🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

10. الْفَضْلُ الثَّانِي فِي إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ نَعُوذُ بِاللَّهِ مِنْهُمْ
فصل دوم: بے وقوفوں، نا اہل لوگوں کی حکومت کا بیان، ہم ان سے اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرتے ہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12075
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِكَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ ”أَعَاذَكَ اللَّهُ مِنْ إِمَارَةِ السُّفَهَاءِ“ قَالَ وَمَا إِمَارَةُ السُّفَهَاءِ قَالَ ”أُمَرَاءُ يَكُونُونَ بَعْدِي لَا يَقْتَدُونَ بِهَدْيِي وَلَا يَسْتَنُّونَ بِسُنَّتِي فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ لَيْسُوا مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُمْ وَلَا يَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَأُولَئِكَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُمْ وَسَيَرِدُوا عَلَيَّ حَوْضِي“
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا: اللہ تمہیں بے وقوفوں اور نااہل لوگوں کی حکمرانی سے بچائے۔ سیدنا کعب رضی اللہ عنہ نے کہا: بے وقوفوں کی حکومت سے کیا مراد ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو امراء میرے بعد آئیں گے، وہ میرے طریقے کی اقتداء نہیں کریں گے اور میری سنتوں پر عمل نہیں کریں گے، جس نے ان کے جھوٹے ہونے کے باوجود ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم وجور کے باوجود ان کی مدد کی، ان کا مجھ سے اور میرا ان سے کوئی تعلق نہیں ہو گا اور نہ وہ مجھ پر میرے حوض پر آئیں گے اور جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق نہیں کی اور نہ ان کے ظلم پر ان کی اعانت نہ کی، وہ میرے ہیں اور میں ان کا ہوں اور یہی لوگ میرے پاس میرے حوض پر آئیں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12075]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم، اخرجه ابن حبان: 4514، والحاكم: 4/ 422، والدارمي: 2776، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14441 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14494»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12076
عَنْ كَعْبِ بْنِ عُجْرَةَ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ دَخَلَ وَنَحْنُ تِسْعَةٌ وَبَيْنَنَا وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ فَقَالَ ”إِنَّهَا سَتَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَكْذِبُونَ وَيَظْلِمُونَ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ“ فَذَكَرَ نَحْوَهُ
سیدنا کعب بن عجرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے،ہم نو آدمی تھے، ہمارے درمیان چمڑے کا ایک تکیہ پڑا تھا، آپ نے فرمایا: عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے، جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے، جو ان کے پا س گیا اور ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی، … پھر سابق روایت کی طرح کے الفاظ ذکر کیے۔! مضارع کے نون اعرابی گرنے کی ظاہری کوئی وجہ نظر نہیں آتی (محقق مسند)۔ (عبداللہ رفیق) [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12076]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، اخرجه النسائي: 7/ 160، والترمذي: 2259، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18306»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12077
وَعَنْ حُذَيْفَةَ بْنِ الْيَمَانِ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَحْوُهُ
سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ نے بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی قسم کی حدیث بیان کی ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12077]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط الشيخين، اخرجه البزار: 2834، والطبراني في الاوسط: 8486، والطبراني في الكبير: 3020، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23260 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23649»
وضاحت: فوائد: … اس حدیث کا متن یہ ہے:((إِنَّہَا سَتَکُونُ أُمَرَاء ُ یَکْذِبُونَ وَیَظْلِمُونَ فَمَنْ صَدَّقَہُمْ بِکَذِبِہِمْ وَأَعَانَہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ فَلَیْسَ مِنَّا وَلَسْتُ مِنْہُمْ وَلَا یَرِدُ عَلَیَّ الْحَوْضَ وَمَنْ لَمْ یُصَدِّقْہُمْ بِکَذِبِہِمْ وَلَمْ یُعِنْہُمْ عَلٰی ظُلْمِہِمْ فَہُوَ مِنِّی وَأَنَا مِنْہُ وَسَیَرِدُ عَلَیَّ الْحَوْضَ۔)) … عنقریب جھوٹ بولنے والے اور ظلم کرنے والے امراء ہوں گے، جو ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کرے گا، وہ نہ مجھ سے ہو گا اور نہ میں اس سے ہوں گا اور ایسا آدمی میرے پاس حوض پر نہیں آئے گا، لیکن جو شخص ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق نہیں کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی مدد نہیں کرے گا، پس وہ مجھ سے ہو گا اور میں اس سے ہوں گا اور وہ میرے پاس حوض پر آئے گا۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12078
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ قَالَ خَرَجَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ فِي الْمَسْجِدِ بَعْدَ صَلَاةِ الْعِشَاءِ رَفَعَ بَصَرَهُ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ خَفَضَ حَتَّى ظَنَنَّا أَنَّهُ قَدْ حَدَثَ فِي السَّمَاءِ شَيْءٌ فَقَالَ ”أَلَا إِنَّهُ سَيَكُونُ بَعْدِي أُمَرَاءُ يَكْذِبُونَ وَيَظْلِمُونَ فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَمَالَأَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَا أَنَا مِنْهُ وَمَنْ لَمْ يُصَدِّقْهُمْ بِكَذِبِهِمْ وَلَمْ يُمَالِئْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ أَلَا وَإِنَّ دَمَ الْمُسْلِمِ كَفَّارَتُهُ أَلَا وَإِنَّ سُبْحَانَ اللَّهِ وَالْحَمْدُ لِلَّهِ وَلَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَاللَّهُ أَكْبَرُ هُنَّ الْبَاقِيَاتُ الصَّالِحَاتُ“
سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم عشاء کی نماز کے بعد مسجد میں تھے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے آسمان کی طرف اپنی نظر اٹھائی اور پھر اسے نیچے کیا، یہاں تک کہ ہم نے سمجھاکہ آسمان پر کوئی اہم واقعہ رونماہوا ہے، اتنے میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے، جو جھوٹ بولیں گے اور ظلم کریں گے، جس نے ان کے جھوٹ کی تصدیق کی اور ظلم پر ان کی مدد کی، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کوئی تعلق نہیں اور جس نے ان کی جھوٹ کی تصدیق نہیں کی اور ان کے ظلم پر ان کی موافقت نہ کی، وہ میرا اور میں اس کا ہوں، خبردار! مسلمان کا خون کفارہ ہے اوریہ کلمات باقی رہنے والے اعمال صالحہ ہیں: سُبْحَانَ اللّٰہِ، اَلْحَمْدُ لِلَّہِ، لَا إِلٰہَ إِلَّا اللّٰہُ اور اَللَّہُ أَکْبَرُ۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12078]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18353 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18543»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12079
عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ وَتَرَوْنَ أَثَرَةً“ قَالَ قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا يَصْنَعُ مَنْ أَدْرَكَ ذَاكَ مِنَّا قَالَ ”أَدُّوا الْحَقَّ الَّذِي عَلَيْكُمْ وَسَلُوا اللَّهَ الَّذِي لَكُمْ“ وَفِي رِوَايَةٍ ”إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ بَعْدِي أَثَرَةً وَأُمُورًا تُنْكِرُونَهَا“ قَالَ قُلْنَا مَا تَأْمُرُنَا قَالَ ”أَدُّوا لَهُمْ حَقَّهُمْ وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ“
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر کچھ حکمران مسلط ہوں گے، تم دیکھو گے کہ وہ مستحقین پر غیر مستحق لوگوں کو ترجیح دیں گے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! جو آدمی ایسے حالات پائے، وہ کیا کرے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ذمہ جو حقوق ہوں، تم ان کو ادا کرنا اور جو تمہارے حقوق ہوں، تم ان کا اللہ تعالیٰ سے سوال کرنا۔ ایک روایت میں ہے: تم میرے بعد دیکھو گے کہ نا اہل اور غیر مستحق لوگوں کو ترجیح دی جائے گی اور تم ایسے ایسے کام دیکھو گے جنہیں تم اچھا نہیں سمجھو گے۔ ہم نے کہا: ایسی صور ت حال میں آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ذمے ان کے جو حقوق ہوں، تم انہیں ادا کرتے رہنا اور اپنے حقوق کا اللہ تعالیٰ سے سوال کرتے رہنا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12079]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخاري: 7052، ومسلم: 1843، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3640 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3640»
وضاحت: فوائد: … رعایا کی انتہائی اہم ذمہ داری یہ ہے کہ وہ ہر زمان و مکاں میں حکمت، مصلحت اور اپنے حالات سے متعلقہ ارشاداتِ نبوی کا خیال رکھے، جذباتی ہونے کی ضرورت نہیں، اگر حکمران اپنی عوام کے حقوق ادا نہ کر رہے ہوں تو اس کا یہ مطلب نہیں کہ رعایا بھی ظلم پر اتر آئے اور اپنے حکمرانوں کے حقوق کو نظر انداز کر دے،کیونکہ ایسے جذبات کا نتیجہ ظلم و ستم اور خانہ جنگی کے علاوہ کچھ نہیں ہے، نسلیں تباہ کروانے سے بہتر ہے کہ حق تلفی پر صبر کر لیا جائے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شریعت کا کمال اور حسن یہ ہے کہ ہر وقت اور ہر مقام کے حالات سے نپٹنے کے لیے اس میں رہنمائی ملتی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12080
(وَعَنْهُ بِلَفْظٍ آخَرَ) قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”إِنَّهُ سَيَلِي أَمْرَكُمْ مِنْ بَعْدِي رِجَالٌ يُطْفِئُونَ السُّنَّةَ وَيُحْدِثُونَ بِدْعَةً وَيُؤَخِّرُونَ الصَّلَاةَ عَنْ مَوَاقِيتِهَا“ قَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ كَيْفَ بِي إِذَا أَدْرَكْتُهُمْ قَالَ ”لَيْسَ يَا ابْنَ أُمِّ عَبْدٍ طَاعَةٌ لِمَنْ عَصَى اللَّهَ“ قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: میرے بعد تم پر ایسے لوگ حکمران ہوں گے، جو سنتوں کو مٹائیں گے،بدعات کو فروغ دیں گے اور نمازوں کو ان کے مقررہ اوقات سے مؤخر کریں گے۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میں ان لوگوں کو پالوں تو میرے لیے کیا حکم ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اے ام عبد کے بیٹے! اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرنے والے کی اطاعت نہیں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین بار یہ بات ارشاد فرمائی۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12080]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، اخرجه ابن ماجه: 2865، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3789 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3789»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے اس ارشاد پر عمل کرنے کے لیے بھی حکمتوں اور مصلحتوںکی تعلیم دی ہے، مثال کے طور پر اگر حکمران نمازوں کو ان کے اوقات سے ہی مؤخر کر دیں تو مخفی انداز میں نماز کو اس کے وقت پر ادا کر لیا جائے گا اور اگر ایسے حکمرانوں کی جماعت کے موقع پر بھی بندہ حاضر ہو تو وہ نفل کی نیت کر کے ان کے ساتھ شریک ہو گا اور یہ نہیں کہے گا کہ اس نے تو نماز ادا کر لی ہے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12081
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ يَأْمُرُونَكُمْ بِمَا لَا يَفْعَلُونَ فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ“
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر ایسے حکمران آئیں گے کہ وہ تمہیں ایسی باتوں کا حکم دیں گے جن پر خود عمل نہیں کریں گے، جس نے ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی اور ان کے ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے نہیں اور میں اس سے نہیں، ایسا آدمی ہر گز میرے پاس حوض پر نہیں آئے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12081]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 5702 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 5702»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12082
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”تَكُونُ أُمَرَاءُ تَغْشَاهُمْ غَوَاشٍ أَوْ حَوَاشٍ مِنَ النَّاسِ يَظْلِمُونَ وَيَكْذِبُونَ فَمَنْ دَخَلَ عَلَيْهِمْ فَصَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ وَأَعَانَهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَلَيْسَ مِنِّي وَلَسْتُ مِنْهُ وَمَنْ لَمْ يَدْخُلْ عَلَيْهِمْ وَيُصَدِّقْهُمْ بِكِذْبِهِمْ وَيُعِنْهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَهُوَ مِنِّي وَأَنَا مِنْهُ“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کچھ حکمران ہوں گے کمینے قسم کے لوگ ان کے پاس کثرت سے ہوں گے، وہ ظلم کریں گے او رجھوٹ بولیں گے، جو آدمی ان کے پاس جا کر ان کے جھوٹ کی تصدیق کرے گا اور ان کے ظلم پر ان کی اعانت کرے گا، اس کا مجھ سے اور میرا اس سے کچھ تعلق نہیں ہے اور جو آدمی ان کے پاس نہ گیا اور ان کے جھوٹ کی تصدیق نہ کی او رنہ ظلم پر ان کی مدد کی، وہ مجھ سے ہے اور میں اس کاہوں۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12082]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، اخرجه ابويعلي: 1286، والطيالسي: 2223، و ابن حبان: 286، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11192 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11210»
وضاحت: فوائد: … اگر کوئی حکمران راہِ اعتدال سے ہٹ جائے اور ظاہری اسباب کے مطابق اس کی اصلاح بھی مشکل لگ رہی ہو تو اس سے کنارہ کشی کی جائے اور دور رہنے کی کوشش کی جائے۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12083
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّهُ حَدَّثَهُمْ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”ضَافَ ضَيْفٌ رَجُلًا مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَفِي دَارِهِ كَلْبَةٌ مُجِحٌّ فَقَالَتِ الْكَلْبَةُ وَاللَّهِ لَا أَنْبَحُ ضَيْفَ أَهْلِي قَالَ فَعَوَى جِرَاؤُهَا فِي بَطْنِهَا قَالَ قِيلَ مَا هَذَا قَالَ فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَى رَجُلٍ مِنْهُمْ هَذَا مَثَلُ أُمَّةٍ تَكُونُ مِنْ بَعْدِكُمْ يَقْهَرُ سُفَهَاؤُهَا أَحْلَامَهَا“
عبد اللہ بن عمر و بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بنی اسرائیل میں ایک آدمی دوسرے کے ہاں مہمان ٹھہرا، میزبان کے گھر میں ایک حاملہ کتیا تھی، کتیا نے سوچا، اللہ کی قسم! میں اپنے مالکوں کے مہمان کو نہیں بھونکوں گی۔ اتنے میں اس کے پیٹ کا پلّا مسلسل چیخنے لگ گیا، کسی نے کہا: یہ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک آدمی کی طرف وحی کی کہ یہ اس امت کی مثال ہے، جو تمہارے بعد آئے گی، اس کے بیوقوف لوگ اس کے عقلمندوں پر غالب آ جائیں گے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12083]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، ابو عوانة سمع من عطاء قبل الاختلاط وبعده، وكان لا يعقل ذا من ذا، فقال ابن معين: لايُحتج بحديثه، اخرجه البزار: 3372، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 6588 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 6588»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 12084
وَعَنْ خَبَّابِ بْنِ الْأَرَتِّ قَالَ إِنَّا لَقُعُودٌ عَلَى بَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ نَنْتَظِرُ أَنْ يَخْرُجَ لِصَلَاةِ الظُّهْرِ إِذْ خَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ ”اسْمَعُوا“ فَقُلْنَا سَمِعْنَا ثُمَّ قَالَ ”اسْمَعُوا“ فَقُلْنَا سَمِعْنَا فَقَالَ ”إِنَّهُ سَيَكُونُ عَلَيْكُمْ أُمَرَاءُ فَلَا تُعِينُوهُمْ عَلَى ظُلْمِهِمْ فَمَنْ صَدَّقَهُمْ بِكِذْبِهِمْ فَلَنْ يَرِدَ عَلَيَّ الْحَوْضَ“
سیدنا خباب بن ارت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے دروازے پر بیٹھے اس انتظار میں تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نمازِ ظہر کے لیے باہر تشریف لائیں گے، آپ باہر تشریف لائے اور فرمایا: سنو! ہم نے عرض کیا: جی ہم سن رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے دوبارہ فرمایا: سنو! ہم نے کہا: ہم سن رہے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عنقریب تمہارے اوپر حکمران مسلط ہوں گے، تم ان کے ظلم پر ان کی مدد نہیں کرنا، جس نے ان کے جھوٹ پر ان کی تصدیق کی وہ حوضِ کوثر پرمیرے پاس نہیں آئے گا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ الْخُلَافَةِ وَالْإِمَارَةِ/حدیث: 12084]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، اخرجه ابن حبان: 284، والطبراني: 3627، والحاكم: 1/ 78، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21074 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21389»

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں