سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
66. بَابٌ: فِيمَا يَجِبُ بِهِ الصَّدَاقُ
مہر کے واجب ہونے کا بیان
ترقیم دار السلفیہ: 767 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1944
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ،" أَنَّ عَمْرَو بْنَ نَافِعٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، وَكَانَتْ قَدْ أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ، فَزَعَمَ أَنَّهُ لَمْ يَقْرَبْهَا وَزَعَمَتْ أَنَّهُ قَدْ قَرَبَهَا، فَخَاصَمَتْهُ إِلَى شُرَيْحٍ فَصَبَرَ يَمِينَ عَمْرٍو بِاللَّهِ الَّذِي لا إِلَهَ إِلا هُوَ مَا قَرَبَهَا، وَقَضَى عَلَيْهِ بِنِصْفِ الصَّدَاقِ" .
عمرو بن نافع نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور دعویٰ کیا کہ اس نے اسے نہیں چھوا، عورت نے مخالفت کی، معاملہ حضرت شریح رحمہ اللہ کے پاس گیا۔ حضرت شریح نے عمرو سے قسم لی اور عورت کے حق میں نصف مہر کا فیصلہ کیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1944]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 767، 768، 769، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14591، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10887»
ترقیم دار السلفیہ: 768 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1945
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا سَيَّارٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ شُرَيْحٍ مِثْلَ ذَلِكَ.
حضرت شریح قاضی رحمہ اللہ نے اسی طرح فیصلہ فرمایا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1945]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 767، 768، 769، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14591، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10887»
ترقیم دار السلفیہ: 769 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1946
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا حُصَيْنُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ عَمْرَو بْنَ نَافِعٍ، تَزَوَّجَ بِنْتَ يَحْيَى بْنِ الْجَزَّارِ , فَطَلَّقَهَا، وَزَعَمَ أَنَّهُ لَمْ يَقْرَبْهَا، فَخَاصَمُوهُ إِلَى شُرَيْحٍ فَاسْتَحْلَفَهُ وَقَضَى عَلَيْهِ بِنِصْفِ الصَّدَاقِ" .
عمرو بن نافع نے سیدہ بنت یحییٰ بن الجزار سے نکاح کیا اور طلاق دی، اور دعویٰ کیا کہ اس نے بیوی کو نہیں چھوا۔ حضرت شریح رحمہ اللہ نے قسم لے کر عورت کے حق میں نصف مہر کا فیصلہ دیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1946]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 767، 768، 769، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14591، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10887»
ترقیم دار السلفیہ: 770 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1947
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَزْرَةَ، عَنْ شُرَيْحٍ، أَنَّهُ قَالَ لَهَا: " لا , لا أُصَدِّقُكِ لِنَفْسِكِ، وَأَتَّهِمُكِ لِنَفْسِكَ". قَالَ هُشَيْمٌ: يَقُولُ: فَعَلَيْكِ الْعِدَّةُ، وَلا تَزَوَّجِي حَتَّى تَعْتَدِّي .
حضرت شریح رحمہ اللہ نے عورت سے کہا: ”میں تیرے حق میں تیرے قول کو تسلیم نہیں کرتا، اور تمہیں خود پر متہم کرتا ہوں۔“ اور فرمایا: ”تم پر عدت واجب ہے اور عدت پوری کیے بغیر نکاح نہ کرو۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1947]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 771 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1948
نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ , أَنَّ رَجُلا تَزَوَّجَ امْرَأَةً وَكَانَ يَبِيتُ عِنْدَهَا فَطَلَّقَهَا، فَقَالَتْ: لَمْ يَقْرَبْنِي وَكَانَ يَبِيتُ عِنْدِي وَعَلَيَّ ثِيَابِي , قَالَ:" عَلَيْهَا الْعِدَّةُ وَلَهَا الصَّدَاقُ , أَلا تَرَى أَنَّهَا لَوِ ادَّعَتْ حَمْلا صُدِّقَتْ" .
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے نکاح کیا، اس کی بیوی نے کہا: وہ رات میرے پاس گزارتا مگر کپڑے بدستور ہوتے۔ حضرت ابراہیم نے فرمایا: ”اس عورت پر عدت واجب ہے اور اس کا مہر بھی لازم ہے۔ دیکھتے نہیں کہ اگر عورت حمل کا دعویٰ کرے تو بھی اس کی تصدیق کی جاتی ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1948]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 772 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 1949
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا لَيْثٌ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ إِذَا أُدْخِلَتْ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ، ثُمَّ طَلَّقَهَا فَزَعَمَ أَنَّهُ لَمْ يَمَسَّهَا، قَالَ:" عَلَيْهِ نِصْفُ الصَّدَاقِ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ اگر مرد عورت کو اپنے نکاح میں لائے اور طلاق دے دے اور دعویٰ کرے کہ میں نے اسے نہیں چھوا، تو اس پر نصف مہر واجب ہو گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ النِّكَاحِ/حدیث: 1949]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 772، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14588»