الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. التَّعَوذُ مِنَ النَّارِ وَسُوَّالُ اللَّهِ الْجَنَّةَ وَأَنَّهُمَا أَقْرَبُ إِلَى الْإِنْسَانَ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ
جہنم سے اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگنے اور اس سے جنت کا سوال کرنے کا بیان اور اس امر کی وضاحت کہ یہ دونوں انسان کے تسمے سے زیادہ قریب ہیں
حدیث نمبر: 13200
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ”مَا اسْتَجَارَ عَبْدٌ مِنَ النَّارِ ثَلَاثَ مَرَّاتٍ إِلَّا قَالَتِ النَّارُ: اللَّهُمَّ أَجِرْهُ مِنِّي وَلَا يَسْأَلُ الْجَنَّةَ إِلَّا قَالَتِ الْجَنَّةُ: اللَّهُمَّ أَدْخِلْهُ إِيَّايَ“
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جو آدمی تین مرتبہ جہنم سے پناہ مانگتا ہے، تو جہنم کہتی ہے: اے اللہ! اس کو مجھ سے دور رکھنا، اسی طرح جوآدمی اللہ تعالیٰ سے جنت کا سوال کرتا ہے، توجنت کہتی ہے: اے اللہ! اس بندے کو میرے اندر داخل کرنا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13200]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه الترمذي: 2572، والنسائي: 8/279، وابن ماجه: 4340، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12170 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12194»
وضاحت: فوائد: … اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ کرم نوازی ہے تو ہمیں بھی باشعور رہنا چاہیے اور کثرت سے جنت کا سوال کرنا چاہیے اور جہنم سے پناہ مانگنی چاہیے۔
الحكم على الحديث:
حديث صحيح
حدیث نمبر: 13201
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”الْجَنَّةُ أَقْرَبُ إِلَى أَحَدِكُمْ مِنْ شِرَاكِ نَعْلِهِ وَالنَّارُ مِثْلُ ذَلِكَ“
سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جنت تمہارے جوتے کے تسمے سے زیادہ تمہارے قریب ہے اور جہنم بھی اسی طرح ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13201]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 6488، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 3923 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3923»
وضاحت: فوائد: … بس موت کے قریب ہونے کی دیر ہے، سب کچھ واضح ہو جائے گا اور جنت یا جہنم کے مقدمات شروع ہو جائیں گے۔ نَسْأَلُ اللّٰہَ الْجَنَّۃَ وَنَعُوْذُ بِہٖ مِنَ النَّارِ۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 6488