سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
163. بَابُ مَنْ قَالَ: إِنَّ الْأَمَةَ تَبْرُزُ وَتُصَلِّي بِغَيْرِ قِنَاعٍ
باب: جس کا قول ہے کہ باندی بغیر دوپٹے کے باہر نکلتی ہے اور نماز پڑھتی ہے۔
ترقیم دار السلفیہ: 2093 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3270
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، سَمِعَ الْحَارِثَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَبِيعَةَ، يُخْبِرُ أَبَا الشَّعْثَاءِ، قَالَ: سَأَلَ أَبِي عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ حَدِّ الأَمَةِ، فَقَالَ عُمَرُ:" إِنَّ الأَمَةَ نَبَذَتْ فَرْوَتَهَا مِنْ وَرَاءِ الدَّارِ" ، وَقَالَ سُفْيَانُ مَرَّةً أُخْرَى:" مِنْ وَرَاءِ الْجِدَارِ".
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جب باندی نے اپنی چادر پیچھے دیوار کے پیچھے پھینک دی تو اب وہ آزاد عورت کی طرح نہیں رہی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3270]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2093، 2094، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5052، 13612، 13614، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 6292، 6293»
قال ابن عبدالبر: هو أثبت من حديث أن عمر بن الخطاب جلد ولائد من الخمس أبكارا في الزنا، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (9 / 94)
قال ابن عبدالبر: هو أثبت من حديث أن عمر بن الخطاب جلد ولائد من الخمس أبكارا في الزنا، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (9 / 94)
وضاحت: فقہی نکات: ❓ کیا یہ حد ہے یا تعزیر؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا جواب اصطلاحی فتویٰ نہیں، بلکہ فقیہانہ تبصرہ ہے وہ اس بات کی طرف اشارہ کر رہے ہیں کہ: لونڈی اگر بآسانی زنا کرتی ہے، اور وہ مقامی، محفوظ عورتوں کی طرح نہیں ہے، تو اس پر معمولی جرم کی رعایت نہیں دی جائے گی ? بعض فقہاء کے ہاں: لونڈی پر نصف حد لاگو ہوتی ہے (جیسا کہ قرآن میں ہے: ﴿فَعَلَيْهِنَّ نِصْفُ مَا عَلَى الْمُحْصَنَاتِ﴾) لیکن تعزیر کا دائرہ اس سے بھی وسیع ہو سکتا ہے — خاص طور پر اگر لونڈی حدود سے کھیلنے لگے ✅ نتیجہ: یہ اثر سنداً صحیح ہے، اور اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا ایک حکیمانہ، سماجی تبصرہ موجود ہے جس کا مفہوم یہ ہے کہ: لونڈی اگر آسانی سے فحاشی میں پڑے، تو اس پر حد لاگو ہو سکتی ہے سیدنا عمر نے یہاں سزا کی شدت کو فطری مشاہدے سے جوڑا اور گناہ کی صورت کو جرم کی سطح پر پرکھا۔
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2094 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3271
نا نا هُشَيْمٌ، عَنْ حَجَّاجٍ، عَنْ عِكْرِمَةَ بْنِ خَالِدٍ الْمَخْزُومِيِّ، قَالَ: قَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ :" إِنَّ الأَمَةَ أَلْقَتْ فَرْوَةَ رَأْسِهَا وَرَاءِ الْجِدَارِ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”باندی نے اپنی چادر دیوار کے پیچھے پھینک دی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3271]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2093، 2094، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 5052، 13612، 13614، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 6292، 6293»
حجاج بن أرطاة ضعيف، هُشَيم کی تدلیس اور عن سے روایت کا پہلو بھی موجود ہے
حجاج بن أرطاة ضعيف، هُشَيم کی تدلیس اور عن سے روایت کا پہلو بھی موجود ہے
وضاحت: وضاحت: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:
"بیشک لونڈی نے اپنے سر کی کھال (یعنی حیا، عزت یا پردہ) دیوار کے پیچھے پھینک دی ہے"
? تعبیر کا مقصد:
→ وہ اپنے آپ کو فحاشی و بے حیائی میں ڈال چکی ہے
→ عصمت اور عزت کا لحاظ نہیں رکھا
? تحکیم و فقہی نکات:
یہ ایک عمومی اور تنبیہی قول ہے، نہ کہ باقاعدہ فتویٰ یا قضاء
→ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عبرت کے انداز میں کہہ رہے ہیں کہ بعض امائیں فاحشہ ہو جاتی ہیں
فقہی پس منظر:
لونڈی پر حد نصف ہے (جیسا کہ قرآن میں ہے)، لیکن اگر اس کی حالت مستقل فسق و فجور پر ہو، تو تعزیر شدید ہو سکتی ہے
یہ اثر حدیث 2093 کا تکراری ہم معنی بیان ہے، یہ اثر سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة)، مگر معنوی طور پر معروف اور سابقہ صحیح اثر (2093) کا تقویتی شاہد ہے، اور اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے تنبیہ، عبرت اور سماجی تبصرہ ظاہر ہوتا ہے۔
"بیشک لونڈی نے اپنے سر کی کھال (یعنی حیا، عزت یا پردہ) دیوار کے پیچھے پھینک دی ہے"
? تعبیر کا مقصد:
→ وہ اپنے آپ کو فحاشی و بے حیائی میں ڈال چکی ہے
→ عصمت اور عزت کا لحاظ نہیں رکھا
? تحکیم و فقہی نکات:
یہ ایک عمومی اور تنبیہی قول ہے، نہ کہ باقاعدہ فتویٰ یا قضاء
→ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ عبرت کے انداز میں کہہ رہے ہیں کہ بعض امائیں فاحشہ ہو جاتی ہیں
فقہی پس منظر:
لونڈی پر حد نصف ہے (جیسا کہ قرآن میں ہے)، لیکن اگر اس کی حالت مستقل فسق و فجور پر ہو، تو تعزیر شدید ہو سکتی ہے
یہ اثر حدیث 2093 کا تکراری ہم معنی بیان ہے، یہ اثر سنداً ضعیف ہے (بسبب حجاج بن أرطاة)، مگر معنوی طور پر معروف اور سابقہ صحیح اثر (2093) کا تقویتی شاہد ہے، اور اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی زبان سے تنبیہ، عبرت اور سماجی تبصرہ ظاہر ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده ضعيف
ترقیم دار السلفیہ: 2095 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3272
نا هُشَيْمٌ، أنا مُجَالِدٌ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ مَسْرُوقٍ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الأَمَةِ كَيْفَ تُصَلِّي؟ قَالَ:" تُصَلِّي فِي هَيْئَتِهَا الَّتِي تَخْرُجُ فِيهَا إِلَى السُّوقِ" .
حضرت مسروق رحمہ اللہ نے فرمایا: ”باندی اسی حالت میں نماز پڑھے جس حالت میں وہ بازار جاتی ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3272]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2095، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 320، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 6281، 6286»
ترقیم دار السلفیہ: 2096 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3273
نا نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ أَبِي قِلابَةَ، قَالَ: كَانَ عُمَرُ " لا يَدَعُ أَمَةً تَقَنَّعُ فِي خِلافَتِهِ، وَقَالَ: إِنَّمَا ذَلِكَ لِلْحَرَائِرِ لِكَيْلا يُؤْذَيْنَ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ خلافت کے دور میں کسی باندی کو نقاب کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے اور فرمایا کرتے تھے: ”پردہ آزاد عورتوں کے لیے ہے تاکہ انہیں تکلیف نہ دی جائے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3273]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2096، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 6295، 6297»
ترقیم دار السلفیہ: 2097 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3274
نا نا هُشَيْمٌ، أنا مَنْصُورٌ، عَنْ مُجَاهِدٍ، قَالَ: قُلْتُ لابْنِ عُمَرَ : الأَمَةُ الَّتِي قَدْ حَاضَتْ تَخْرُجُ فِي إِزَارٍ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قُلْتُ: كَيْفَ ذَلِكَ؟ قَالَ:" كَانَ بِالنَّاسِ إِذْ ذَاكَ حَاجَةٌ" فَقُلْتُ: قَدْ وَسَّعَ اللَّهُ عَلَيْنَا، فَقَالَ:" دَعْنِي مِنْكَ" .
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا گیا کہ کیا حیض والی باندی ازار پہن کر نکل سکتی ہے؟ انہوں نے فرمایا: ”ہاں۔“ اور مزید کہا: ”اس وقت لوگوں کو ضرورت تھی، اب اللہ نے وسعت دی ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3274]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: فائدہ: (1) امَہ (باندی) اور خروج فی الإزار: حائضہ امَہ کو کپڑے میں لپیٹ کر باہر جانے کی اجازت یعنی وہ عبادت (نماز/طواف) تو نہیں کر سکتی، لیکن حج یا مناسک میں موجودگی یا خدمت وغیرہ کے لیے نکل سکتی ہے (2) "کان بالناس إذ ذاك حاجة": یعنی پہلے لوگ غربت، قلتِ لباس اور خدمت کی ضرورت کے باعث حائضہ اماء کو بھی باہر نکالتے تھے اس میں سماجی ضرورت اور عملی رعایت کا پہلو ظاہر ہوتا ہے (3) مجاہد کا اعتراض اور ابن عمر کا ردّ عمل: مجاہد نے کہا: "اب تو ہمیں وسعت حاصل ہے" → یعنی وہ اس عمل کو ماضی تک محدود سمجھتے تھے ابن عمر نے فرمایا: "دعني منك" → مطلب: یہ سنت و عمل سابق ہے، تمہاری عقلی قیاس آرائی سے اس کا بدل نہ نکالو
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
ترقیم دار السلفیہ: 2098 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3275
نا هُشَيْمٌ، عَنْ مُغِيرَةَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: " تُصَلِّي أُمُّ الْوَلَدِ بِغَيْرِ قِنَاعٍ، وَإِنْ كَانَتْ بِنْتَ سِتِّينَ سَنَةً" .
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ام ولد بغیر نقاب کے نماز پڑھے اگرچہ ساٹھ سال کی ہو۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3275]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2098، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 6283»
ترقیم دار السلفیہ: 2099 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3276
نا هُشَيْمٌ، نا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ" أَنَّهُ كَانَ يُحِبُّ لِلأَمَةِ إِذَا عَهِدَهَا سَيِّدُهَا أَنْ تُصَلِّيَ مُجْتَمِعَةً" .
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ ام ولد کو نماز باجماعت پڑھنے کی رغبت دلاتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3276]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»