🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

174. بَابُ جَامِعِ الطَّلَاقِ
طلاق کے جامع مسائل
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2159 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3336
نا هُشَيْمٌ، نا هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ تَفْجُرُ أَمَتُهُ، فَتَلِدُ مِنَ الْفُجُورِ، أَيَبِيعُ وَلَدَهَا فَيَأْكُلَ ثَمَنَهُ؟! فَقَالَ الْحَسَنُ:" هُوَ كَبَعْضِ مَالِهِ" .
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: اگر کسی کی باندی بدکاری سے بچہ پیدا کرے تو اس بچہ کی قیمت اس کے مال میں شامل ہو گی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3336]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2160 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3337
نا هُشَيْمٌ، نا الشَّيْبَانِيُّ، أَنَّ رَجُلا كَانَ عَلَى سَطْحٍ، فَدَعَا امْرَأَتَهُ، فَاحْتَبَسَتْ عَلَيْهِ، فَقَالَ لَهَا: تَعَالَيْ، فَإِذَا جِئْتِ فَاخْتَارِي، فَجَاءَتْ، فَقَالَتِ: اخْتَرْتُ نَفْسِي، قَالَ: لَمْ أُرِدْ ذَلِكَ إِنَّمَا خَيَّرْتُكِ بَيْنَ أَنْ تَجْلِسِي، وَبَيْنَ أَنْ تَرْجِعِي، فَسُئِلَ عَنْ ذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَعْقِلٍ، فَقَالَ:" لَهُ نِيَّتُهُ" .
حضرت عبداللہ بن معقل رحمہ اللہ نے کہا: اگر شوہر بیوی کو بیٹھنے یا واپس جانے کا اختیار دے اور نیت طلاق کی نہ ہو تو نیت کا اعتبار ہو گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3337]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2161 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3338
نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ كَانَ " لا يَرَى مَا جَعَلَ الرَّجُلُ لامْرَأَتِهِ عِنْدَ الْجِلْوَةِ شَيْئًا" .
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: جو چیز مرد شادی کے موقع پر اپنی بیوی کو جِلوہ کے وقت دے، اس کی کوئی حیثیت نہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3338]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2161، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 21253»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2162 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3339
نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ " لا يَرَى شَيْئًا مِنَ النُّحْلِ يَجُوزُ إِلا مَا سُلِّمَ" .
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: نکاح میں جو چیز بطور تحفہ دی جائے، وہ صرف اسی وقت جائز ہے جب عورت کو دے دی جائے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3339]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2163 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3340
نا هُشَيْمٌ، أنا حُمَيْدٌ الطَّوِيلُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّهُ سُئِلَ عَنْ رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ ثَلاثًا، فَزَعَمَتْ أَنَّهَا تَزَوَّجَتْ زَوْجًا، فَدَخَلَ بِهَا، قَالَ:" إِنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مُصَدَّقَةً , فَيَتَزَوَّجُهَا إِنْ شَاءَ، وَإِنْ كَانَتْ عِنْدَهُ مُتَّهَمَةً فَلْيَسْأَلْ عَنْ ذَلِكَ، وَلْيَبْحَثْ عَنْهُ" .
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر عورت کا شوہر اس کی بات کا یقین کرے کہ اس نے نکاح کر لیا اور اس سے مباشرت ہوئی تو نکاح درست ہے، اور اگر بدگمانی ہو تو تحقیق کرے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3340]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2164 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3341
نا هُشَيْمٌ، عَنْ حُمَيْدٍ الطَّوِيلِ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ، فَقَالَ: إِنَّ أُمَّهُ لَمْ تَزَلْ بِهِ حَتَّى تَزَوَّجَ، ثُمَّ قَالَتْ لِي بَعْدُ: طَلِّقْهَا، فَقَالَ لَهُ الْحَسَنُ:" إِنَّ طَلاقَ امْرَأَتِكَ لَيْسَ فِي بِرِّ أُمِّكَ فِي شَيْءٍ" .
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے فرمایا: بیوی کو طلاق دینا ماں کی فرمانبرداری میں شامل نہیں ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3341]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2164، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19400»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2165 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3342
نا هُشَيْمٌ، نا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، وَبَعْضُ أَصْحَابِنَا، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُمَا قَالا فِي عَبْدٍ تَحْتَهُ حُرَّةٌ دَخَلَ بِهَا، ثُمَّ أُعْتِقَ، فَأَصَابَ فَاحِشَةً:" إِنَّهُ لا رَجْمَ عَلَيْهِ حَتَّى يَدْخُلَ بِامْرَأَتِهِ بَعْدَ الْعِتْقِ، وَيُجْلَدَ" .
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ اور حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: غلام نے آزادی سے پہلے بیوی سے بدکاری کی تو اس پر حد نہیں ہے، لیکن آزادی کے بعد اگر کرے تو سنگسار کیا جائے گا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3342]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2166 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3343
نا هُشَيْمٌ، نا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّهُ كَانَ" لا يَرَى بَأْسًا أَنْ يُهْدِيَ الرَّجُلُ إِلَى امْرَأَتِهِ فِي عِدَّتِهَا إِذَا أَرَادَ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا" .
حضرت ابراہیم نخعی رحمہ اللہ نے فرمایا: اگر مرد عدت کے دوران عورت کو نکاح کی نیت سے تحفہ دے تو کوئی حرج نہیں۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3343]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2167 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3344
نا نا هُشَيْمٌ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، نا عَمْرُو بْنُ شُعَيْبٍ، أَنَّ رَجُلا اسْتَكْرَهَ امْرَأَةً حَتَّى أَفْضَاهَا وَافْتَضَّهَا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ،" فَجَلَدَهُ الْحَدَّ، وَضَمَّنَهُ ثُلُثَ دِيَتِهَا" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے عورت کو زبردستی نقصان پہنچانے پر مرد پر حد اور ایک تہائی دیت لازم کی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3344]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن لذاته، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2167، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13663، 17670، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28475»
وضاحت: فائدہ: تأیید و شواہد: یہی مضمون فقہاء احناف، شوافع، مالکیہ اور حنابلہ میں تفصیل سے مذکور ہے ابن قدامہ (المغنی)، کاسانی (بدائع الصنائع)، الماوردی نے اس پر اجماع کے قریب بات کی ہے کہ: "من أكره امرأة على الزنا فعليه الحد، وله عليها العُقر" بعض روایات میں عورت کو بھی عقر دیا گیا ہے اگرچہ دخول سے پہلے تکلیف دی گئی ہو ✅ خلاصہ و نتیجہ: یہ اثر سنداً حسن ہے اور اس سے درج ذیل اصول مستفاد ہوتے ہیں: زبردستی زنا پر حد نافذ ہوگی اگر دخول ثابت ہو جسمانی نقصان (افتضاض) پر تاوان (عُقر) واجب ہوگا سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے حد اور عُقر کو جمع کیا — یہ عدلِ فاروقی کی واضح مثال ہے قضایا النساء کے باب میں تابعین و صحابہ کا عمل فقہی استدلال کی مضبوط بنیاد ہے۔

الحكم على الحديث: إسناده حسن لذاته
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2168 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3345
نا هُشَيْمٌ ، أنا دَاوُدُ بْنُ عُمَرَ ، نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي زَكَرِيَّا الْخُزَاعِيُّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لأَنْ يُقْرَعَ الرَّجُلُ قَرْعًا يَخْلُصُ الْقَرْعُ إِلَى عَظْمِ رَأْسِهِ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ تَضَعَ امْرَأَةٌ يَدَهَا عَلَى سَاعِدِهِ، لا تَحِلُّ لَهُ" .
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مرد کا سر ہڈی تک زخمی ہونا اس سے بہتر ہے کہ کسی عورت کا ہاتھ بغیر نکاح اس کے جسم کو چھوئے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3345]
تخریج الحدیث: «إسناده مرسل، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
داود بن عمر، مختلف فیه، بعض نے کہا لا بأس به، بعض نے مجہول الحال کہا
وضاحت: فائدہ: یہ مفہوم صحیح حدیث میں دوسرے الفاظ سے آیا ہے: ✦ صحیح مسلم: «لَأَنْ يُطْعَنَ فِي رَأْسِ أَحَدِكُمْ بِمِخْيَطٍ مِنْ حَدِيدٍ، خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمَسَّ امْرَأَةً لَا تَحِلُّ لَهُ» (صحیح مسلم، موقوفاً عن معقل بن یسار رضی اللہ عنہ، کچھ علماء نے مرفوعاً بھی روایت کیا) ? لہٰذا: متن کا مفہوم ثابت و صحیح ہے، اگرچہ یہ خاص سند مرسل (ضعیف) ہے۔

الحكم على الحديث: إسناده مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں