الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء فى الترهيب من عقوق الوالدين
والدین کی نافرمانی سے ترہیب کا بیان
حدیث نمبر: 9684
(وَعَنْهُ مِنْ طَرِيقٍ ثَانٍ) أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ قَالَ قِيلَ مَا عُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ قَالَ يَسُبُّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَيَسُبُّ أَبَاهُ وَيَسُبُّ أُمَّهُ فَيَسُبُّ أُمَّهُ
۔ (دوسری سند) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک والدین کی نافرمانی کرنا سب سے بڑا کبیرہ گناہ ہے۔ کسی نے کہا: والدین کی نافرمانی سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ایک آدمی کسی دوسرے آدمی کو برا بھلا کہے اور وہ جوابی کاروائی کرتے ہوئے اس کے باپ کو برا بھلا کہے، اور یہ اُس کی ماں کو گالی دے اور وہ جواباً اس کی ماں کو گالی دے۔ [الفتح الربانی/القسم الخامس: مسائل الترهيب من الكبائر وسائر المعاصي/حدیث: 9684]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث بالطريق الأول ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7004»
وضاحت: فوائد: … والدین کو براہِ راست برا بھلا کہنے والا تو لعنتی ہے ہی سہی، جیسا کہ اگلی حدیث سے معلوم ہو رہا ہے، کسی طرح سے والدین کی اذیت کا سبب بننے والا بھی کبیرہ گناہ کا مرتکب ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: صحیح