🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

230. الْآيَاتُ (119 - 121) قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَمَا لَكُمْ أَلا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ إِلا مَا اضْطُرِرْتُمْ إِلَيْهِ}، إِلَى قَوْلِهِ تَعَالَى: {وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ وَإِنَّهُ لَفِسْقٌ}
باب: اللہ تعالیٰ کے قول «وَمَا لَكُمْ أَلا تَأْكُلُوا مِمَّا ذُكِرَ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ» کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 910 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 910
نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ: سَمِعْتُ عَطِيَّةَ الْعَوْفِيَّ، " يَقْرَأُ: وَقَدْ فَصَلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ" .
عطیہ عوفی رحمہ اللہ اس آیت کو اس طرح پڑھتے تھے: ﴿وَقَدْ فَصَّلَ لَكُمْ مَا حَرَّمَ عَلَيْكُمْ﴾ یعنی اور اللہ نے تم پر جو چیزیں حرام کی ہیں انہیں تفصیل سے بیان کر دیا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 910]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

الحكم على الحديث: سنده حسن لذاته عن عطية، ولكنها قراءة غير معروفة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 911 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 911
نَا نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي دَاوُدُ بْنُ صَالِحٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ مَرَّ بِالْجَزَّارِينَ، فَقَالَ:" مَنْ يَذْبَحُ لَكُمْ؟" فَقَالُوا: هَذَا. فَقَالَ:" أَنْتَ تَذْبَحُ لِهَؤُلاءِ؟" فَقَالَ: نَعَمْ. فَقَالَ:" أَخْبِرْنِي عَنْ صَلاةِ كَذَا وَكَذَا". فَلَمْ يَدْرِ، فَضَرَبَهُ وَأَخْرَجَهُ مِنَ السُّوقِ، وَضَرَبَ الْجَزَّارِينَ، وَقَالَ:" يَذْبَحُ لَكُمْ مِثْلُ هَذَا، وَاللَّهُ يَقُولُ: وَلا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللَّهِ عَلَيْهِ سورة الأنعام آية 121" .
قاسم بن محمد رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قصابوں کے پاس سے گزرے اور فرمایا: تمہارے لیے کون ذبح کرتا ہے؟ انہوں نے کہا: یہ شخص۔ عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا: کیا تم ان کے لیے ذبح کرتے ہو؟ اس نے کہا: جی ہاں۔ عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مجھے فلاں فلاں نماز کے بارے میں بتاؤ۔ وہ نہ بتا سکا، تو عمر رضی اللہ عنہ نے اسے مارا اور بازار سے نکال دیا اور قصابوں کو بھی مارا اور فرمایا: تمہارے لیے ایسا شخص ذبح کرے گا؟ حالانکہ اللہ عزوجل فرماتا ہے: ﴿وَلَا تَأْكُلُوا مِمَّا لَمْ يُذْكَرِ اسْمُ اللهِ عَلَيْهِ﴾ یعنی اور اس چیز میں سے نہ کھاؤ جس پر اللہ کا نام نہ لیا گیا ہو۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 911]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 911، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 8558»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف للانقطاع بين القاسم وعمر رضي الله عنه.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 912 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 912
نَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الرَّجُلِ يَذْبَحُ فَيَنْسَى أَنْ يُسَمِّيَ، قَالَ: " كَرِهَهُ، وَلَمْ يَقُلْ: إِنَّهُ حَرَامٌ" .
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ جب کوئی شخص ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے تو انہوں نے اسے ناپسند فرمایا، لیکن یہ نہیں کہا کہ وہ حرام ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 912]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 912، 913، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4804، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 8540»

الحكم على الحديث: سنده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 913 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 913
نَا أَبُو الأَحْوَصِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، فِي الرَّجُلِ يَذْبَحُ، فَيَنْسَى أَنْ يُسَمِّيَ , قَالَ:" يَأْكُلُ" .
ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ اگر کوئی شخص ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لینا بھول جائے تو انہوں نے فرمایا: وہ گوشت کھا سکتا ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 913]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 912، 913، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4804، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 8540»

