سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
155. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْمُحِلِّ وَالْمُحَلَّلِ لَهُ
باب: محلِّل (حلالہ کرنے والے) اور محلَّل لہ (جس کے لیے حلالہ کیا جائے) کے بارے میں وارد احکام۔
ترقیم دار السلفیہ: 1992 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3169
نا نا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ الأَسَدِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: " لا أَجِدُ مُحِلا وَلا مُحَلَّلا لَهُ إِلا رَجَمْتُهُ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو شخص حلالہ کرے یا کروائے، میں اسے سنگسار کر دوں گا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3169]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح لغيره، أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1992، 1993، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14303، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10777، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17363، 37344»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح لغيره
ترقیم دار السلفیہ: 1993 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3170
نا نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الأَعْمَشُ، عَنِ الْمُسَيِّبِ بْنِ رَافِعٍ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ : " لا أَجِدُ مُحِلا وَلا مُحَلَّلا لَهُ إِلا رَجَمْتُهُمَا" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو مرد یا عورت حلالہ کرے، دونوں کو سنگسار کر دوں گا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3170]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح لغيره، أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1992، 1993، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14303، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10777، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17363، 37344»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح لغيره
ترقیم دار السلفیہ: 1994 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3171
نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " إِذَا كَانَ نِيَّةُ إِحْدَى الثَّلاثَةِ: الزَّوْجِ الأَوَّلِ أَوِ الزَّوْجِ الآخَرِ أَوِ الْمَرْأَةِ أَنَّهُ مُحَلِّلٌ، فَنِكَاحُ هَذَا الأَخِيرِ بَاطِلٌ، وَلا تَحِلُّ لِلأَوَّلِ" .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر تین میں سے کسی ایک کی نیت حلالہ ہو، یعنی پہلا شوہر، دوسرا شوہر یا عورت کی، تو دوسرا نکاح باطل ہے اور عورت پہلے شوہر کے لیے حلال نہیں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3171]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
ترقیم دار السلفیہ: 1995 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3172
نا هُشَيْمٌ، نا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ:" إِذَا هَمَّ أَحَدُ الثَّلاثَةِ بِالتَّحْلِيلِ فَقَدْ أُفْسِدَ".
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”اگر تین میں سے کسی کی نیت حلالہ کی ہو تو نکاح فاسد ہو جاتا ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3172]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1995، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17367»
ترقیم دار السلفیہ: 1996 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3173
نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ.
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ سے اسی طرح کی روایت ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3173]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1996، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17367»
ترقیم دار السلفیہ: 1997 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3174
نا نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، نا رَجُلٌ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّهُ قَالَ: " لُعِنَ الْحَالُّ، وَالْمُحَلَّلُ لَهُ، وَالْمُحَلَّلَةُ" .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”حلالہ کرنے والے، کروانے والے اور حلالہ کروانے والی پر لعنت ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3174]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1997، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17364، 37345»
وضاحت: وضاحت:اگرچہ سند ضعیف ہے، معنیً صحیح ہے کیونکہ:
یہ مفہوم صحیح احادیث سے ثابت ہے، جیسا کہ صحیح سنن میں موجود ہے:
«لعن الله المحلل والمحلل له» (ابن ماجہ، ترمذی)
? یعنی:
تحلیل کی نیت سے نکاح کرنے والا اور جس کے لیے وہ نکاح کیا گیا — دونوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی۔
یہ مفہوم صحیح احادیث سے ثابت ہے، جیسا کہ صحیح سنن میں موجود ہے:
«لعن الله المحلل والمحلل له» (ابن ماجہ، ترمذی)
? یعنی:
تحلیل کی نیت سے نکاح کرنے والا اور جس کے لیے وہ نکاح کیا گیا — دونوں پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لعنت فرمائی۔
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف ولكن عند الشواهد الحديث صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 1998 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3175
نا مُحَمَّدُ بْنُ بَسِيطٍ الْبَصْرِيُّ، قَالَ: سَأَلْتُ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ الْمُزَنِيَّ، عَنْ رَجُلٍ يُطَلِّقُ امْرَأَتَهُ الْبَتَّةَ، قَالَ: " لُعِنَ الْحَالُّ، وَالْمُحَلَّلُ لَهُ، أُولَئِكَ كَانُوا يُسَمَّوْنَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ التَّيْسَ الْمُسْتَعَارَ" .
حضرت بکر بن عبداللہ مزنی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”حلالہ کرنے والے اور کروانے والے پر لعنت ہے، جاہلیت میں انہیں مستعار بکرا کہا جاتا تھا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3175]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
(1) في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند: (بسيط)، والصواب المثبت وينظر ترجمته في التاريخ الكبير 1 / 253
محمد بن نشیط البصري: مجہول الحال۔
(1) في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند: (بسيط)، والصواب المثبت وينظر ترجمته في التاريخ الكبير 1 / 253
محمد بن نشیط البصري: مجہول الحال۔
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 1999 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3176
نا نا هُشَيْمٌ، نا يُونُسُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّ رَجُلا مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا، وَنَدِمَ وَبَلَغَ ذَلِكَ مِنْهُ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَقِيلَ لَهُ: انْظُرْ رَجُلا يُحِلُّهَا لَكَ، وَكَانَ فِي الْمَدِينَةِ رَجُلٌ مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ لَهُ حَسَبٌ أُقْحِمَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَكَانَ مُحْتَاجًا لَيْسَ لَهُ شَيْءٌ يَتَوَارَى بِهِ إِلا رُقْعَتَيْنِ , رُقْعَةٌ يُوَارِي بِهَا فَرْجَهُ، وَرُقْعَةٌ يُوَارِي بِهَا دُبُرَهُ، فَأَرْسَلُوا إِلَيْهِ، فَقَالُوا لَهُ: هَلْ لَكَ أَنْ نُزَوِّجَكَ امْرَأَةً فَتَدْخُلَ عَلَيْهَا، فَتَكْشِفَ عَنْهَا خِمَارَهَا ثُمَّ تُطَلِّقَهَا وَنَجْعَلَ لَكَ عَلَى ذَلِكَ جُعْلا، قَالَ: نَعَمْ، فَزَوَّجُوهُ فَدَخَلَ عَلَيْهَا، وَهُوَ شَابٌّ صَحِيحُ الْحَسَبِ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَى الْمَرْأَةِ فَأَصَابَهَا فَأَعْجَبَهَا، فَقَالَتْ لَهُ: أَعِنْدَكَ خَبَرٌ؟ قَالَ: نَعَمْ، هُوَ حَيْثُ تُحِبِّينَ، جَعَلَهُ اللَّهُ فِدَاءَهَا، قَالَتْ: فَانْظُرْ لا تُطَلِّقْنِي بِشَيْءٍ، فَإِنَّ عُمَرَ لَنْ يُكْرِهَكَ عَلَى طَلاقِي: فَلَمَّا أَصْبَحَ لَمْ يَكَدْ أَنْ يَفْتَحَ الْباب حَتَّى كَادُوا أَنْ يَكْسِرُوهُ، فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَيْهِ، قَالُوا: طَلِّقْ، قَالَ: الأَمْرُ إِلَى فُلانَةَ، قَالَ: فَقَالُوا لَهَا: قُولِي لَهُ أَنْ يُطَلِّقَكِ، قَالَتْ: إِنِّي أَكْرَهُ أَنْ لا يَزَالَ يَدْخُلُ عَلَيَّ، فَارْتَفَعُوا إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَأَخْبَرُوهُ، فَقَالَ لَهُ:" إِنْ طَلَّقْتَهَا لأَفْعَلَنَّ بِكَ"، وَرَفَعَ يَدَيْهِ وَقَالَ:" اللَّهُمَّ أَنْتَ رَزَقْتَ ذَا الرُّقْعَتَيْنِ إِذْ بَخِلَ عَلَيْهِ عُمَرُ" .
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ مدینہ کے ایک شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دیں، بہت نادم ہوا، لوگوں نے کہا: کسی کو ڈھونڈو جو حلالہ کرے، چنانچہ ایک غریب دیہاتی نوجوان کو نکاح کرایا، لیکن جب اس نے عورت کو دیکھا تو پسند آ گئی اور اس نے طلاق دینے سے انکار کر دیا، عورت بھی راضی ہو گئی، جب لوگوں نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے شکایت کی تو آپ نے فرمایا: ”اگر اس نے طلاق دی تو کچھ نہیں، اور اگر نہ دی تو اللہ نے فقیر کو رزق عطا کر دیا جسے عمر نے روکنے کی کوشش کی تھی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3176]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 1999، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 14308، 14309، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 10786، 10787، 10788»
وضاحت: وضاحت: سعید بن منصور: امام، ثقہ
ہشیم بن بشیر: ثقہ، مدلس (عنعنہ ہے)
یونس بن عبید: ثقہ
ابن سیرین: محمد بن سیرین، ثقہ تابعی، قصہ مرسل ہے (ابن سیرین نے کسی نامعلوم صحابی سے نقل کیا)
❗ مرسل ہونے کی وجہ سے سند ضعیف ہے، لیکن واقعہ کثیر الطرق ہے، دیگر آثار سے مؤید ہے۔
یہ اثر تحلیل نکاح کی مذمت پر ایک قوی اور عملی اثر ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ موقف صحیح احادیث کے مطابق ہے:
«لعن الله المحلل والمحلل له» – (ترمذی، ابن ماجہ: صحیح)
? یہ اثر نکاحِ تحلیل کو محض حیلہ بنا کر استعمال کرنے والوں کے لیے عبرت آموز واقعہ ہے۔
ہشیم بن بشیر: ثقہ، مدلس (عنعنہ ہے)
یونس بن عبید: ثقہ
ابن سیرین: محمد بن سیرین، ثقہ تابعی، قصہ مرسل ہے (ابن سیرین نے کسی نامعلوم صحابی سے نقل کیا)
❗ مرسل ہونے کی وجہ سے سند ضعیف ہے، لیکن واقعہ کثیر الطرق ہے، دیگر آثار سے مؤید ہے۔
یہ اثر تحلیل نکاح کی مذمت پر ایک قوی اور عملی اثر ہے۔
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا یہ موقف صحیح احادیث کے مطابق ہے:
«لعن الله المحلل والمحلل له» – (ترمذی، ابن ماجہ: صحیح)
? یہ اثر نکاحِ تحلیل کو محض حیلہ بنا کر استعمال کرنے والوں کے لیے عبرت آموز واقعہ ہے۔
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2000 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3177
نا نا جَرِيرٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، قَالَ: قُلْتُ لإِبْرَاهِيمَ: هَلْ كَانَ ابْنُ الْخَطَّابِ حَلَّلَ بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ؟ فَقَالَ: لا، إِنَّمَا كَانَتْ لِرَجُلٍ امْرَأَةٌ ذَاتُ حَسَبٍ وَمَالٍ، فَطَلَّقَهَا زَوْجُهَا تَطْلِيقَةً أَوْ ثِنْتَيْنِ، فَبَانَتْ مِنْهُ، ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ تَزَوَّجَهَا فَهُنِّئَ بِهَا، وَقَالُوا: لَوْلا أَنَّهَا امْرَأَةٌ لَيْسَ بِهَا وَلَدٌ، فَقَالَ عُمَرُ:" وَمَا بَرَكَتُهُنَّ إِلا لأَوْلادِهِنَّ"، فَطَلَّقَهَا قَبْلَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا، فَتَزَوَّجَهَا زَوْجُهَا الأَوَّلُ .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے فرمایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کسی شوہر اور بیوی کے درمیان حلالہ نہیں کرایا، بلکہ ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق دی تھی، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے نکاح کیا، پھر بغیر دخول کے طلاق دے دی، تو اس کا پہلا شوہر دوبارہ نکاح کر سکا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3177]
تخریج الحدیث: «مرسل، «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: وضاحت: اثر مرسل ہے (کیونکہ ابراہیم النخعی نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا قول نقل کیا ہے) تاہم مرسل اثر تابعی کا اگر معروف اور صحیح اسناد سے مؤید ہو تو قابلِ قبول ہوتا ہے، خاص طور پر جب وہ کثیر التلامذہ ثقہ تابعی ہو، جیسا کہ ابراہیم النخعی رحمہ اللہ۔
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2001 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3178
أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ جَرِيرٍ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، قَالَ: كَانَ زَوْجُهَا الأَوَّلُ الْحَارِثَ بْنَ أَبِي رَبِيعَةَ.
حضرت ابو معشر رحمہ اللہ کے مطابق، اس عورت کا پہلا شوہر حارث بن ابی ربیعہ تھا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3178]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»