🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحيح مسلم سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
ترقيم عبدالباقی
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم فواد عبدالباقی سے تلاش کل احادیث (3033)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. باب فِي فَضْلِ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ:
باب: سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی فضیلت۔
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2410 ترقیم شاملہ: -- 6230
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " أَرِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَقَالَ: لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ، قَالَتْ: وَسَمِعْنَا صَوْتَ السِّلَاحِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ يَا رَسُولَ اللَّهِ، جِئْتُ أَحْرُسُكَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: فَنَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى سَمِعْتُ غَطِيطَهُ ".
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے، انہوں نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کی، کہا: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو نہ سکے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش! میرے ساتھیوں میں سے کوئی صالح شخص آج پہرہ دے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: اچانک ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول! میں آپ کا پہرہ دینے کے لیے آیا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6230]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جاگتے رہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش! میرے ساتھیوں میں سے کوئی صالح شخص آج پہرہ دے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ اچانک ہم نے ہتھیاروں کی آواز سنی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میں آپ کا پہرہ دینے کے لیے آیا ہوں۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے حتیٰ کہ میں نے آپ کے خراٹوں کی آواز سنی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6230]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2410
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2410 ترقیم شاملہ: -- 6231
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رُمْحٍ ، أَخْبَرَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: " سَهِرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَقْدَمَهُ الْمَدِينَةَ لَيْلَةً، فَقَالَ: لَيْتَ رَجُلًا صَالِحًا مِنْ أَصْحَابِي يَحْرُسُنِي اللَّيْلَةَ، قَالَتْ: فَبَيْنَا نَحْنُ كَذَلِكَ سَمِعْنَا خَشْخَشَةَ سِلَاحٍ، فَقَالَ: مَنْ هَذَا؟ قَالَ: سَعْدُ بْنُ أَبِي وَقَّاصٍ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا جَاءَ بِكَ؟ قَالَ: وَقَعَ فِي نَفْسِي خَوْفٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجِئْتُ أَحْرُسُهُ، فَدَعَا لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَامَ "، وَفِي رِوَايَةِ ابْنِ رُمْحٍ فَقُلْنَا مَنْ هَذَا.
قتیبہ بن سعید اور محمد بن رمح نے لیث سے حدیث بیان کی، انہوں نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ سے روایت کی کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ایک رات مدینہ کے راستے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھ کھل گئی اور نیند اچٹ ہو گئی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کاش میرے اصحاب میں سے کوئی نیک بخت رات بھر میری حفاظت کرے۔ ام المؤمنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اتنے میں ہمیں ہتھیاروں کی آواز معلوم ہوئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کون ہے؟ آواز آئی کہ یا رسول اللہ! سعد بن ابی وقاص ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم کیوں آئے؟ وہ بولے کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنے نفس میں ڈر ہوا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرنے کو آیا ہوں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کی اور پھر سو رہے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6231]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لانے پر ایک رات بیدار رہے، چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اے کاش! میرے اصحاب میں سے کوئی نیک بخت رات بھر میری حفاظت کرے۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ اتنے میں ہمیں ہتھیاروں کی آواز سنائی دی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: کون ہے؟ آواز آئی کہ یا رسول اللہ! میں سعد بن ابی وقاص ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: تم کیوں آئے ہو؟ انہوں نے عرض کیا کہ مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے متعلق اپنے دل میں ڈر محسوس ہوا، اس لیے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی حفاظت کرنے کے لیے حاضر ہوا ہوں۔ پس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا فرمائی اور پھر سو گئے۔ ابن رمح کی روایت میں ہے کہ «قَالَ» اس نے کہا کی جگہ «قُلْنَا» ہم نے کہا ہے، یعنی ہم نے پوچھا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6231]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2410
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2410 ترقیم شاملہ: -- 6232
وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، سَمِعْتُ يَحْيَي بْنَ سَعِيدٍ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَامِرِ بْنِ رَبِيعَةَ ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ : أَرِقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، بِمِثْلِ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ بِلَالٍ.
عبدالوہاب نے کہا: میں نے یحییٰ بن سعید کو کہتے ہوئے سنا کہا: میں نے عبداللہ بن عامر بن ربیعہ کو کہتے ہوئے سنا کہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا: ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سو نہ سکے۔ (آگے) سلیمان بن بلال کی حدیث کے مانند (ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6232]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک رات بیدار رہے، (آگے پہلی روایت کی طرح ہے)۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6232]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2410
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2411 ترقیم شاملہ: -- 6233
حَدَّثَنَا مَنْصُورُ بْنُ أَبِي مُزَاحِمٍ ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ عَلِيًّا ، يَقُولُ: " مَا جَمَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ لِأَحَدٍ غَيْرِ سَعْدِ بْنِ مَالِكٍ، فَإِنَّهُ جَعَلَ يَقُولُ لَهُ يَوْمَ أُحُدٍ: ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي ".
منصور بن ابی مزاحم نے کہا: ہمیں ابراہیم بن سعد نے اپنے والد سے حدیث بیان کی، انہوں نے عبداللہ بن شداد سے روایت کی، انہوں نے کہا: میں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے سنا، کہ حضرت سعد بن مالک (سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) کے سوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کسی کے لیے اکٹھا اپنے ماں باپ کا نام نہیں لیا۔ جنگ احد کے دن آپ بار بار ان سے کہہ رہے تھے: تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6233]
حضرت علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت سعد بن مالک رضی اللہ عنہ کے سوا کسی کے لیے اپنے والدین کو جمع نہیں فرمایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں احد کے دن فرما رہے تھے: «ارْمِ، فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي» تیر پھینکو، تم پر میرے ماں باپ قربان۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6233]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2411
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2411 ترقیم شاملہ: -- 6234
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَابْنُ بَشَّارٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وحَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، وَإِسْحَاقُ الْحَنْظَلِيُّ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ بِشْرٍ ، عَنْ مِسْعَرٍ . ح، وحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍكُلُّهُمْ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، بِمِثْلِهِ.
شعبہ، وکیع اور مسعر، سب نے سعد بن ابراہیم سے، انہوں نے عبداللہ بن شداد سے، انہوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کے مانند روایت کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6234]
امام صاحب رحمہ اللہ اپنے مختلف اساتذہ کی سندوں سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6234]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2411
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2412 ترقیم شاملہ: -- 6235
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ بْنِ قَعْنَبٍ ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ ، عَنْ يَحْيَي وَهُوَ ابْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، قَالَ: " لَقَدْ جَمَعَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ ".
سلیمان بن بلال نے یحییٰ بن سعید سے، انہوں نے سعید سے، انہوں نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے روایت کی۔ کہا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جنگ احد کے دن میرے لیے ایک ساتھ اپنے ماں باپ کا نام نہیں لیا۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6235]
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر اپنے والدین قربان فرمائے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6235]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2412
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2412 ترقیم شاملہ: -- 6236
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَابْنُ رُمْحٍ ، عَنْ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ . ح وحَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ كِلَاهُمَا، عَنْ يَحْيَي بْنِ سَعِيدٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ.
لیث بن سعد اور عبدالوہاب دونوں نے یحییٰ بن سعید سے اسی سند کے ساتھ حدیث بیان کی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6236]
امام صاحب اپنے تین اساتذہ کی دو سندوں سے مذکورہ بالا روایت بیان کرتے ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6236]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2412
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 2412 ترقیم شاملہ: -- 6237
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ ، حَدَّثَنَا حَاتِمٌ يَعْنِي ابْنَ إِسْمَاعِيل ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ مِسْمَارٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ : " أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، جَمَعَ لَهُ أَبَوَيْهِ يَوْمَ أُحُدٍ، قَالَ: كَانَ رَجُلٌ مِنَ الْمُشْرِكِينَ قَدْ أَحْرَقَ الْمُسْلِمِينَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ارْمِ فِدَاكَ أَبِي وَأُمِّي، قَالَ: فَنَزَعْتُ لَهُ بِسَهْمٍ لَيْسَ فِيهِ نَصْلٌ فَأَصَبْتُ جَنْبَهُ، فَسَقَطَ فَانْكَشَفَتْ عَوْرَتُهُ، فَضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى نَظَرْتُ إِلَى نَوَاجِذِهِ ".
عامر بن سعد نے اپنے والد سے روایت کی، کہ جنگ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک ساتھ اپنے ماں باپ کا نام لیا۔ مشرکوں میں سے ایک شخص نے مسلمانوں کو جلا ڈالا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد سے کہا: تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں! حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس کے لیے (ترکش سے) ایک تیر کھینچا، اس کے پرَ ہی نہیں تھے۔ میں نے وہ اس کے پہلو میں مارا تو وہ گر گیا اور اس کی شرمگاہ (بھی) کھل گئی تو (اس کے اس طرح گرنے پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ مجھے آپ کی داڑھیں نظر آنے لگیں (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کھل کھلا کر ہنسے۔) [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6237]
عامر بن سعد رحمہ اللہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جنگِ احد کے دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے ایک ساتھ اپنے ماں باپ کا نام لیا۔ مشرکوں میں سے ایک شخص نے مسلمانوں کو جلا ڈالا تھا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سعد رضی اللہ عنہ سے کہا: تیر چلاؤ، تم پر میرے ماں باپ فدا ہوں! حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے اس کے لیے (ترکش سے) ایک تیر کھینچا، اس کے پر ہی نہیں تھے۔ میں نے وہ اس کے پہلو میں مارا تو وہ گر گیا اور اس کی شرمگاہ (بھی) کھل گئی تو (اس کے اس طرح گرنے پر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے، یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے نوکدار دانت دیکھ لیے۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6237]
ترقیم فوادعبدالباقی: 2412
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1748 ترقیم شاملہ: -- 6238
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، قَالَا: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ ، حَدَّثَنَا سِمَاكُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنِي مُصْعَبُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ نَزَلَتْ فِيهِ آيَاتٌ مِنَ الْقُرْآنِ، قَالَ: " حَلَفَتْ أُمُّ سَعْدٍ أَنْ لَا تُكَلِّمَهُ أَبَدًا حَتَّى يَكْفُرَ بِدِينِهِ، وَلَا تَأْكُلَ وَلَا تَشْرَبَ، قَالَتْ: زَعَمْتَ أَنَّ اللَّهَ وَصَّاكَ بِوَالِدَيْكَ، وَأَنَا أُمُّكَ وَأَنَا آمُرُكَ بِهَذَا، قَالَ: مَكَثَتْ ثَلَاثًا حَتَّى غُشِيَ عَلَيْهَا مِنَ الْجَهْدِ، فَقَامَ ابْنٌ لَهَا، يُقَالُ لَهُ عُمَارَةُ، فَسَقَاهَا فَجَعَلَتْ تَدْعُو عَلَى سَعْدٍ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي الْقُرْآنِ هَذِهِ الْآيَةَ: وَوَصَّيْنَا الإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا سورة العنكبوت آية 8 وَإِنْ جَاهَدَاكَ عَلَى أَنْ تُشْرِكَ بِي سورة لقمان آية 15 وَفِيهَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا سورة لقمان آية 15، قَالَ: وَأَصَابَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَنِيمَةً عَظِيمَةً، فَإِذَا فِيهَا سَيْفٌ، فَأَخَذْتُهُ فَأَتَيْتُ بِهِ الرَّسُولَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: نَفِّلْنِي هَذَا السَّيْفَ، فَأَنَا مَنْ قَدْ عَلِمْتَ حَالَهُ، فَقَالَ: رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ، فَانْطَلَقْتُ حَتَّى إِذَا أَرَدْتُ أَنْ أُلْقِيَهُ فِي الْقَبَضِ لَامَتْنِي نَفْسِي، فَرَجَعْتُ إِلَيْهِ، فَقُلْتُ: أَعْطِنِيهِ، قَالَ فَشَدَّ لِي صَوْتَهُ: رُدُّهُ مِنْ حَيْثُ أَخَذْتَهُ، قَالَ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: يَسْأَلُونَكَ عَنِ الأَنْفَالِ سورة الأنفال آية 1، قَالَ: وَمَرِضْتُ فَأَرْسَلْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَانِي، فَقُلْتُ: دَعْنِي أَقْسِمْ مَالِي حَيْثُ شِئْتُ، قَالَ: فَأَبَى، قُلْتُ: فَالنِّصْفَ، قَالَ: فَأَبَى، قُلْتُ: فَالثُّلُثَ، قَالَ: فَسَكَتَ، فَكَانَ بَعْدُ الثُّلُثُ جَائِزًا، قَالَ: وَأَتَيْتُ عَلَى نَفَرٍ مِنْ الْأَنْصَارِ، وَالْمُهَاجِرِينَ، فَقَالُوا: تَعَالَ نُطْعِمْكَ وَنَسْقِكَ خَمْرًا، وَذَلِكَ قَبْلَ أَنْ تُحَرَّمَ الْخَمْرُ، قَالَ: فَأَتَيْتُهُمْ فِي حَشٍّ، وَالْحَشُّ الْبُسْتَانُ، فَإِذَا رَأْسُ جَزُورٍ مَشْوِيٌّ عِنْدَهُمْ وَزِقٌّ مِنْ خَمْرٍ، قَالَ: فَأَكَلْتُ وَشَرِبْتُ مَعَهُمْ، قَالَ: فَذَكَرْتُ الْأَنْصَارَ، وَالْمُهَاجِرِينَ عِنْدَهُمْ، فَقُلْتُ: الْمُهَاجِرُونَ خَيْرٌ مِنَ الْأَنْصَارِ، قَالَ: فَأَخَذَ رَجُلٌ أَحَدَ لَحْيَيِ الرَّأْسِ، فَضَرَبَنِي بِهِ فَجَرَحَ بِأَنْفِي، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِيَّ يَعْنِي نَفْسَهُ شَأْنَ الْخَمْرِ: إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالأَنْصَابُ وَالأَزْلامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ سورة المائدة آية 90.
ابوبکر بن ابی شیبہ اور زہیر بن حرب نے کہا: ہمیں حسن بن موسیٰ نے حدیث بیان کی، کہا: ہمیں زہیر نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی کہ قرآن مجید میں ان کے حوالے سے کئی آیات نازل ہوئیں، کہا: ان کی والدہ نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک ان سے بات نہیں کریں گی یہاں تک کہ وہ اپنے دین (اسلام) سے کفر کریں اور نہ ہی کچھ کھائیں گی اور نہ پئیں گی، ان کا خیال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اپنے والدین کی بات مانو اور میں تمہاری ماں ہوں لہٰذا میں تمہیں اس دین کو چھوڑ دینے کا حکم دیتی ہوں۔ کہا: وہ تین دن اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ کمزوری سے بے ہوش ہو گئیں تو ان کا بیٹا جو عمارہ کہلاتا تھا کھڑا ہوا اور انہیں پانی پلایا۔ (ہوش میں آکر) انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ کو بددعائیں دینی شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ آیت نازل فرمائی: «وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا ۖ وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا ۚ وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا» ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور اگر وہ دونوں یہ کوشش کریں کہ تم میرے ساتھ شریک ٹھہراؤ جس بات کو تم (درست ہی) نہیں جانتے تو تم ان کی اطاعت نہ کرو اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔ کہا: اور (دوسری آیت اس طرح اتری کہ) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ غنیمت حاصل ہوئی۔ اس میں ایک تلوار بھی تھی۔ میں نے وہ اٹھا لی اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: (میرے حصے کے علاوہ) یہ تلوار مزید مجھے دے دیں، میری حالت کا تو آپ کو علم ہے ہی، آپ نے فرمایا: اسے وہیں رکھ دو جہاں سے تم نے اٹھائی ہے۔ میں چلا گیا جب میں نے اسے مقبوضہ غنائم میں واپس پھینکنا چاہا تو میرے دل نے مجھے ملامت کی (کہ واپس کیوں کر رہے ہو؟) تو میں آپ کے پاس واپس آگیا۔ میں نے کہا: یہ مجھے عطا کر دیجیے، آپ نے میرے لیے اپنی آواز کو سخت کیا اور فرمایا: جہاں سے اٹھائی ہے وہیں واپس رکھ دو۔ کہا: اس پر اللہ عزوجل نے یہ نازل فرمایا: «يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ» یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ کہا: (ایک موقع نزول وحی کا یہ تھا کہ) میں بیمار ہو گیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا۔ آپ میرے پاس تشریف لے آئے۔ میں نے کہا: مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا (سارا) مال جہاں چاہوں تقسیم کر دوں۔ کہا: آپ نے انکار فرما دیا۔ میں نے کہا: تو آدھا؟ آپ اس پر بھی نہ مانے، میں نے کہا: تو پھر تیسرا حصہ؟ اس پر آپ خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد تیسرے حصے کی وصیت جائز ہو گئی۔ کہا: اور (ایک اور موقع بھی آیا) میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا، انہوں نے کہا: آؤ ہم تمہیں کھانا کھلائیں اور شراب پلائیں اور یہ شراب حرام کیے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ کہا: میں کھجوروں کے ایک جھنڈ کے درمیان خالی جگہ میں ان کے پاس پہنچا دیکھا تو اونٹ کا ایک بھنا ہوا سر ان کے پاس تھا اور شراب کی ایک مشک تھی۔ میں نے ان کے ساتھ کھایا، شراب پی، پھر ان کے ہاں انصار اور مہاجرین کا ذکر آگیا۔ میں نے (شراب کی مستی میں) کہہ دیا: مہاجرین انصار سے بہتر ہیں تو ایک آدمی نے (اونٹ کا) ایک جبڑا پکڑا، اس سے مجھے ضرب لگائی اور میری ناک زخمی کر دی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ کو یہ (ساری) بات بتائی تو اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں۔۔۔ ان کی مراد اپنے آپ سے تھی۔۔۔ شراب کے متعلق (یہ آیت) نازل فرمائی: «إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ» بے شک شراب، جوا، بت اور پانسے شیطان کے گندے کام ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6238]
حضرت مصعب اپنے والد سعد رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ صورت حال یہ ہے کہ قرآن مجید میں ان کے حوالے سے کئی آیات نازل ہوئیں، انہوں نے کہا: ان کی والدہ نے قسم کھائی کہ وہ اس وقت تک ان سے بات نہیں کریں گی یہاں تک کہ وہ اپنے دین (اسلام) سے کفر کریں اور نہ ہی کچھ کھائیں گی اور نہ پئیں گی، ان کا خیال یہ تھا کہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں حکم دیا ہے کہ اپنے والدین کی بات مانو اور میں تمہاری ماں ہوں لہٰذا میں تمہیں اس دین کو چھوڑ دینے کا حکم دیتی ہوں۔ انہوں نے کہا: وہ تین دن اسی حالت میں رہیں یہاں تک کہ کمزوری سے بے ہوش ہو گئیں تو ان کا بیٹا جو عمارہ کہلاتا تھا کھڑا ہوا اور انہیں پانی پلایا۔ (ہوش میں آکر) انہوں نے سعد رضی اللہ عنہ کو بددعائیں دینی شروع کر دیں تو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں یہ آیت نازل فرمائی: ﴿وَوَصَّيْنَا الْإِنْسَانَ بِوَالِدَيْهِ حُسْنًا﴾ [سورة العنكبوت: 8] ہم نے انسان کو اس کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کا حکم دیا ہے اور ﴿وَإِنْ جَاهَدَاكَ لِتُشْرِكَ بِي مَا لَيْسَ لَكَ بِهِ عِلْمٌ فَلَا تُطِعْهُمَا وَصَاحِبْهُمَا فِي الدُّنْيَا مَعْرُوفًا﴾ [سورة لقمان: 15] اور اگر وہ دونوں یہ کوشش کریں کہ تم میرے ساتھ شریک ٹھہراؤ جس بات کو تم (درست ہی) نہیں جانتے تو تم ان کی اطاعت نہ کرو اور دنیا میں ان کے ساتھ اچھے طریقے سے رہو۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بہت زیادہ غنیمت حاصل ہوئی۔ اس میں ایک تلوار بھی تھی۔ میں نے وہ اٹھا لی اور اسے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: (میرے حصے کے علاوہ) یہ تلوار مزید مجھے دے دیں، میری حالت کا تو آپ کو علم ہے ہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اسے وہیں رکھ دو جہاں سے تم نے اٹھائی ہے۔ میں چلا گیا، جب میں نے اسے مقبوضہ غنائم میں واپس پھینکنا چاہا تو میرے دل نے مجھے ملامت کی (کہ واپس کیوں کر رہے ہو؟) تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس آگیا۔ میں نے کہا: یہ مجھے عطا کر دیجیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لیے اپنی آواز کو سخت کیا اور فرمایا: جہاں سے اٹھائی ہے وہیں واپس رکھ دو۔ انہوں نے کہا: اس پر اللہ عزوجل نے یہ نازل فرمایا: ﴿يَسْأَلُونَكَ عَنِ الْأَنْفَالِ﴾ [سورة الأنفال: 1] یہ لوگ آپ سے غنیمتوں کے بارے میں سوال کرتے ہیں۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں، میں بیمار ہو گیا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف پیغام بھیجا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم میرے پاس تشریف لے آئے۔ میں نے کہا: مجھے اجازت دیجیے کہ میں اپنا (سارا) مال جہاں چاہوں تقسیم کر دوں۔ انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انکار فرما دیا۔ میں نے کہا: تو آدھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر بھی نہ مانے، میں نے کہا: تو پھر تیسرا حصہ؟ اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔ اس کے بعد تیسرے حصے کی وصیت جائز ہو گئی۔ انہوں نے کہا: اور (ایک اور موقع بھی آیا) میں انصار اور مہاجرین کے کچھ لوگوں کے پاس آیا، انہوں نے کہا: آؤ ہم تمہیں کھانا کھلائیں اور شراب پلائیں، اور یہ شراب حرام کیے جانے سے پہلے کی بات ہے۔ انہوں نے کہا: میں کھجوروں کے ایک جھنڈ کے درمیان خالی جگہ میں ان کے پاس پہنچا، دیکھا تو اونٹ کا ایک بھنا ہوا سر ان کے پاس تھا اور شراب کی ایک مشک تھی۔ میں نے ان کے ساتھ کھایا، شراب پی، پھر ان کے ہاں انصار اور مہاجرین کا ذکر آگیا۔ میں نے (شراب کی مستی میں) کہہ دیا: مہاجرین انصار سے بہتر ہیں، تو ایک آدمی نے (اونٹ کا) ایک جبڑا پکڑا، اس سے مجھے ضرب لگائی اور میری ناک زخمی کر دی، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ (ساری) بات بتائی تو اللہ تعالیٰ نے میرے بارے میں۔۔۔ ان کی مراد اپنے آپ سے تھی۔۔۔ شراب کے متعلق (یہ آیت) نازل فرمائی: ﴿إِنَّمَا الْخَمْرُ وَالْمَيْسِرُ وَالْأَنْصَابُ وَالْأَزْلَامُ رِجْسٌ مِنْ عَمَلِ الشَّيْطَانِ﴾ [سورة المائدة: 90] بے شک شراب، جوا، بت اور پانسے شیطان کے گندے کام ہیں۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6238]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1748
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم عبدالباقی: 1748 ترقیم شاملہ: -- 6239
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ قَالَ: أُنْزِلَتْ فِيَّ أَرْبَعُ آيَاتٍ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِمَعْنَى حَدِيثِ زُهَيْرٍ، عَنْ سِمَاكٍ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ شُعْبَةَ، قَالَ: فَكَانُوا إِذَا أَرَادُوا أَنْ يُطْعِمُوهَا شَجَرُوا فَاهَا بِعَصًا ثُمَّ أَوْجَرُوهَا، وَفِي حَدِيثِهِ أَيْضًا، فَضَرَبَ بِهِ أَنْفَ سَعْدٍ فَفَزَرَهُ، وَكَانَ أَنْفُ سَعْدٍ مَفْزُورًا.
محمد بن جعفر نے کہا: ہمیں شعبہ نے سماک بن حرب سے حدیث بیان کی، انہوں نے مصعب بن سعد سے، انہوں نے اپنے والد (حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ) سے روایت کی، انہوں نے کہا: میرے بارے میں چار آیات نازل ہوئیں پھر زہیر سے سماک کی حدیث کے ہم معنی بیان کیا اور شعبہ کی حدیث میں (محمد بن جعفر نے) مزید یہ بیان کیا کہ لوگ جب میری ماں کو کھانا کھلانا چاہتے تو لکڑی سے اس کا منہ کھولتے، پھر اس میں کھانا ڈالتے، اور انہی کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پر ہڈی ماری اور ان کی ناک پھاڑ دی، حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پھٹی ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6239]
حضرت مصعب بن سعد رحمہ اللہ اپنے باپ (حضرت سعد رضی اللہ عنہ) سے بیان کرتے ہیں، انہوں نے بتایا کہ میرے بارے میں چار آیات اتری ہیں، آگے اوپر کی روایت کے ہم معنی روایت ہے، شعبہ کی روایت میں یہ اضافہ ہے کہ جب وہ لوگ انہیں (حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ماں کو) کھانا کھلانا چاہتے تو ان کا منہ ڈنڈے سے کھولتے، پھر اس میں کھانا ڈال دیتے اور ان کی حدیث میں یہ بھی ہے کہ انہوں نے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پر مارا اور اسے پھاڑ دیا، اس لیے حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی ناک پھٹی ہوئی تھی۔ [صحيح مسلم/كِتَاب فَضَائِلِ الصَّحَابَةِ/حدیث: 6239]
ترقیم فوادعبدالباقی: 1748
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح مسلم كلها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں