سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
159. بَابٌ الرَّجُلُ تَكُونُ لَهُ الْأَمَةُ الْفَاجِرَةُ فَيُحْصِنُهَا
باب: اُس مرد کا بیان جس کی باندی بدکار ہو، اور وہ اس کا نکاح کر کے اسے پاکدامن بنا دے۔
ترقیم دار السلفیہ: 2038 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3215
نا هُشَيْمٌ، أنا أَبُو حُرَّةَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ فِي الرَّجُلِ يَفْجُرُ بِالأَمَةِ، ثُمَّ يَشْتَرِيهَا قَالَ:" كَانَ يُكْرَهُ أَنْ يَقْرَبَهَا" .
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: ”جو لونڈی سے زنا کرے پھر اسے خرید لے تو اس سے تعلق قائم کرنا مکروہ سمجھا جاتا تھا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3215]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2010، 2038»
ترقیم دار السلفیہ: 2039 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3216
نا هُشَيْمٌ، أنبأ مَنْصُورٌ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ، أَنَّ مَسْعُودًا،" كَانَ يَكْرَهُ لِلرَّجُلِ أَنْ يَطَأَ أَمَتَهُ إِذَا فَجَرَتْ، أَوْ يَطَأَهَا وَهِيَ مُشَرَّكَةٌ".
حضرت مسعود رحمہ اللہ کا قول ہے: ”جو آدمی اپنی لونڈی سے بدکاری کرے یا مشترکہ لونڈی سے ہمبستری کرے تو یہ ناپسند کیا جاتا تھا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3216]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2039، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12814، والطبراني فى «الكبير» برقم: 9674»
قال ابن حجر: في تهذيب التهذيب (10/214):
معاوية بن قرة "ثقة، يرسل عن ابن مسعود"
قال ابن حجر: في تهذيب التهذيب (10/214):
معاوية بن قرة "ثقة، يرسل عن ابن مسعود"
الحكم على الحديث: مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2040 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3217
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنِ الْوَلِيدِ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ: دَخَلُوا عَلَيْهِ أَوَّلَ النَّهَارِ وَهُوَ صَائِمٌ، ثُمَّ دَخَلُوا عَلَيْهِ فِي آخِرِهِ وَهُوَ مُفْطِرٌ، فَسَأَلُوهُ فَقَالَ:" مَرَّتْ بِي جَارِيَةٌ فَأَعْجَبَتْنِي، وَأَزِيدُكُمْ أَنَّهَا كَانَتْ بَغِيًّا فَحَصَّنْتُهَا" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”میں نے دن میں روزہ رکھا تھا لیکن شام کو ایک باندی پسند آ گئی، جو فاحشہ تھی، تو میں نے اس سے نکاح کر کے اسے محفوظ کر لیا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3217]
تخریج الحدیث: «موقوف إسناده صحیح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2040، 2041، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7773، 12810»
الحكم على الحديث: موقوف إسناده صحیح
ترقیم دار السلفیہ: 2041 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3218
نا نا هُشَيْمٌ، أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى ابْنِ عَبَّاسٍ فِي صَدْرِ النَّهَارِ فَوَجَدْنَاهُ صَائِمًا ثُمَّ رُحْنَا إِلَيْهِ بِالْعَشِيِّ فَوَجَدْنَاهُ مُفْطِرًا، فَقُلْنَا لَهُ: أَلَمْ تَكُ صَائِمًا؟ قَالَ:" بَلَى، وَلَكِنَّ جَارِيَةً لِي أَتَتْ عَلَيَّ فَأَعْجَبَتْنِي، فَأَصَبْتُ مِنْهَا، وَإِنَّمَا هُوَ تَطَوُّعٌ وَسَأَقْضِي يَوْمًا مَكَانَهُ، وَأَزِيدُكُمْ أَنَّهَا كَانَتْ بَغِيًّا فَحَصَّنْتُهَا، وَإِنَّهُ قَدْ عَزَلَ عَنْهَا" . قَالَ سَعِيدٌ: فَعَلِمْنَا أَرْبَعَةَ أَشْيَاءَ فِي حَدِيثٍ وَاحِدٍ.
حضرت سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ہم دن کے ابتدائی حصے میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس گئے تو وہ روزے سے تھے، پھر شام کو گئے تو وہ افطار کر چکے تھے، ہم نے پوچھا: کیا آپ روزے سے نہیں تھے؟ فرمایا: کیوں نہیں، مگر میری ایک لونڈی آئی، وہ مجھے پسند آ گئی تو میں نے اس سے مباشرت کی، اور یہ نفل روزہ تھا، جسے میں قضا کر لوں گا، اور میں تمہیں مزید بتاؤں کہ وہ پہلے بدکارہ تھی، تو میں نے اسے نکاح میں لا کر پاک کر لیا، اور میں نے اس سے مباشرت کے وقت عزل بھی کیا۔“ سیدنا سعید بن جبیر رحمہ اللہ نے کہا: ”ہم نے اس ایک حدیث سے چار مسئلے سیکھے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3218]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2040، 2041، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 7773، 12810»
الحكم على الحديث: إسناده صحيح