🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. بابُ مَا جَاءَ فِي الثَّنَانِيَّاتِ
دو دو امور کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9962
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ شَرُّ مَا فِي رَجُلٍ شُحٌّ هَالِعٌ وَجُبْنٌ خَالِعٌ
۔ سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: سخت کنجوسی اور سخت بزدلی کسی آدمی میں پائی جانے والی بدترین صفات ہیں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9962]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه ابوداود: 2511، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8010 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7997»
وضاحت: فوائد: … کنجوسی اور بزدلی، انسان کی کمینگی پر دلالت کرنے والی گھٹیا صفات ہیں، ایسی صفات دنیا چاہنے والوں کو دنیا میں بھی ذلیل کر دیتی ہیںاور آخرت میں بھی اللہ تعالیٰ کی نظرِ رحمت سے محروم رہیں گے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 9963
عَنْ أَبِي بَرْزَةَ الْأَسْلَمِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ إِنَّ مِمَّا أَخْشَى عَلَيْكُمْ شَهَوَاتِ الْغَيِّ فِي بُطُونِكُمْ وَفُرُوجِكُمْ وَمُضِلَّاتِ الْهَوَى (وَفِي رِوَايَةٍ) مُضِلَّاتِ الْفِتَنِ
۔ سیدنا ابو برزہ اسلمی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: مجھے تمہارے بارے میں سرکشی کی جن شہوتوں کا سب سے زیادہ ڈر ہے، ان کا تعلق تمہارے پیٹوں، شرمگاہوں، گمراہ کرنے والی خواہشوں اور فتنوں سے ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ آفَاتِ اللَّسَانِ/حدیث: 9963]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الصحيح، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19773 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20011»
وضاحت: فوائد: … نفس کی خواہش کے مطابق دنیا کی لذتوں کے پیچھے پڑ جانا، نوع بنوع ماکولات اور قسما قسم کے مشروبات کو ہی زندگی کا مقصد سمجھ لینا، وہ حلال ہوں یا حرام اور شہوت کو پورا کرنے کے لیے زنا کرنا۔
اگر پوری دنیا کے مسلمانوں کا جائزہ لیا جائے توتقریبا تمام سرمایہ دار کھانے پینے کی لذتوں کے غلام ہو کر رہ گئے ہیں، ایک وقت کا کھانا کھانے کے لیے مہنگے ہوٹلوں کا انتخاب کیا جاتا ہے، رات ایک دو دو بجے تک ہوٹلنگ ہوتی رہتی
ہے، کوئی شام کا کھانا کھانے کے لیے شہر سے بیس کلو میٹر دور جا رہا ہے، کوئی آئس کریم کا لطف اٹھانے کے لیے شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے کی طرف جا رہا ہے، بلکہ لوگوں کو دوسرے ممالک سے کھانے کی چیزیں منگواتے ہوئے پایا گیا ہے، ایک ایک دعوت کے موقع پر پانچ چھ چھ ڈشیں دکھائی دیتی ہیں، جس ہوٹل پر جائیںسینکڑوں کھانوں پر مشتمل مینیو سامنے رکھ دیا جاتا ہے، بیس پچیس منٹ تو یہ فیصلہ کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ کس کھانے کا انتخاب کیا جائے۔ غرضیکہ جس چیزکا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو ڈر تھا، وہ اپنی انتہاء تک پہنچ گئی ہے۔
رہا مسئلہ زنا جیسی لعنت کا تو اسلام کا دعوی کرنے والوں کی خاصی تعداد اس کمینگی میں مبتلا ہو چکی ہے، بعض ممالک کا تو نام لے کر ذکر کیا جاتا ہے کہ اس کے اکثر وبیشتر باشندے بے حیا ہو چکے ہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں