الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. حَرُهَا وَبَرْدُ زَمْهَرِيرِهَا
اس کی گرمی اور اس کے زمہریر کی ٹھنڈک کا بیان
حدیث نمبر: 13202
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَعَمْرٌو عَنْ يَحْيَى بْنِ جَعْدَةَ ”إِنَّ نَارَكُمْ هَذِهِ جُزْءٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ نَارِ جَهَنَّمَ وَضُرِبَتْ بِالْبَحْرِ مَرَّتَيْنِ وَلَوْلَا ذَلِكَ مَا جَعَلَ اللَّهُ فِيهَا مَنْفَعَةً لِأَحَدٍ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری یہ دنیا والی آگ، جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے، جہنم کی آگ کو دو دفعہ سمندر پر ما رکر ہلکا اور ٹھنڈا کیا گیا، اور اگر ایسا نہ کیا جاتا تو کوئی آدمی بھی اس سے فائدہ نہ اٹھا سکتا۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13202]
تخریج الحدیث: «صحيح علي شرط الشيخين، أخرجه البيھقي في البعث والنشور: 500، وابن حبان: 7462، وأخرجه بنحوه البخاري: 3265، ومسلم: 2843، وھو الحديث الآتي برقم (13204)، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7327 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7323»
الحكم على الحديث:
صحيح علي شرط الشيخين
حدیث نمبر: 13203
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَيْضًا أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”هَذِهِ النَّارُ جُزْءٌ مِنْ مِائَةِ جُزْءٍ مِنْ جَهَنَّمَ“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: دنیا کی یہ آگ جہنم کی آگ کا (۱۰۰) واں حصہ ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13203]
تخریج الحدیث: «اسناده قوي، وقد صح الحديث من طرق عن ابي ھريرة بلفظ: ((سبعين جزء ا))، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8921 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8910»
الحكم على الحديث:
اسناده قوي
حدیث نمبر: 13204
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ”نَارُكُمْ هَذِهِ مَا يُوقِدُ بَنُو آدَمَ جُزْءٌ وَاحِدٌ مِنْ سَبْعِينَ جُزْءًا مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ“ قَالُوا وَاللَّهِ إِنْ كَانَتْ لَكَافِيَةً يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ ”فَإِنَّهَا فُضِّلَتْ عَلَيْهَا بِتِسْعٍ وَسِتِّينَ جُزْءًا كُلُّهُنَّ مِثْلُ حَرِّهَا“
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تمہاری یہ آگ، جسے انسان جلاتے ہیں، جہنم کی آگ کا سترواں حصہ ہے۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! لوگوں کو عذاب دینے کے لیے تو یہی آگ کافی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بہرحال جہنم کی آگ اِس آگ کی بہ نسبت مزید انہتر گنا تیز ہے، ہر ایک کی حرارت اس کی طرح ہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13204]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3265، ومسلم: 2843، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 8126 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 8111»
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3265
حدیث نمبر: 13205
وَعَنْهُ أَيْضًا عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ ”اشْتَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا فَقَالَتْ رَبِّ أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا فَنَفِّسْنِي فَأَذِنَ لَهَا فِي كُلِّ عَامٍ بِنَفَسَيْنِ وَفِي رِوَايَةٍ نَفَسٍ فِي الشِّتَاءِ وَنَفَسٍ فِي الصَّيْفِ فَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْبَرْدِ مِنْ زَمْهَرِيرِ جَهَنَّمَ وَأَشَدُّ مَا تَجِدُونَ مِنَ الْحَرِّ مِنْ حَرِّ جَهَنَّمَ وَفِي رِوَايَةٍ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ“
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم نے اپنے ربّ سے شکایت کرتے ہوئے کہا: اے میرے رب! میرا بعض حصہ بعض حصے کو کھا رہا ہے، لہذا مجھے سانس لینے کی اجازت دو، اللہ تعالیٰ نے اس کو ہر ایک سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی، ایک سانس سردیوں میں اور ایک سانس گرمیوں میں، یہ جو تم شدید ٹھنڈک محسوس کرتے ہو، وہ جہنم کی سخت سردی کا اثر ہوتا ہے اور جو تم شدید گرمی محسوس کرتے ہو، وہ جہنم کی گرمی کا یا بھاپ کا اثر ہوتاہے۔ [الفتح الربانی/كِتَابُ النَّارِ وَالْجَنَّةِ/حدیث: 13205]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3260، ومسلم: 617، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7722 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7708»
وضاحت: فوائد: … ان احادیث کے ظاہری الفاظ سے جو بات سمجھ آ رہی ہے، اسی کو برحق سمجھا جائے کہ گرمی اور سردی کی اصل وجہ جہنم ہے اور اس کی حقیقت کو اُس ذات کے سپرد کر دیا جائے، جو اپنی مخلوق کے حقائق کو جانتی ہے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا میں پائی جانے والی آگ، جہنم کی آگ کی حرارت کا سترہواں حصہ ہے، لیکن اس میں جب کوئی انسان گر جاتا ہے تو وہ دو تین منٹ کے اندر اندر جل کر ختم ہو جاتا ہے، لیکن جہنم کی آگ میں بندہ ختم نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے۔
حیران کن بات یہ ہے کہ دنیا میں پائی جانے والی آگ، جہنم کی آگ کی حرارت کا سترہواں حصہ ہے، لیکن اس میں جب کوئی انسان گر جاتا ہے تو وہ دو تین منٹ کے اندر اندر جل کر ختم ہو جاتا ہے، لیکن جہنم کی آگ میں بندہ ختم نہیں ہو گا، اللہ تعالیٰ اپنی پناہ میں رکھے۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3260