دے اور وہ جواباً اس کی ماں کو گالی دے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9684]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7004»
وضاحت: فوائد: … والدین کو براہِ راست برا بھلا کہنے والا تو لعنتی ہے ہی سہی، جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے، کسی طرح سے والدین کی اذیت کا سبب بننے والا بھی کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9685
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أَبَاهُ مَلْعُونٌ مَنْ سَبَّ أُمَّهُ
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے اپنے باپ کو گالی دی، وہ ملعون ہے، جس نے اپنی ماں کو برا بھلا کہا، اس پر لعنت کی گئی ہے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9685]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه الطبراني: 11546، والحاكم: 4/ 356، والبيھقي: 8/ 231، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 1875 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 1875»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9686
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَلِجُ حَائِطَ الْقُدْسِ مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا الْعَاقُّ لِوَالِدَيْهِ وَلَا الْمَنَّانُ عَطَاءَهُ
۔ سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: شراب پینے پر ہمیشگی کرنے والا، والدین کی نافرمانی کرنے والا اور اپنے دیئے پر احسان جتلانے والا پاکیزہ باغ یعنی جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9686]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه البزار: 2931، والطبراني في الاوسط: 8587، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 13360 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 13393»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9687
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ عَاقٌّ وَلَا مُدْمِنُ خَمْرٍ وَلَا مُكَذِّبٌ بِقَدَرٍ
۔ سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: والدین کی نافرمانی کرنے والا، شراب پر ہمیشگی اختیار کرنے والا اور تقدیر کو جھٹلانے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9687]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره دون قوله: ولا مكذب بقدر فقد تفرد بھا سليمان بن عتبة الدمشقي، وھو ممن لايحتمل تفرده، أخرجه البزار: 2182، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27484 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28032»
الحكم على الحديث: صحیح
حدیث نمبر: 9688
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ الْجُهَنِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ إِنَّ لِلَّهِ تَبَارَكَ وَتَعَالَى عِبَادًا لَا يُكَلِّمُهُمُ اللَّهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَلَا يُزَكِّيهِمْ وَلَا يَنْظُرُ إِلَيْهِمْ قِيلَ لَهُ مَنْ أُولَئِكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ مُتَبَرٍّ مِنْ وَالِدَيْهِ رَاغِبٌ عَنْهُمَا وَمُتَبَرٍّ مِنْ وَلَدِهِ وَرَجُلٌ أَنْعَمَ عَلَيْهِ قَوْمٌ فَكَفَرَ نِعْمَتَهُمْ وَتَبَرَّأَ مِنْهُمْ
۔ سیدنا معاذبن انس جہنی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ کے کچھ ایسے بندے بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ قیامت والے دن نہ ان سے کلام کرے گا، نہ ان کو پاک صاف کرے گا اور نہ ان کی طرف دیکھے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ کون لوگ ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: والدین سے براء ت کا اظہار کرنے والا، ان سے بے رغبتی کرنے والا، اپنی اولاد سے اظہارِ براء ت کرنے والا اور وہ آدمی جس پر کسی قوم نے انعام کیا، لیکن وہ ان کے انعام کی ناشکری کرے اور ان سے براء ت کا اظہار کر دے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9688]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لضعف زبان بن فائد و سھل بن معاذ في رواية زبان عنه، أخرجه الطبراني في الكبير: 20/ 20/ 437، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15721»
الحكم على الحديث: ضعیف