Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

6. تَنَاوُلُ الصُّحُفِ وَالْمِيزَانِ
نامہ اعمال کی وصولی اور ترازو کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13147
عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”يُعْرَضُ النَّاسُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ثَلَاثَ عَرَضَاتٍ فَأَمَّا عَرَضَتَانِ فَجِدَالٌ وَمَعَاذِيرُ وَأَمَّا الثَّالِثَةُ فَعِنْدَ ذَلِكَ تَطِيرُ الصُّحُفُ فِي الْأَيْدِي فَآخِذٌ بِيَمِينِهِ وَآخِذٌ بِشِمَالِهِ“
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن لوگوں کو تین پیشیوں کا سامنا کرنا ہوگا، دو پیشیوں میں تو بحث مباحثہ اور معذرتیں ہوں گی ا ور تیسری پیشی میں تو لوگوں کے اعمال نامے اڑ اڑ کر ہاتھوں میں آپہنچیں گے، کوئی دائیں ہاتھ سے پکڑ رہا ہو گا اور کوئی بائیں ہاتھ سے۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13147]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من ابي موسي، أخرجه ابن ماجه: 4277، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 19715 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 19953»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13148
وَعَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ قُلْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ هَلْ يَذْكُرُ الْحَبِيبُ حَبِيبَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ”يَا عَائِشَةُ أَمَّا عِنْدَ ثَلَاثٍ فَلَا أَمَّا عِنْدَ الْمِيزَانِ حَتَّى يَثْقُلَ أَوْ يَخِفَّ فَلَا وَأَمَّا عِنْدَ تَطَايُرِ الْكُتُبِ فَإِمَّا أَنْ يُعْطَى بِيَمِينِهِ أَوْ يُعْطَى بِشِمَالِهِ فَلَا وَحِينَ يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَتَغَيَّظُ عَلَيْهِمْ وَيَقُولُ ذَلِكَ الْعُنُقُ وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ وُكِّلْتُ بِثَلَاثَةٍ وُكِّلْتُ بِمَنِ ادَّعَى مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ وَوُكِّلْتُ بِمَنْ لَا يُؤْمِنُ بِيَوْمِ الْحِسَابِ وَوُكِّلْتُ بِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ قَالَ فَيَنْطَوِي عَلَيْهِمْ وَيَرْمِي بِهِمْ فِي غَمَرَاتٍ وَلِجَهَنَّمَ جَسَرٌ أَدَقُّ مِنَ الشَّعْرِ وَأَحَدُّ مِنَ السَّيْفِ عَلَيْهِ كَلَالِيبُ وَحَسَكٌ يَأْخُذُونَ مَنْ شَاءَ اللَّهُ وَالنَّاسُ عَلَيْهِ كَالطَّرْفِ وَكَالْبَرْقِ وَكَالرِّيحِ وَكَأَجَاوِيدِ الْخَيْلِ وَالرِّكَابِ وَالْمَلَائِكَةُ يَقُولُونَ رَبِّ سَلِّمْ رَبِّ سَلِّمْ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَخْدُوشٌ مُسَلَّمٌ وَمُكَوَّرٌ فِي النَّارِ عَلَى وَجْهِهِ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! قیامت کے دن دوست اپنے دوستوں اور پیاروں کو یاد کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: عائشہ! تین موقعے تو ایسے ہیں کہ وہاں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا، ان میں سے ایک ترازو کا موقع ہے، اس میں یہی فکر ہو گی کہ نیکیوں والا پلڑا بھاری ہوتا ہے یا ہلکا، دوسرا موقع نامۂ اعمال کے اڑنے کا ہے کہ وہ کسی کو دائیں ہاتھ میں مل رہا ہو گا اور کسی کو بائیں ہاتھ میں، اس وقت بھی کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا، تیسرا موقعہ وہ ہوگا، جب جہنم سے ایک گردن نکلے گی اورلوگوں پر چھا جائے گی، وہ ان پر غصے کی حالت میں ہو گی اور کہے گی: مجھے تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے، مجھے تین قسم کے لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے، مجھے ان لوگوں پر مسلط کیا گیا ہے جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے کو اپنا معبود سمجھ لیا، مجھے ان لوگوں پر بھی مسلط کیا گیا ہے جو یومِ حساب پر ایمان نہیں رکھتے تھے اور مجھے ہر سرکش و نافرمان پر بھی مسلط کیا گیا ہے، وہ ان لوگوں پر چھا جائے گی اور ان کو گہرے گڑھوں میں جا پھینکے گی، جہنم کے اوپر ایک پل ہوگا، جو بال سے زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہوگا، اس پر کنڈیاں اور کانٹے ہوں گے اور جن لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ کا حکم ہوگا، وہ انہیں کھینچ کر جہنم میں ڈال دیں گے، جب لوگ اس کے اوپر سے گزریں گے تو کوئی آنکھ جھپکنے کی دیر میں، کوئی بجلی کی طرح، کوئی ہوا کی طرح اور کوئی بہترین گھوڑوں اورسواریوں کی رفتار سے گزریں گے، اللہ تعالیٰ کے فرشتے بھی یہ دعاکر رہے ہوں گے: اے ربّ! محفوظ رکھ، اے ربّ! محفوظ رکھ،کوئی تو سلامتی کے ساتھ اس کو عبور کر جائے گا اور کوئی زخمی ہوتا ہوا اس سے گزرے گا اور کوئی چہرے کے بل جہنم میں جا پڑے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13148]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف بھذه السياقة، ابن لھيعة قد تفرد به، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24793 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25303»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13149
وَعَنْهَا أَيْضًا قَالَتْ يَا رَسُولَ اللَّهِ تَذْكُرُونَ أَهْلِيكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ قَالَ ”أَمَّا فِي مَوَاطِنَ ثَلَاثٍ فَلَا الْكِتَابِ وَالْمِيزَانِ وَالصِّرَاطِ“
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ قیامت کے دن اپنے اہل خانہ کویا د کریں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: رہا مسئلہ تین موقعوں کا، تو ان میں کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا: نامہ اعمال کی تقسیم، ترازو کے پاس اور پل صراط سے گزرتے وقت۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13149]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لانقطاعه، الحسن البصري لم يسمع من عائشة، والقاسم بن الفضل لم يسمع كذالك من الحسن، وظاهر الاسناد يدل علي ذالك، وقد توبع، أخرجه مطولا ابوداود: 4755، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24696 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 25203»

الحكم على الحديث: ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 13150
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تُوضَعُ الْمَوَازِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ فَيُوضَعُ فِي كِفَّةٍ فَيُوضَعُ مَا أُحْصِيَ عَلَيْهِ فَيَتَمَايَلُ بِهِ الْمِيزَانُ قَالَ فَيُبْعَثُ بِهِ إِلَى النَّارِ قَالَ فَإِذَا أُدْبِرَ بِهِ إِذَا صَائِحٌ يَصِيحُ مِنْ عِنْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ لَا تَعَجِّلُوا لَا تَعَجِّلُوا فَإِنَّهُ قَدْ بَقِيَ لَهُ فَيُؤْتَى بِبِطَاقَةٍ فِيهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَتُوضَعُ مَعَ الرَّجُلِ فِي كِفَّةٍ حَتَّى يَمِيلَ بِهِ الْمِيزَانُ“
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ترازو نصب کر دیئے جائیں گے، ایک آدمی کو پیش کیا جائے گا، اسے اور اس کے اعمال کو ترازو کے پلڑوں میں رکھا جائے گا، لیکن ترازو اوپر کو اٹھ جائے گا، پھر اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا، جب اسے لے جایا جا رہا ہو گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پکارنے والا یوں پکارے گا: جلدی نہ کرو، جلدی نہ کرو، اس کی ایک نیکی رہ گئی ہے، پھر ایک پرچی لائی جائے گی اس میں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ لکھا ہوا ہو گا، پھر اسے اس آدمی کے ساتھ دوبارہ پلڑے میں رکھا جائے گا، نتیجتاً وہ پلڑا وزنی ہوجائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13150]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7066»
وضاحت: فوائد: … ۱۔ اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن ایک مرحلہ پر انسانوں کے نامہ اعمال فضا میں اڑ رہے ہوں گے اور لوگ اپنے اپنے نامہ اعمال کو پکڑنے کی کوشش کریں گے۔ کسی کو داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ملے گا۔ اور کسی کو بائیں ہاتھ میں۔
۲۔ نیز معلوم ہوا کہ تین مواقع پر کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا۔ میزان کے قریب جب اعمال کا وزن کیا جارہا ہوگا۔ اور جب نامہ ہائے اعمال اڑ رہے ہوں گے اور ہر شخص اپنے اپنے نامہ اعمال کو حاصل کرنے کی فکر میں ہوگا کہ اسے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ملتا ہے۔ یا بائیں ہاتھ میں اور تیسرا موقعہ پل صراط کے اوپر سے گزرنے کا ہے۔
۳۔ نیز معلوم ہوا کہ پل صراط پل سے بھی زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے۔ اور وہ جہنم کے اوپر ہے۔ ہر آدمی کو اس سے گزرنا ہوگا
۴۔ او رلوگ اپنے اپنے اعمال کے حساب سے وہاں سے گزر جائیں گے۔ بعض لوگ نگاہ کی رفتار سے، بعض بجلی کی رفتار سے، بعض بہترین تیز رفتار گھوڑے کی رفتار سے اور بعض عام سواروں کی رفتار سے اور بعض گرتے پڑتے زخمی ہوتے بہرحال گزر ہی جائیں گے۔ البتہ کفار، باغی، سرکش، مشرک، بدعتی اور اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کو فرشتے کھینچ لیں گے اور وہ نیچے جہنم میں جاگریں گے۔
۵۔ اسی طرح قیامت کے دن ایک بہت بڑی گردن جہنم سے باہر کو نکلے گی وہ مشرکین کو، آخرت کے منکرین کو اور سرکش و نافرمان لوگوں کو جہنم میں لے جا کر گرائے گی۔
۶۔ نیز اس باب سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن لوگوں کے اعمال کا وزن کرنے کے لیے ترازو رکھے جائیں گے۔ ان میں انسانوں کا اور ان کے اعمال کا وزن کیا جائے گا۔
۷۔ اور اعمال کے موقعہ پر ایک آدمی ایسا ہوگا کہ اس کے گناہ بہت زیادہ ہوں گے اسے جہنم کی طرف روانہ کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا کہ اس کی ایک نیکی ابھی ہمارے ہاںباقی ہے چنانچہ ایک کاغذ لایا جائے گا جس پر لا الہ الا اللہ لکھا ہوگا اس کی برکت سے وہ نجات پائے گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس نے زندگی بھر شرک نہیں کیا ہوگا۔ اور اس کا عقیدہ توحید پختہ ہوگا۔ وہ گناہوں کے باوجود محض عقیدۂ توحید کی برکت سے جنت میں چلا جائے گا۔ والحمدللہ۔

الحكم على الحديث: صحیح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں