🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

162. بَابُ الْمَرْأَةِ تَلِدُ لِسِتَّةِ أَشْهُرٍ
باب: اُس عورت کا بیان جس کے ہاں چھے مہینے میں بچہ پیدا ہو۔
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2084 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3261
نا نا هُشَيْمٌ، أنا حَجَّاجٌ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ،" أَنَّهُ كَانَ لا يَرَى بَأْسًا أَنْ يَتَسَرَّى الْعَبْدُ إِذَا أَذِنَ لَهُ مَوْلاهُ" .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما غلام کو مالک کی اجازت سے باندی سے تعلق قائم کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3261]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2084، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 13965، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12836، 12845، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16535»
وضاحت: حجاج بن أرطاة:، صدوق، مدلس، کثیر الخطأ
مسئلہ: کیا غلام تسری کر سکتا ہے؟
اصل اصول:
تسری (یعنی باندی سے تعلق) مالک کے لیے جائز ہے، غلام چونکہ خود مالک نہیں ہوتا، اس لیے: باندی اس کے لیے "محل وطی" نہیں، الا یہ کہ مالک اجازت دے دے
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کا یہ قول اجتہادی فتویٰ ہے کہ: "اگر آقا اجازت دے دے تو غلام بھی تسری کر سکتا ہے"
فقہاء احناف و مالکیہ کے ہاں یہ مسئلہ مختلف فیہ ہے:
فقہی مسلک ◄ موقف
احناف: غلام تسری نہیں کر سکتا، کیونکہ وہ مالک نہیں ہے
بعض مالکیہ و اہل الظاہر اجازت کے ساتھ جائز سمجھتے ہیں، جیسا کہ ابن عمر کا قول
✅ نتیجہ:
یہ اثر سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة)،
لیکن مضمون کے لحاظ سے ایک معتبر فقہی قول کو ظاہر کرتا ہے
جو ابن عمر رضی اللہ عنہما جیسے فقیہ صحابی کا فتویٰ ہے

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2085 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3262
نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، وَمَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ لا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا.
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ بھی غلام کے لیے باندی سے تعلق جائز سمجھتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3262]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2085، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12837، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16537»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2086 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3263
نا نا هُشَيْمٌ، أنا الْحَجَّاجُ، عَنِ الْعَبَّاسِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَمِّهِ ابْنِ عَبَّاسٍ " أَنَّهُ أَذِنَ لِغُلامٍ لَهُ أَنْ يَتَسَرَّى، فَاشْتَرَى ثَلاثَ جِوَارٍ ثَمَنُ أَلْفَيْنِ أَلْفَيْنِ" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام کو تین بانڈیاں خرید کر دیں کہ وہ ان سے تعلق قائم کرے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3263]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2086، 2087، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12844، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16543، 16544»
وضاحت: حجاج بن أرطاة کی وجہ سے سند ضعیف ہے،، لیکن مضمون سابقہ اثر (2084) سے موافق ہے،، لہٰذا یہ اثر "قابلِ تقویت ضعیف" ہے، اور فقہی استدلال میں شاہد کا درجہ رکھتا ہے۔

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2087 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3264
نا نا هُشَيْمٌ، أنا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّهُ قَالَ لِغُلامٍ لَهُ: " لَكَ فُلانَةُ، لأَمَةٍ لَهُ، فَاتَّخِذْهَا" .
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے غلام سے کہا: یہ باندی تمہارے لیے ہے، اسے اپنی زوجہ بنا لو۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3264]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2086، 2087، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12844، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16543، 16544»
وضاحت: ابو الزبیر مدلس ہے، اور یہاں "عن" کے ساتھ روایت کر رہا ہے اس لیے یہ اثر سنداً ضعیف ہے (بسبب احتمال تدلیس) مگر چونکہ یہ مضمون سابقہ دو آثار (2084، 2086) کے مطابق ہے، اس لیے اس کو مؤید کے طور پر قبول کیا جا سکتا ہے۔

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2088 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3265
نا هُشَيْمٌ، أنا زَكَرِيَّا بْنُ يُونُسَ، شَكَّ الصَّائِغُ، عَنِ الشَّعْبِيِّ" أَنَّهُ كَانَ لا يَرَى بِذَلِكَ بَأْسًا أَنْ يَتَسَرَّى الْعَبْدُ بِإِذْنِ مَوْلاهُ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ غلام کے باندی سے تعلق کو مالک کی اجازت سے جائز سمجھتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3265]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2088، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12837، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16540، 16541»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2089 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3266
نا نا هُشَيْمٌ، أنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ غُلامًا لَهُ اشْتَرَى جَارِيَتَيْنِ، فَكَانَ يُصِيبُ مِنْهُمَا، وَعَلِمَ بِذَلِكَ ابْنُ عُمَرَ فَأَقَرَّهُ" .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے غلام نے دو بانڈیاں خریدیں اور ان سے تعلق قائم کیا، جب ابن عمر رضی اللہ عنہما کو علم ہوا تو اسے برقرار رکھا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3266]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: وضاحت: یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور تسری کے مسئلے میں عملی تعاملِ صحابی کا مضبوط ثبوت ہے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے: نہ غلام کے باندی خریدنے پر اعتراض کیا نہ ان سے ہمبستری پر کوئی حد یا ممانعت قائم کی → یہ جوازِ تسری بالغلام بالاذن کا معتبر اثر ہے

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2090 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3267
نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ، أَنَّهُ" يُحِبُّ أَنْ يَكُونَ تَزْوِيجًا".
حضرت ابن سیرین رحمہ اللہ غلام کے لیے نکاح کو پسندیدہ سمجھتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3267]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2090، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16546»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2091 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3268
نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ ذَلِكَ.
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ بھی یہی کہتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3268]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2092 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3269
نا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ أَبِي عَبْدِ اللَّهِ الشَّقَرِيِّ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " يُكْرَهُ لِلْعَبْدِ أَنْ يَتَسَرَّى" .
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: غلام کا باندی سے تعلق رکھنا مکروہ ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3269]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2092، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16549»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں