الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. تناول الصحف والميزان
نامہ اعمال کی وصولی اور ترازو کا بیان
حدیث نمبر: 13150
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”تُوضَعُ الْمَوَازِينُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيُؤْتَى بِالرَّجُلِ فَيُوضَعُ فِي كِفَّةٍ فَيُوضَعُ مَا أُحْصِيَ عَلَيْهِ فَيَتَمَايَلُ بِهِ الْمِيزَانُ قَالَ فَيُبْعَثُ بِهِ إِلَى النَّارِ قَالَ فَإِذَا أُدْبِرَ بِهِ إِذَا صَائِحٌ يَصِيحُ مِنْ عِنْدِ الرَّحْمَنِ يَقُولُ لَا تَعَجِّلُوا لَا تَعَجِّلُوا فَإِنَّهُ قَدْ بَقِيَ لَهُ فَيُؤْتَى بِبِطَاقَةٍ فِيهَا لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَتُوضَعُ مَعَ الرَّجُلِ فِي كِفَّةٍ حَتَّى يَمِيلَ بِهِ الْمِيزَانُ“
سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن ترازو نصب کر دیئے جائیں گے، ایک آدمی کو پیش کیا جائے گا، اسے اور اس کے اعمال کو ترازو کے پلڑوں میں رکھا جائے گا، لیکن ترازو اوپر کو اٹھ جائے گا، پھر اسے جہنم کی طرف بھیج دیا جائے گا، جب اسے لے جایا جا رہا ہو گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک پکارنے والا یوں پکارے گا: جلدی نہ کرو، جلدی نہ کرو، اس کی ایک نیکی رہ گئی ہے، پھر ایک پرچی لائی جائے گی اس میں لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ لکھا ہوا ہو گا، پھر اسے اس آدمی کے ساتھ دوبارہ پلڑے میں رکھا جائے گا، نتیجتاً وہ پلڑا وزنی ہوجائے گا۔ [الفتح الربانی/أبواب تتعلق بحوض الكوثر/حدیث: 13150]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7066 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7066»
وضاحت: فوائد: … ۱۔ اس باب کی احادیث سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن ایک مرحلہ پر انسانوں کے نامہ اعمال فضا میں اڑ رہے ہوں گے اور لوگ اپنے اپنے نامہ اعمال کو پکڑنے کی کوشش کریں گے۔ کسی کو داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ملے گا۔ اور کسی کو بائیں ہاتھ میں۔
۲۔ نیز معلوم ہوا کہ تین مواقع پر کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا۔ میزان کے قریب جب اعمال کا وزن کیا جارہا ہوگا۔ اور جب نامہ ہائے اعمال اڑ رہے ہوں گے اور ہر شخص اپنے اپنے نامہ اعمال کو حاصل کرنے کی فکر میں ہوگا کہ اسے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ملتا ہے۔ یا بائیں ہاتھ میں اور تیسرا موقعہ پل صراط کے اوپر سے گزرنے کا ہے۔
۳۔ نیز معلوم ہوا کہ پل صراط پل سے بھی زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے۔ اور وہ جہنم کے اوپر ہے۔ ہر آدمی کو اس سے گزرنا ہوگا
۴۔ او رلوگ اپنے اپنے اعمال کے حساب سے وہاں سے گزر جائیں گے۔ بعض لوگ نگاہ کی رفتار سے، بعض بجلی کی رفتار سے، بعض بہترین تیز رفتار گھوڑے کی رفتار سے اور بعض عام سواروں کی رفتار سے اور بعض گرتے پڑتے زخمی ہوتے بہرحال گزر ہی جائیں گے۔ البتہ کفار، باغی، سرکش، مشرک، بدعتی اور اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کو فرشتے کھینچ لیں گے اور وہ نیچے جہنم میں جاگریں گے۔
۵۔ اسی طرح قیامت کے دن ایک بہت بڑی گردن جہنم سے باہر کو نکلے گی وہ مشرکین کو، آخرت کے منکرین کو اور سرکش و نافرمان لوگوں کو جہنم میں لے جا کر گرائے گی۔
۶۔ نیز اس باب سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن لوگوں کے اعمال کا وزن کرنے کے لیے ترازو رکھے جائیں گے۔ ان میں انسانوں کا اور ان کے اعمال کا وزن کیا جائے گا۔
۷۔ اور اعمال کے موقعہ پر ایک آدمی ایسا ہوگا کہ اس کے گناہ بہت زیادہ ہوں گے اسے جہنم کی طرف روانہ کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا کہ اس کی ایک نیکی ابھی ہمارے ہاںباقی ہے چنانچہ ایک کاغذ لایا جائے گا جس پر لا الہ الا اللہ لکھا ہوگا اس کی برکت سے وہ نجات پائے گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس نے زندگی بھر شرک نہیں کیا ہوگا۔ اور اس کا عقیدہ توحید پختہ ہوگا۔ وہ گناہوں کے باوجود محض عقیدۂ توحید کی برکت سے جنت میں چلا جائے گا۔ والحمدللہ۔
۲۔ نیز معلوم ہوا کہ تین مواقع پر کوئی کسی کو یاد نہیں کرے گا۔ میزان کے قریب جب اعمال کا وزن کیا جارہا ہوگا۔ اور جب نامہ ہائے اعمال اڑ رہے ہوں گے اور ہر شخص اپنے اپنے نامہ اعمال کو حاصل کرنے کی فکر میں ہوگا کہ اسے داہنے ہاتھ میں نامہ اعمال ملتا ہے۔ یا بائیں ہاتھ میں اور تیسرا موقعہ پل صراط کے اوپر سے گزرنے کا ہے۔
۳۔ نیز معلوم ہوا کہ پل صراط پل سے بھی زیادہ باریک اور تلوار سے زیادہ تیز ہے۔ اور وہ جہنم کے اوپر ہے۔ ہر آدمی کو اس سے گزرنا ہوگا
۴۔ او رلوگ اپنے اپنے اعمال کے حساب سے وہاں سے گزر جائیں گے۔ بعض لوگ نگاہ کی رفتار سے، بعض بجلی کی رفتار سے، بعض بہترین تیز رفتار گھوڑے کی رفتار سے اور بعض عام سواروں کی رفتار سے اور بعض گرتے پڑتے زخمی ہوتے بہرحال گزر ہی جائیں گے۔ البتہ کفار، باغی، سرکش، مشرک، بدعتی اور اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کو فرشتے کھینچ لیں گے اور وہ نیچے جہنم میں جاگریں گے۔
۵۔ اسی طرح قیامت کے دن ایک بہت بڑی گردن جہنم سے باہر کو نکلے گی وہ مشرکین کو، آخرت کے منکرین کو اور سرکش و نافرمان لوگوں کو جہنم میں لے جا کر گرائے گی۔
۶۔ نیز اس باب سے معلوم ہوا کہ قیامت کے دن لوگوں کے اعمال کا وزن کرنے کے لیے ترازو رکھے جائیں گے۔ ان میں انسانوں کا اور ان کے اعمال کا وزن کیا جائے گا۔
۷۔ اور اعمال کے موقعہ پر ایک آدمی ایسا ہوگا کہ اس کے گناہ بہت زیادہ ہوں گے اسے جہنم کی طرف روانہ کیا جائے گا تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہا جائے گا کہ اس کی ایک نیکی ابھی ہمارے ہاںباقی ہے چنانچہ ایک کاغذ لایا جائے گا جس پر لا الہ الا اللہ لکھا ہوگا اس کی برکت سے وہ نجات پائے گا۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس نے زندگی بھر شرک نہیں کیا ہوگا۔ اور اس کا عقیدہ توحید پختہ ہوگا۔ وہ گناہوں کے باوجود محض عقیدۂ توحید کی برکت سے جنت میں چلا جائے گا۔ والحمدللہ۔
الحكم على الحديث: صحیح