الحكم على الحديث: سنده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 914 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 914
نَا نَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ عَيْنٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، فِيمَنْ يَذْبَحُ وَيَنْسَى التَّسْمِيَةَ، قَالَ:" الْمُسْلِمُ فِيهِ اسْمُ اللَّهِ، وَإِنْ لَمْ يَذْكُرِ التَّسْمِيَةَ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جو مسلمان ذبح کرتے وقت تسمیہ یعنی اللہ کا نام لینا بھول جائے تو فرمایا: مسلمان پر اللہ کا نام ہوتا ہے، چاہے وہ تسمیہ ذکر نہ کرے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 914]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى (مستدركه) برقم: 7667، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 914، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18957، 18958، 18959، والدارقطني فى (سننه) برقم: 4805، 4806، 4808، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 2319، وأخرجه عبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 8541، 8548»
قال ابن حجر: سنده صحيح، فتح الباري شرح صحيح البخاري: (9 / 538)

الحكم على الحديث: سنده صحيح.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 915 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 915
نَا نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي زِيَادٍ، عَنْ عَطَاءٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: " مَنْ ذَبَحَ فَنَسِيَ أَنْ يُسَمِّيَ , فَلْيَذْكُرِ اسْمَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْهِ، وَلْيَأْكُلْ , وَلا يَدَعُهُ لِلشَّيْطَانِ إِذَا ذَبَحَ عَلَى الْفِطْرَةِ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: جو شخص ذبح کرے اور اللہ کا نام لینا بھول جائے تو وہ اللہ عزوجل کا نام لے اور کھالے، اور اسے شیطان کے لیے نہ چھوڑے، بشرطیکہ اس نے فطرت یعنی اسلامی طریقے پر ذبح کیا ہو۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 915]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 915، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 18960، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 8538»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف لضعف يزيد بن أبي زياد، وهو صحيح لغيره بالطريق السابق
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 916 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 916
نَا نَا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ سُمَيْعٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ عُمَيْرٍ: أَنَّ وَالانَ مَرَّ عَلَى بَغْلَةٍ لَهُ، قَالَ: فَانْتَهَيْتُ إِلَى الدَّارِ، قَالَ: وَشَاةٌ مَذْبُوحَةٌ، فَقَالَ لِنِسْوَةٍ حَوْلَهَا: مَنْ ذَبَحَهَا؟ فَقُلْنَ: ذَبَحَهَا فُلانٌ غُلامُكَ. فَقَالَ: وَاللَّهِ مَا يُصَلِّي غُلامِي. فَقُلْنَ: وَلَكِنْ عَلَّمْنَاهُ فَسَمَّى. فَرَجَعْتُ كَمَا أَنَا، فَأَتَيْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ، فَأَنْبَأْتُهُ بِتَعْلِيمِ النِّسْوَةِ إِيَّاهُ التَّسْمِيَةَ، فَقَالَ:" كُلْ" .
مالک بن عمیر رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: میں اپنے خچر پر سوار ہو کر چلا جا رہا تھا کہ ایک گھر کے قریب پہنچا، وہاں ایک ذبح شدہ بکری تھی۔ تو اس کے اردگرد عورتوں سے پوچھا: اسے کس نے ذبح کیا؟ انہوں نے کہا: تمہارے غلام نے۔ میں نے کہا: اللہ کی قسم! میرا غلام تو نماز نہیں پڑھتا! عورتوں نے کہا: ہم نے اسے سکھایا تھا اور اس نے اللہ کا نام لے کر ذبح کیا تھا۔ تو میں وہیں سے واپس لوٹ آیا اور سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس آیا اور عورتوں کے غلام کو تسمیہ سکھانے کا واقعہ انہیں بتایا، تو ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کھا لو۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ التَّفْسِيرِ/حدیث: 916]
تخریج الحدیث: «أخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 39، وسعيد بن منصور فى (سننه) برقم: 916، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 8564»

الحكم على الحديث: سنده ضعيف لجهالة والان وجهالة مالك بن عمير.
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں