سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
111. بَابُ مَنْ رَاجِعَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ غَائِبٌ وَهِيَ لَا تَعْلَمُ
باب: اُس مرد کا بیان جس نے غیبت میں بیوی سے رجوع کیا اور بیوی کو اس کا علم نہ تھا۔
ترقیم دار السلفیہ: 1314 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2491
نا نا خَالِدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ أَبَا كَنَفٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ سَافَرَ فَرَاجَعَ امْرَأَتَهُ وَهِيَ لا تَعْلَمُ، فَاعْتَدَّتْ، فَلَمَّا انْقَضَتْ عِدَّتُهَا تَزَوَّجَتْ، فَقَدِمَ عَلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:" مِنْ قِبَلِكَ جَاءَ التَّفْرِيطُ. فَكَتَبَ لَهُ: إِنْ كَانَ زَوْجُهَا لَمْ يَدْخُلْ بِهَا فَهُوَ أَحَقُّ بِهَا. فَقَدِمَ وَقَدْ تَهَيَّأَتْ وَامْتَشَطَتْ لِيَدْخُلَ عَلَيْهَا زَوْجُهَا، وَعِنْدَهَا النِّسَاءُ، فَخَلا بِهَا، فَنَاشَدَهَا اللَّهَ، أَقَرَبَكِ؟ قَالَتْ: لا. فَأَغْلَقَ الْبَابَ دُونَ النِّسَاءِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ قَرَأَ عَلَيْهِمْ كِتَابَ عُمَرَ، فَأُقِرَّ مَعَ امْرَأَتِهِ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا جس نے اپنی بیوی کو طلاق دی، پھر اس سے رجوع کیا لیکن اسے اطلاع نہ دی، عورت نے عدت گزار کر نکاح کر لیا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: غلطی تمہاری تھی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2491]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1314، 1315، 1316، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10977، 10978، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19235، 19240، 19243»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 1315 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2492
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، بِهَذَا الْحَدِيثِ.
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے بھی اسی واقعہ کی روایت ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2492]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1314، 1315، 1316، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10977، 10978، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19235، 19240، 19243»
ترقیم دار السلفیہ: 1316 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2493
نا نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، قَالَ: نا الأَعْمَشُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ أَبَا كَنَفٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَهُوَ غَائِبٌ فَأَعْلَمَهَا الطَّلاقَ، ثُمَّ رَاجَعَهَا وَلَمْ يُعْلِمْهَا بِالرَّجْعَةِ، فَقَدِمَ أَبُو كَنَفٍ، فَإِذَا هِيَ قَدْ تَزَوَّجَتْ، فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ عُمَرُ:" النَّجَاءَ، فَإِنْ أَدْرَكْتَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَهِيَ امْرَأَتُكَ، وَإِنْ جِئْتَ بَعْدَ مَا يَدْخُلُ بِهَا فَلا سَبِيلَ عَلَيْهَا". فَجَاءَ فَوَافَقَهَا لَيْلَةَ عُرْسِهَا، فَقَالَ: اسْتَأْذِنُوا لِي عَلَيْهَا , فَإِنَّ لِي إِلَيْهَا حَاجَةً. فَفَعَلُوا، فَأَخَذَ بِرِجْلِهَا .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ اگر مرد طلاق کے بعد رجوع کرے اور بیوی کو خبر نہ دے، تو اگر دوسرا شوہر دخول سے پہلے ہے تو پہلا شوہر زیادہ حق دار ہے، اگر دخول ہو چکا تو اب پہلا شوہر حق دار نہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2493]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1314، 1315، 1316، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10977، 10978، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19235، 19240، 19243»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 1317 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2494
نا نا أَبُو عَوَانَةَ، وَمُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ : " إِذَا طَلَّقَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ فَأَعْلَمَهَا طَلاقَهَا، ثُمَّ رَاجَعَهَا وَكَتَمَهَا الرَّجْعَةَ حَتَّى انْقَضَتِ الْعِدَّةُ، فَلا سَبِيلَ لَهُ عَلَيْهَا" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اگر شوہر طلاق دے کر بیوی کو اطلاع دے، پھر رجوع کرے اور اطلاع نہ دے یہاں تک کہ عدت گزر جائے تو اب اس پر کوئی حق نہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2494]
تخریج الحدیث: «مرسل، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 1318 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2495
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا طَلَّقَ الرُّجُلُ امْرَأَتَهُ، ثُمَّ رَاجَعَهَا فِي غَيْبٍ أَوْ مَشْهَدٍ فَلَمْ يُعْلِمْهَا الرَّجْعَةَ حَتَّى تَنْقَضِيَ الْعِدَّةُ، فَلا سَبِيلَ لَهُ عَلَيْهَا" .
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اگر شوہر رجوع کرے لیکن بیوی کو خبر نہ دے اور عدت گزر جائے تو اب اس پر کوئی حق نہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2495]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
یہ اثر سنداً صحیح ہے،کیونکہ تمام راوی ثقہ ہیں اور سماع کی تصریح موجود ہے۔
یہ اثر سنداً صحیح ہے،کیونکہ تمام راوی ثقہ ہیں اور سماع کی تصریح موجود ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 1319 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2496
نا عَتَّابٌ، قَالَ: أنا خُصَيْفٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، قَالَ فِي الرَّجُلِ الْغَائِبِ يَكْتُبُ إِلَى امْرَأَتِهِ بِالطَّلاقِ، ثُمَّ يَكْتُبُ إِلَيْهَا بِالرَّجْعَةِ، فَلا يَأْتِيهَا حَتَّى تَتَزَوَّجَ، قَالَ:" إِذَا أَدْرَكَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا الآخَرُ فَهِيَ امْرَأَتُهُ، وَإِنْ لَمْ يُدْرِكْهَا حَتَّى يَدْخُلَ بِهَا فَقَدْ بَانَتْ" .
حضرت سعید بن المسیب رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اگر شوہر خط کے ذریعے طلاق دے، پھر رجوع کرے لیکن رجوع کا خط بیوی کو نہ پہنچے اور وہ دوسرا نکاح کر لے، اگر دخول سے پہلے شوہر پہنچ جائے تو بیوی اسی کی ہوگی، ورنہ نہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2496]
تخریج الحدیث: «مقطوع إسناده ضعيف، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
یہ اثر سنداً ضعیف ہے کیونکہ خصیف بن عبد الرحمن ضعیف الحدیث ہیں
یہ اثر سنداً ضعیف ہے کیونکہ خصیف بن عبد الرحمن ضعیف الحدیث ہیں
الحكم على الحديث: مقطوع إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 1320 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2497
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا مُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَشُعْبَةَ، عَنِ الْحَكَمِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ , أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: " إِذَا رَاجَعَهَا فِي الْعِدَّةِ فَهِيَ امْرَأَتُهُ، تَزَوَّجَتْ أَوْ لَمْ تَتَزَوَّجْ، دَخَلَ بِهَا أَوْ لَمْ يَدْخُلْ بِهَا، عَلِمَتْ أَوْ لَمْ تَعْلَمْ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا: اگر شوہر عدت میں رجوع کر لے تو عورت اسی کی ہوگی چاہے نکاح کر لے یا نہ کرے، دخول ہو یا نہ ہو، جانتی ہو یا نہ ہو۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2497]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1320، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15286، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10979، 10981، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19241»
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 1321 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2498
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا دَاوُدُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، أَنَّ رَجُلا طَلَّقَ امْرَأَتَهُ تَطْلِيقَةً فَأَعْلَمَهَا بِالطَّلاقِ، ثُمَّ سَافَرَ وَكَتَبَ إِلَيْهَا بِالرَّجْعَةِ فَلَمْ يَبْلُغْهَا الْكِتَابُ، حَتَّى انْقَضَتِ الْعِدَّةُ، فَأَتَى شُرَيْحًا فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَقَالَ شُرَيْحٌ:" إِنْ كَانَتْ تَزَوَّجَتْ فَلا سَبِيلَ لَكَ عَلَيْهَا، وَإِنْ كَانَتْ لَمْ تَتَزَوَّجْ فَارْفَعْهَا إِلَى السُّلْطَانِ، فَيَكُونُونَ هُمُ الَّذِينَ يَرُدُّونَهَا عَلَيْكَ أَوْ يَمْنَعُونَكَهَا، وَأَعْلِمُوهُنَّ الرَّجْعَةَ كَمَا تُعْلِمُونَهُنَّ الطَّلاقَ" .
ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی اور اطلاع دی، پھر سفر کر گیا اور رجوع کا خط لکھا، جو عدت ختم ہونے کے بعد پہنچا، تو شریح رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر وہ نکاح کر چکی ہے تو تمہارا کوئی حق نہیں، اگر نکاح نہیں کیا تو سلطان کے پاس لے جاؤ، وہی فیصلہ کریں گے، اور رجوع کی اطلاع دینا ایسے ہی ضروری ہے جیسے طلاق کی اطلاع دینا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2498]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1321، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19237»
ترقیم دار السلفیہ: 1322 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2499
نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَمُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، وَمُحَمَّدُ بْنُ سَالِمٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، وَأَبُو إِسْحَاقَ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ مُزَاحِمٍ، أَنَّهُمْ قَالُوا فِي رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَاحِدَةً أَوِ اثْنَتَيْنِ، ثُمَّ غَشِيَهَا فِي الْعِدَّةِ" إِنَّهَا مُرَاجَعَةٌ، وَيُشْهِدُ عَلَى مَا كَانَ مِنْهُ" .
حضرت حسن بصری، ابراہیم نخعی، اور شعبی رحمہم اللہ نے فرمایا: اگر کسی نے بیوی کو ایک یا دو طلاقیں دیں اور عدت میں اس سے ہمبستری کی تو رجوع ہو گیا، اور گواہی دینا ضروری ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2499]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1322، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18072، 18074»
ترقیم دار السلفیہ: 1323 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 2500
نا نا هُشَيْمٌ، قَالَ: أنا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، فَقَالَ: إِنَّهُ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ وَلَمْ يُشْهِدْ، وَرَاجَعَ وَلَمْ يُشْهِدْ، فَقَالَ لَهُ عِمْرَانُ:" طَلَّقْتَ لِغَيْرِ عِدَّةٍ، وَرَاجَعْتَ فِي غَيْرِ سُنَّةٍ، أَشْهِدْ عَلَى مَا صَنَعْتَ" .
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک شخص نے بغیر گواہ کے طلاق دی اور رجوع کیا، تو سیدنا عمران نے فرمایا: طلاق سنت کے مطابق نہیں دی، رجوع بھی درست طریقے پر نہ ہوا، اب گواہی دے دو۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 2500]
تخریج الحدیث: «إسنادہ صحیح، وأخرجه أبو داود فى «سننه» برقم: 2186، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2025، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1323، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15288، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10255، 10256، 10257، 10258، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18082»
الحكم على الحديث: إسنادہ صحیح