🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

16. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُفْرَدَاتِ
مفردات کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9957
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ لَمْ يُحَرِّمْ حُرْمَةً إِلَّا وَقَدْ عَلِمَ أَنَّهُ سَيَطَّلِعُهَا مِنْكُمْ مُطَّلِعٌ أَلَا وَإِنِّي آخِذٌ بِحُجَزِكُمْ أَنْ تَهَافَتُوا فِي النَّارِ كَتَهَافُتِ الْفَرَاشِ أَوِ الذُّبَابِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بیشک اللہ تعالیٰ نے جس چیز کو بھی حرام کیا، اس کے بارے میں وہ جانتا تھا کہ تم میں سے لوگ اس پر جھانکے گے، خبردار! میں تمہاری کمروں سے پکڑ کر تم کو روکتا ہوں تاکہ تم اس طرح آگ میں نہ گرو، جیسے پتنگے اور مکھیاں آگ میں گرتے ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9957]
تخریج الحدیث: «أخرجه الطيالسي: 402، وابويعلي: 5288، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 4027 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 4027»
وضاحت: فوائد: … ایسے لگتا ہے جیسے بزور آگ میں گھسنا چاہتے ہیں، لیکن رحمۃ للعالمین صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان کو بچانا چاہتے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9958
عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ سَمِعْتُ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَقُولُ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَعْمَلْ سُوءًا يُجْزَ بِهِ فِي الدُّنْيَا
۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس نے برا کام کیا، اس کو دنیا میں اس کا بدلہ دیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9958]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح بطرقه وشواھده، أخرجه الترمذي: 3039، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23»
وضاحت: فوائد: … درج ذیل حدیث سے اس حدیث کا مفہوم واضح ہو گا:
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہے: لَمَّا نَزَلَ {مَنْ یَعْمَلْ سُوء ًا یُجْزَ بِہِ} شَقَّ ذٰلِکَ عَلَی
الْمُسْلِمِینَ، فَشَکَوْا ذٰلِکَ إِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقَالَ: ((قَارِبُوا وَسَدِّدُوا وَفِی کُلِّ مَا یُصِیبُ الْمُؤْمِنَ کَفَّارَۃٌ حَتَّی الشَّوْکَۃَیُشَاکُہَا أَوِ النَّکْبَۃَیُنْکَبُہَا۔)) … جب یہ آیت نازل ہوئی {مَنْ یَعْمَلْ سُوء ًا یُجْزَ بِہِ} (جو کوئی برا کام کرے گا، اس کی سزا دیجائے گی۔) تو مسلمانوں پر شاق گزرا اورانہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اس کا شکوہ کیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمام امور میں میانہ روی اختیار کرو اور راہِ صواب پر ڈٹے رہو، مومن کی ہر آزمائش میں اس کے گناہوں کا کفارہ ہے، یہاں تک کہ اگر اسے کوئی کانٹا چبھ جائے یا کوئی مشکل پیش آجائے۔
(جامع ترمذی: ۲۹۶۴)

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9959
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لَا يَقُولَنَّ أَحَدُكُمْ خَبُثَتْ نَفْسِي وَلَكِنْ لِيَقُلْ لَقِسَتْ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی اس طرح نہ کہے کہ خَبُثَتْ نَفْسِیْ، بلکہ اس مفہوم کو ادا کرنے کے لیے لَقِسَتْ نَفْسِیْ کہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9959]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6179، ومسلم: 2250، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24244 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24748»
وضاحت: فوائد: … خَبُثَتْْ اور لَقِسَتْ دونوں کے لغوی معانی ایک ہی ہیں، بظاہر انسان کے لیے اچھی بات نہیں ہے کہ وہ اپنے لیے خَبُثَتْْ کا لفظ استعمال کرے اور یہ آداب کا ایک طریقہ ہے کہ اچھے الفاظ استعمال کیے جائیں۔
ان دونوں الفاظ کے معانییہ ہیں: جی متلانا، جی بھاری ہونا، طبیعت سست ہونا،ردی اور خراب ہونا۔
اس حدیث سے معلوم ہوا کہ بندے کو مہذب الفاظ بیان کرنے چاہئیں، تاکہ مقصد بھی پورا ہو جائے اور تہذیب بھی برقرار رہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9960
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الشُّؤْمُ سُوءُ الْخُلُقِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نحوست، بری عادات ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9960]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، فيه انقطاع وضعف، حبيب بن عبيد الرحبي لم يسمع من عائشة، وابوبكر بن عبد الله ضعيف، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24547 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25054»
وضاحت: فوائد: … یعنی بداخلاقی اور بری عادات کے اندر نحوست پائی جاتی ہے۔

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9961
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ لِلْعِنَبِ الْكَرْمُ إِنَّمَا الْكَرْمُ الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کوئی آدمی انگور کو کَرْم نہ کہے، کیونکہ کَرْم تو مسلمان آدمی ہوتا ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9961]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2247، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8190 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8175»
وضاحت: فوائد: … عرب لوگ انگور کو اس وجہ سے کَرْم کہتے تھے، کیونکہ اس سے بنایا جانے والا شراب کَرَم یعنی سخاوت اور فیاضی پر ابھارتا تھا، جب شریعت نے شراب کو حرام کیا تو مدح والے اس نام سے بھی منع کر دیا، تاکہ نفسوں کا میلان اُدھر نہ ہو سکے اور اس خوبصورت نام کو مسلمان کے ساتھ خاص کر دیا۔
اس حدیث ِ مبارکہ کی ایک وجہ یہ بھی بیان کی گئی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا مقصود یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کو اپنی جگہ پر برقرار رکھا جائے {اِنَّ اَکْرَمَکُمْ عِنْدَ اللّٰہِ اَتْقَاکُمْ} … بیشک تم میں سب سے زیادہ کرم اور عزت والا وہ ہے، جو زیادہ پرہیزگار ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے مسلمان کی جو صفت بیان کی ہے، وہ اس لائق ہے کہ اس میں کسی اور چیز کی مشارکت نہ ہو۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں