صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
3. باب مِنْ فَضَائِلِ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی بزرگی کا بیان۔
ترقیم عبدالباقی: 2401 ترقیم شاملہ: -- 6209
حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ يَحْيَي ، وَيَحْيَي بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ حُجْرٍ ، قَالَ يَحْيَي بْنُ يَحْيَي: أَخْبَرَنَا، وقَالَ الْآخَرُونَ حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَسُلَيْمَانَ ابني يسار ، وأبي سلمة بن عبد الرحمن ، أن عائشة ، قَالَتْ: " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِي، كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ أَوْ سَاقَيْهِ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَتَحَدَّثَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ، فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ كَذَلِكَ، فَتَحَدَّثَ ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَّى ثِيَابَهُ، قَالَ مُحَمَّدٌ: وَلَا أَقُولُ ذَلِكَ فِي يَوْمٍ وَاحِدٍ، فَدَخَلَ فَتَحَدَّثَ فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ، فَلَمْ تَهْتَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ فَجَلَسْتَ وَسَوَّيْتَ ثِيَابَكَ، فَقَالَ: أَلَا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلَائِكَةُ ".
محمد بن ابی حرملہ نے یسار کے دونوں بیٹوں عطاء اور سلیمان اور ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، رانیں یا پنڈلیاں کھولے ہوئے تھے کہ اتنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں اجازت دے دی اور باتیں کرتے رہے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو انہیں بھی اسی حالت میں اجازت دے دی اور باتیں کرتے رہے۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور کپڑے برابر کر لیے۔ پھر وہ آئے اور باتیں کیں۔ (راوی محمد کہتا ہے کہ میں نہیں کہتا کہ تینوں کا آنا ایک ہی دن ہوا) جب وہ چلے گئے تو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خیال نہ کیا، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خیال نہ کیا، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کر لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6209]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے گھر میں لیٹے ہوئے تھے، رانیں یا پنڈلیاں کھولے ہوئے تھے کہ اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اجازت مانگی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی حالت میں اجازت دے دی اور باتیں کرتے رہے۔ پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو انہیں بھی اسی حالت میں اجازت دے دی اور باتیں کرتے رہے۔ پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اجازت چاہی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور کپڑے برابر کر لیے۔ پھر وہ آئے اور باتیں کیں۔ (راوی محمد کہتا ہے کہ میں نہیں کہتا کہ تینوں کا آنا ایک ہی دن ہوا) جب وہ چلے گئے تو ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خیال نہ کیا، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ آئے تو بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ خیال نہ کیا، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھ گئے اور اپنے کپڑے درست کر لیے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں اس شخص سے حیا نہ کروں جس سے فرشتے حیا کرتے ہیں؟“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6209]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2401
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2402 ترقیم شاملہ: -- 6210
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ شُعَيْبِ بْنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ جَدِّي ، حَدَّثَنِي عُقَيْلُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَائِشَةَ زَوْجَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعُثْمَانَ حَدَّثَاهُ: " أَنَّ أَبَا بَكْرٍ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ مُضْطَجِعٌ عَلَى فِرَاشِهِ، لَابِسٌ مِرْطَ عَائِشَةَ، فَأَذِنَ لِأَبِي بَكْرٍ وَهُوَ كَذَلِكَ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ ثُمَّ انْصَرَفَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَقَضَى إِلَيْهِ حَاجَتَهُ، ثُمَّ انْصَرَفَ، قَالَ عُثْمَانُ: ثُمَّ اسْتَأْذَنْتُ عَلَيْهِ فَجَلَسَ، وَقَالَ لِعَائِشَةَ: اجْمَعِي عَلَيْكِ ثِيَابَكِ، فَقَضَيْتُ إِلَيْهِ حَاجَتِي، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَالِي لَمْ أَرَكَ، فَزِعْتَ لِأَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، كَمَا فَزِعْتَ لِعُثْمَانَ، قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّ عُثْمَانَ رَجُلٌ حَيِيٌّ، وَإِنِّي خَشِيتُ إِنْ أَذِنْتُ لَهُ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ أَنْ لَا يَبْلُغَ إِلَيَّ فِي حَاجَتِهِ ".
عقیل بن خالد نے ابن شہاب سے، انہوں نے یحییٰ بن سعید بن عاص سے روایت کی، انہیں سعید بن عاص نے بتایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ان سے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ آپ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں اندر آنے کی اجازت دے دی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی بات کی، پھر چلے گئے، ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی، آپ نے اجازت دے دی۔ وہ بھی جس کام کے لیے آئے تھے، وہ کیا، پھر چلے گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے آپ کے پاس حاضری کی اجازت چاہی تو آپ اٹھ کر بیٹھ گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا: ”اپنے کپڑے اپنے اوپر اکھٹے کر لو۔“ پھر میں جس کام کے لیے آیا تھا وہ کیا اور واپس آگیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اللہ کے رسول! کیا وجہ ہے کہ میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ کے لیے اس طرح ہڑبڑا کر اٹھے ہوں جس طرح عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے اٹھے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عثمان انتہائی حیادار ہیں، مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے اسی حالت میں ان کو آنے کی اجازت دی تو وہ اپنی ضرورت کے بارے میں مجھ سے بات نہیں کر سکیں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6210]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اہلیہ حضرت عائشہ اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہما نے ان سے بیان کیا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے بستر پر لیٹے ہوئے تھے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی چادر اوڑھ رکھی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس حالت میں اندر آنے کی اجازت دے دی، حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی بات کی، پھر چلے گئے، ان کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اجازت طلب کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ وہ بھی جس کام کے لیے آئے تھے، وہ کیا، پھر چلے گئے۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضری کی اجازت چاہی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر بیٹھ گئے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا: ”اپنے کپڑے اپنے اوپر اکٹھے کر لو۔“ پھر میں جس کام کے لیے آیا تھا وہ کیا اور واپس آ گیا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! کیا وجہ ہے میں نے آپ کو نہیں دیکھا کہ آپ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے لیے اس طرح ہڑبڑا کے اٹھے ہوں جس طرح عثمان رضی اللہ عنہ کے لیے اٹھے؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عثمان انتہائی حیا دار ہیں، مجھے ڈر تھا کہ اگر میں نے اسی حالت میں ان کو آنے کی اجازت دی تو وہ اپنی ضرورت کے بارے میں مجھ سے بات نہیں کر سکیں گے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6210]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2402
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2402 ترقیم شاملہ: -- 6211
وحَدَّثَنَاه عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَالْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَعَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ كُلُّهُمْ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي يَحْيَي بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ، أَنَّ سَعِيدَ بْنَ الْعَاصِ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عُثْمَانَ وَعَائِشَةَ حَدَّثَاهُ: أَنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ اسْتَأْذَنَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَذَكَرَ بِمِثْلِ حَدِيثِ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ.
صالح بن کیسان نے ابن شہاب سے روایت کی، انہوں نے کہا: مجھے یحییٰ بن سعید بن عاص نے بتایا، انہیں سعید بن عاص نے خبر دی کہ حضرت عثمان اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے انہیں حدیث سنائی کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے (حاضر ہونے کی) اجازت طلب کی، پھر زہری سے عقیل کی حدیث کے مانند بیان کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6211]
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتے ہیں کہ ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت طلب کی، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6211]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2402
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2403 ترقیم شاملہ: -- 6212
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى الْعَنَزِيُّ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: " بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَائِطٍ مِنْ حَائِطِ الْمَدِينَةِ وَهُوَ مُتَّكِئٌ، يَرْكُزُ بِعُودٍ مَعَهُ بَيْنَ الْمَاءِ وَالطِّينِ، إِذَا اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ، فَقَالَ: افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَإِذَا أَبُو بَكْرٍ فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ، فَقَالَ: افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَذَهَبْتُ، فَإِذَا هُوَ عُمَرُ، فَفَتَحْتُ لَهُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، ثُمَّ اسْتَفْتَحَ رَجُلٌ آخَرُ، قَالَ: فَجَلَسَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: افْتَحْ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ عَلَى بَلْوَى تَكُونُ، قَالَ: فَذَهَبْتُ، فَإِذَا هُوَ عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، قَالَ: فَفَتَحْتُ وَبَشَّرْتُهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: وَقُلْتُ: الَّذِي قَالَ: فَقَالَ: اللَّهُمَّ صَبْرًا أَوِ اللَّهُ الْمُسْتَعَانُ ".
عثمان بن غیاث نے ابوعثمان نہدی سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے پاس جو لکڑی تھی اس (کی نوک) کو پانی اور مٹی کے درمیان مار رہے تھے کہ ایک شخص نے (باغ کا دروازہ) کھولنے کی درخواست کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دروازہ کھول دو اور اس (آنے والے) کو جنت کی خوشخبری سنا دو۔“ (ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی بشارت دی، کہا: پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دروازہ کھول دو اور اسے (بھی) جنت کی خوشخبری سنا دو۔“ میں گیا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے۔ میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی بشارت دی، اس کے بعد ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی، کہا: تو آپ (سیدھے ہو کر) بیٹھ گئے، پھر فرمایا: ”دروازہ کھولو اور فتنے پر جو (برپا) ہوگا، انہیں جنت کی خوشخبری دے دو۔“ کہا: میں گیا تو وہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے۔ کہا: میں نے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری دی اور آپ نے جو کچھ فرمایا تھا، انہیں بتایا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ صبر عطا فرما اور اللہ ہی ہے جس سے مدد طلب کی جاتی ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6212]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ کے باغوں میں سے ایک باغ میں ٹیک لگائے بیٹھے ہوئے تھے، آپ کے پاس جو لکڑی تھی اس (کی نوک) کو پانی اور مٹی کے درمیان مار رہے تھے کہ ایک شخص نے (باغ کا دروازہ) کھولنے کی درخواست کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دروازہ کھول دو اور اس (آنے والے) کو جنت کی خوشخبری سنا دو۔“ (ابو موسیٰ رضی اللہ عنہ نے) کہا: وہ ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی بشارت دی، کہا: پھر ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دروازہ کھول دو اور اسے (بھی) جنت کی خوشخبری سنا دو۔“ میں گیا تو وہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ تھے، میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی بشارت دی، اس کے بعد ایک اور شخص نے دروازہ کھولنے کی درخواست کی، کہا: تو آپ (سیدھے ہو کر) بیٹھ گئے، پھر فرمایا: ”دروازہ کھولو اور فتنے پر جو (برپا) ہوگا، انہیں جنت کی خوشخبری دے دو۔“ کہا: میں گیا تو وہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ تھے، کہا: میں نے دروازہ کھولا اور انہیں جنت کی خوشخبری دی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو کچھ فرمایا تھا، انہیں بتایا، انہوں نے کہا: «اللَّهُمَّ صَبْرًا، وَاللَّهُ الْمُسْتَعَانُ» ”اے اللہ صبر عطا فرمانا اور اللہ ہی ہے جس سے مدد طلب کی جاتی ہے۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6212]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2403
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2403 ترقیم شاملہ: -- 6213
حَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الْعَتَكِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ النَّهْدِيِّ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ حَائِطًا، وَأَمَرَنِي أَنْ أَحْفَظَ الْبَابَ، بِمَعْنَى حَدِيثِ عُثْمَانَ بْنِ غِيَاثٍ.
ایوب نے ابوعثمان نہدی سے، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم باغ میں گئے اور مجھے حکم دیا کہ میں دروازے کی حفاظت کروں۔ (پھر) عثمان بن غیاث کی حدیث کے ہم معنی (حدیث بیان کی۔) [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6213]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک باغ میں داخل ہوئے اور مجھے دروازے کی حفاظت کرنے کا حکم دیا، آگے مذکورہ بالا روایت ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6213]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2403
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2403 ترقیم شاملہ: -- 6214
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مِسْكِينٍ الْيَمَامِيُّ ، حَدَّثَنَا يَحْيَي بْنُ حَسَّانَ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ وَهُوَ ابْنُ بِلَالٍ ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ ، أَنَّهُ تَوَضَّأَ فِي بَيْتِهِ ثُمَّ خَرَجَ، فَقَالَ: " لَأَلْزَمَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَأَكُونَنَّ مَعَهُ يَوْمِي هَذَا، قَالَ: فَجَاءَ الْمَسْجِدَ، فَسَأَلَ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: خَرَجَ وَجَّهَ هَاهُنَا، قَالَ: فَخَرَجْتُ عَلَى أَثَرِهِ أَسْأَلُ عَنْهُ حَتَّى دَخَلَ بِئْرَ أَرِيسٍ، قَالَ: فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ، وَبَابُهَا مِنْ جَرِيدٍ حَتَّى قَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَاجَتَهُ وَتَوَضَّأَ، فَقُمْتُ إِلَيْهِ، فَإِذَا هُوَ قَدْ جَلَسَ عَلَى بِئْرِ أَرِيسٍ، وَتَوَسَّطَ قُفَّهَا، وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ، قَالَ: فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ انْصَرَفْتُ، فَجَلَسْتُ عِنْدَ الْبَابِ، فَقُلْتُ لَأَكُونَنَّ بَوَّابَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْيَوْمَ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ، فَدَفَعَ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: أَبُو بَكْرٍ، فَقُلْتُ: عَلَى رِسْلِكَ، قَالَ: ثُمَّ ذَهَبْتُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَأَقْبَلْتُ حَتَّى قُلْتُ لِأَبِي بَكْرٍ: ادْخُلْ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُبَشِّرُكَ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَدَخَلَ أَبُو بَكْرٍ فَجَلَسَ عَنْ يَمِينِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُ فِي الْقُفِّ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ كَمَا صَنَعَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ، ثُمَّ رَجَعْتُ، فَجَلَسْتُ وَقَدْ تَرَكْتُ أَخِي يَتَوَضَّأُ وَيَلْحَقُنِي، فَقُلْتُ: إِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِفُلَانٍ يُرِيدُ أَخَاهُ خَيْرًا يَأْتِ بِهِ، فَإِذَا إِنْسَانٌ يُحَرِّكُ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟، فَقَالَ: عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ، فَقُلْتُ: عَلَى رِسْلِكَ، ثُمَّ جِئْتُ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمْتُ عَلَيْهِ، وَقُلْتُ: هَذَا عُمَرُ يَسْتَأْذِنُ، فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ، فَجِئْتُ عُمَرَ، فَقُلْتُ: أَذِنَ وَيُبَشِّرُكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ، قَالَ: فَدَخَلَ فَجَلَسَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الْقُفِّ عَنْ يَسَارِهِ، وَدَلَّى رِجْلَيْهِ فِي الْبِئْرِ، ثُمَّ رَجَعْتُ، فَجَلَسْتُ، فَقُلْتُ: إِنْ يُرِدِ اللَّهُ بِفُلَانٍ خَيْرًا يَعْنِي أَخَاهُ يَأْتِ بِهِ، فَجَاءَ إِنْسَانٌ فَحَرَّكَ الْبَابَ، فَقُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ فَقَالَ: عُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ، فَقُلْتُ: عَلَى رِسْلِكَ، قَالَ وَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: ائْذَنْ لَهُ وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَى تُصِيبُهُ، قَالَ: فَجِئْتُ، فَقُلْتُ: ادْخُلْ وَيُبَشِّرُكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْجَنَّةِ مَعَ بَلْوَى تُصِيبُكَ، قَالَ: فَدَخَلَ فَوَجَدَ الْقُفَّ قَدْ مُلِئَ فَجَلَسَ وِجَاهَهُمْ مِنَ الشِّقِّ الْآخَرِ، قَالَ شَرِيكٌ: فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ الْمُسَيِّبِ: فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُمْ ".
یحییٰ بن حسان نے کہا: ہمیں سلیمان بن بلال نے شریک بن ابی نمر سے، انہوں نے سعید بن مسیب سے روایت کی، کہا: مجھے سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے خبر دی کہ انہوں نے اپنے گھر میں وضو کیا، پھر باہر نکلے۔ سیدنا ابوموسیٰ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ آج میں دن بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی رہوں گا۔ کہتے ہیں کہ پھر مسجد میں آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے کہا کہ باہر اس طرف تشریف لے گئے ہیں۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نشان پر چلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لوگوں سے پوچھتا جاتا تھا۔ چلتے چلتے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقام اریس پر باغ میں گئے ہیں۔ میں دروازے کے قریب بیٹھ گیا جو کھجور کی ڈالیوں کا بنا ہوا تھا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہوئے اور وضو کر چکے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اریس کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھے ہیں اور دونوں پنڈلیاں کھول کر کنوئیں میں لٹکا دی ہیں۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور پھر لوٹ کر دروازے کے قریب بیٹھ گیا۔ میں نے (دل میں) کہا کہ میں آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دربان، چوکیدار رہوں گا۔ اتنے میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور دروازے کو دھکیلا۔ میں نے پوچھا کون ہے؟ انہوں نے کہا کہ ابوبکر ہوں، میں نے کہا ذرا ٹھہرو۔ پھر میں گیا اور کہا کہ یا رسول اللہ! ابوبکر اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو آنے دو اور جنت کی خوشخبری دو۔“ میں آیا اور سیدنا ابوبکر سے کہا کہ اندر داخل ہو، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی خوشخبری دی ہے۔ پس سیدنا ابوبکر داخل ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دائیں طرف اسی منڈیر پر دونوں پاؤں لٹکا کر پنڈلیاں کھول کر جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے، بیٹھ گئے۔ میں لوٹ آیا اور پھر بیٹھ گیا اور میں اپنے بھائی (عامر) کو گھر میں وضو کرتے چھوڑ آیا تھا، میں نے کہا کہ اگر اللہ تعالیٰ کو فلاں (یعنی) میرے بھائی کی بھلائی منظور ہے تو اس کو یہاں لے آئے گا۔ اتنے میں (کیا دیکھتا ہوں کہ) کوئی دروازہ ہلانے لگا ہے۔ میں نے پوچھا کون ہے؟ جواب آیا کہ عمر بن خطاب۔ میں نے کہا ٹھہر جا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، سلام کیا اور کہا کہ سیدنا عمر بن خطاب اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو۔“ پس میں گیا اور کہا کہ اندر داخل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے جنت کی خوشخبری دی ہے۔ پس وہ بھی داخل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف اسی منڈیر پر بیٹھ گئے اور دونوں پاؤں کنوئیں میں لٹکا دیے۔ پھر میں لوٹ آیا اور (دروازے پر) بیٹھ گیا۔ میں نے کہا کہ اگر اللہ کو فلاں آدمی (عامر) کی بھلائی منظور ہے تو اس کو بھی لے آئے گا۔ اتنے میں ایک اور آدمی نے دروازہ ہلایا۔ میں نے کہا کہ کون ہے؟ جواب دیا کہ عثمان بن عفان۔ میں نے کہا کہ ٹھہر جا۔ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری دو مگر وہ ایک مصیبت میں مبتلا ہوں گے۔“ میں آیا اور ان سے کہا کہ داخل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے جنت کی خوشخبری دی ہے مگر ایک بلا کے ساتھ جو تم پر آئے گی۔ پس وہ بھی داخل ہوئے اور دیکھا کہ منڈیر کا ایک حصہ بھر گیا ہے، پس وہ دوسرے کنارے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے۔ شریک نے کہا کہ سعید بن مسیب نے کہا کہ میں نے اس حدیث سے یہ نکالا کہ ان کی قبریں بھی اسی طرح ہوں گی۔ (ویسا ہی ہوا کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو اس حجرہ میں جگہ نہ ملی، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بقیع میں دفن ہوئے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6214]
حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے اپنے گھر میں وضو کیا، پھر باہر نکلے۔ حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے کہا کہ ”آج میں دن بھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ نہ چھوڑوں گا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ہی رہوں گا۔“ کہتے ہیں کہ پھر مسجد میں آیا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے کہا کہ باہر اس طرف تشریف لے گئے ہیں۔ میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدموں کے نشان پر چلا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں لوگوں سے پوچھتا جاتا تھا۔ چلتے چلتے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم مقامِ اریس پر ایک باغ میں گئے ہیں۔ میں دروازے کے قریب بیٹھ گیا جو کھجور کی ڈالیوں کا بنا ہوا تھا، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حاجت سے فارغ ہوئے اور وضو کر چکے تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل دیا۔ میں نے دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اریس کے کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھے ہیں اور دونوں پنڈلیاں کھول کر کنوئیں میں لٹکا دی ہیں۔ پس میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور پھر لوٹ کر دروازے کے قریب بیٹھ گیا۔ میں نے (دل میں) کہا کہ ”میں آج نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دربان، چوکیدار رہوں گا۔“ اتنے میں حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے اور دروازے کو دھکیلا۔ میں نے پوچھا: ”کون ہے؟“ انہوں نے کہا: ”ابوبکر ہوں۔“ میں نے کہا: ”ذرا ٹھہرو۔“ پھر میں گیا اور کہا کہ ”یا رسول اللہ! ابوبکر اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ان کو آنے دو اور جنت کی خوشخبری دو۔“ میں آیا اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اندر داخل ہو، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپ کو جنت کی خوشخبری دی ہے۔“ پس حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی داہنی طرف اسی منڈیر پر دونوں پاؤں لٹکا کر پنڈلیاں کھول کر جیسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تھے، بیٹھ گئے۔ میں لوٹ آیا اور پھر بیٹھ گیا اور میں اپنے بھائی (عامر) کو گھر میں وضو کرتے چھوڑ آیا تھا، میں نے کہا کہ ”اگر اللہ تعالیٰ کو فلاں (یعنی) میرے بھائی کی بھلائی منظور ہے تو اس کو یہاں لے آئے گا۔“ اتنے میں (کیا دیکھتا ہوں کہ) کوئی دروازہ ہلانے لگا ہے۔ میں نے پوچھا: ”کون ہے؟“ جواب آیا کہ ”عمر بن خطاب۔“ میں نے کہا: ”ٹھہر جا۔“ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، سلام کیا اور کہا کہ ”حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ اندر آنے کی اجازت چاہتے ہیں؟“ فرمایا: ”انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری بھی دو۔“ پس میں گیا اور کہا کہ ”اندر داخل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے جنت کی خوشخبری دی ہے۔“ پس وہ بھی داخل ہوئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بائیں طرف اسی منڈیر پر بیٹھ گئے اور دونوں پاؤں کنوئیں میں لٹکا دیے۔ پھر میں لوٹ آیا اور (دروازے پر) بیٹھ گیا۔ میں نے کہا کہ ”اگر اللہ کو فلاں آدمی (عامر) کی بھلائی منظور ہے تو اس کو بھی لے آئے گا۔“ اتنے میں ایک اور آدمی نے دروازہ ہلایا۔ میں نے پوچھا کہ ”کون ہے؟“ جواب دیا کہ ”عثمان بن عفان۔“ میں نے کہا کہ ”ٹھہر جا۔“ پھر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور بتایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انہیں اجازت دو اور جنت کی خوشخبری دو مگر وہ ایک مصیبت میں مبتلا ہوں گے۔“ میں آیا اور ان سے کہا کہ ”داخل ہو اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تجھے جنت کی خوشخبری دی ہے مگر ایک بلا کے ساتھ جو تم پر آئے گی۔“ پس وہ بھی داخل ہوئے اور دیکھا کہ منڈیر کا ایک حصہ بھر گیا ہے، پس وہ دوسرے کنارے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گئے۔ شریک نے کہا کہ سعید بن مسیب رحمہ اللہ نے کہا کہ ”میں نے اس حدیث سے یہ نکالا کہ ان کی قبریں بھی اسی طرح ہوں گی۔“ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6214]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2403
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2403 ترقیم شاملہ: -- 6215
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ ، حَدَّثَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، حَدَّثَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيِّبِ ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي أَبُو مُوسَى الْأَشْعَرِيُّ هَاهُنَا، وَأَشَارَ لِي سُلَيْمَانُ إِلَى مَجْلِسِ سَعِيدٍ نَاحِيَةَ الْمَقْصُورَةِ، قَالَ أَبُو مُوسَى: خَرَجْتُ أُرِيدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ سَلَكَ فِي الْأَمْوَالِ فَتَبِعْتُهُ، فَوَجَدْتُهُ قَدْ دَخَلَ مَالًا فَجَلَسَ فِي الْقُفِّ، وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلَّاهُمَا فِي الْبِئْرِ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ يَحْيَي بْنِ حَسَّانَ، وَلَمْ يَذْكُرْ قَوْلَ سَعِيدٍ فَأَوَّلْتُهَا قُبُورَهُمْ.
سعید بن عفیر نے کہا: مجھے سلیمان بن بلال نے حدیث بیان کی، کہا: مجھے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے حدیث بیان کی، کہا: میں نے سعید بن مسیب کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ مجھے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ نے اس جگہ (اور سلیمان نے سعید بن مسیب کے بیٹھنے کی جگہ کی جانب اشارہ کیا) حدیث سنائی۔ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے لیے نکلا۔ میں نے دیکھا کہ آپ (لوگوں کے) باغات کے اندر سے گزر کر گئے ہیں۔ میں آپ کے پیچھے ہو لیا، میں نے دیکھا کہ آپ ایک باغ کے اندر تشریف لے گئے ہیں، کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے ہیں اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا کر انہیں کنویں میں لٹکا لیا ہے، پھر یحییٰ بن حسان کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی اور (اس میں) حضرت سعید بن مسیب کا قول: ”میں نے ان کی قبریں مراد لیں“ بیان نہیں کیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6215]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادہ سے گھر سے نکلا تو مجھے معلوم ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم باغات کی طرف نکل گئے ہیں، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا پیچھا کیا، سو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس حال میں پایا کہ ایک باغ میں داخل ہو کر اس کی منڈیر پر بیٹھ گئے ہیں اور اپنی پنڈلیاں ننگی کر کے انھیں کنویں میں لٹکا لیا ہے، آگے مذکورہ بالا روایت ہے اور اس میں حضرت سعید کا قبروں کی تعبیر والا قول بیان نہیں کیا گیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6215]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2403
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
ترقیم عبدالباقی: 2403 ترقیم شاملہ: -- 6216
حَدَّثَنَا حَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحُلْوَانِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَرْيَمَ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنِي شَرِيكُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى حَائِطٍ بِالْمَدِينَةِ لِحَاجَتِهِ، فَخَرَجْتُ فِي إِثْرِهِ، وَاقْتَصَّ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ، وَذَكَرَ فِي الْحَدِيثِ، قَالَ ابْنُ الْمُسَيَّبِ: فَتَأَوَّلْتُ ذَلِكَ قُبُورَهُمُ اجْتَمَعَتْ هَاهُنَا، وَانْفَرَدَ عُثْمَانُ.
محمد بن جعفر بن ابی کثیر نے ہمیں حدیث بیان کی، کہا: مجھے شریک بن عبداللہ بن ابی نمر نے سعید بن مسیب سے خبر دی، انہوں نے حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت کی، کہا: ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضرورت کے لیے مدینہ کے ایک باغ میں تشریف لے گئے، میں آپ کے پیچھے پیچھے نکل پڑا، اور سلیمان بن بلال کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ بیان کیا کہ ابن مسیب نے کہا: میں نے ان سے ان کی قبریں مراد لیں (جو) یہاں اکھٹی ہیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی الگ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6216]
حضرت ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضرورت کے لیے مدینہ کے ایک باغ میں تشریف لے گئے، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے نکل پڑا، اور سلیمان بن بلال کی حدیث کے ہم معنی حدیث بیان کی اور حدیث میں یہ بیان کیا کہ ابن مسیب رحمہ اللہ نے کہا: میں نے ان سے ان کی قبریں مراد لیں (جو) یہاں اکٹھی ہیں اور حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی الگ ہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6216]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2403
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة