🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

175. بَابُ الْغُلَامِ بَيْنَ الْأَبَوَيْنِ أَيُّهُمَا أَحَقُّ بِهِ
باب: بچہ ماں اور باپ دونوں کے درمیان ہو تو ان میں سے کون اس کی پرورش کا زیادہ حق رکھتا ہے؟
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2269 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3446
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، قَالَ: أَبْصَرَ عُمَرُ ابْنَهُ عَاصِمًا مَعَ جَدَّتِهِ، وَكَانَ عُمَرُ جَابَذَهَا، فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ:" خَلِّ عَنْهَا"، فَمَا رَاجَعَهُ الْكَلامَ .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عاصم کو اپنی دادی کے ساتھ دیکھا تو سختی سے جھٹکا، تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اسے چھوڑ دو۔ اور عمر خاموش ہو گئے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3446]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2269، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15865، 15867، 15868، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 1684، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12602، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19465»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2270 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3447
نا نا هُشَيْمٌ، أنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، أَنَّ عُمَرَ خَاصَمَ امْرَأَتَهُ أُمَّ عَاصِمٍ بِنْتَ عَاصِمٍ فِي ابْنِهِ مِنْهَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ:" ادْفَعْهُ إِلَيْهَا"، فَمَا رَاجَعَهُ الْكَلامَ .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی (عاصم کی ماں) سے بچے کے بارے میں جھگڑا کیا، تو سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا: بچے کو ماں کے حوالے کر دو۔ اور عمر رضی اللہ عنہ نے اس پر بحث نہ کی۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3447]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2270، 2271، 2274، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19455، 19463»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2271 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3448
نا نا هُشَيْمٌ، أنا مُجَالِدُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: نا الشَّعْبِيُّ، أَنَّ عُمَرَ خَاصَمَ امْرَأَتَهُ أُمَّ عَاصِمٍ فِي ابْنِهِ مِنْهَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَضَى أَبُو بَكْرٍ لأُمِّهِ، ثُمَّ قَالَ:" عَلَيْكَ نَفَقَتُهُ حَتَّى يَبْلُغَ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی ام عاصم سے ان کے بیٹے کے بارے میں جھگڑا کیا اور معاملہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ کے پاس لے گئے۔ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بچے کو اس کی ماں کے حوالے کرنے کا فیصلہ دیا، اور پھر فرمایا: اس (بچے) کا خرچ تمہارے ذمہ ہے جب تک کہ وہ بالغ ہو جائے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3448]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعیف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2270، 2271، 2274، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19455، 19463»
قال ابن حجر: مجالد بن سعید ليس بالقوي، وقد تغير في آخر عمره

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2272 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3449
نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ، عَنْ عِكْرِمَةَ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَضَى بِهِ لأُمِّهِ، وَقَالَ:" رِيحُهَا، وَشَمُّهَا، وَلُطْفُهَا خَيْرٌ لَهُ مِنْكَ".
حضرت عکرمہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بچے کا فیصلہ اس کی ماں کے حق میں دیا اور فرمایا: اس کی خوشبو، اس کا اسے چومنا، اور اس کی نرمی و محبت تیرے مقابلے میں (یعنی باپ کے مقابلے میں) بچے کے حق میں بہتر ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3449]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2272، 2273، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12601، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19464»
عکرمہ ثقہ، مگر ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مرسل (تابعی صحابی سے روایت کر رہا ہے)

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2273 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3450
نا هُشَيْمٌ، أنا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ قَضَى بِهِ لأُمِّهِ، وَقَالَ:" إِنَّ رِيحَهَا وَحِجْرَهَا خَيْرٌ لَهُ مِنْكَ".
حضرت حسن رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے بچے کا فیصلہ اس کی ماں کے حق میں کیا اور فرمایا: اس کی خوشبو اور اس کی گود تیرے مقابلے میں (یعنی باپ کے مقابلے میں) بچے کے لیے بہتر ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3450]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2272، 2273، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12601، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19464»
عکرمہ ثقہ، مگر ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مرسل (تابعی صحابی سے روایت کر رہا ہے)

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2274 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3451
نا نا هُشَيْمٌ، أنا دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ أَبَا بَكْرٍ ، أَقْسَمَ عَلَى عُمَرَ:" لَيَدَعِ الْغُلامَ عِنْدَ أُمِّهِ"، فَتَرَكَهُ عِنْدَهَا .
حضرت عطا رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے قسم دے کر کہا کہ لڑکے کو اس کی ماں کے پاس رہنے دو۔ تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اسے ماں کے پاس چھوڑ دیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3451]
تخریج الحدیث: «مرسل صحيح، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2270، 2271، 2274، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19455، 19463»
سند مرسل ہے (تابعی کی روایت صحابی سے ہے بغیر واسطہ)، لیکن مرسل تابعی کی روایت، جب متن صحیح ہو اور شواہد سے تقویت ملے، تو قابل قبول ہوتی ہے — اور یہاں اس مضمون کی متعدد مؤیدات موجود ہیں (جیسا کہ حدیث 2270، 2272 وغیرہ)۔

الحكم على الحديث: مرسل صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2275 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3452
نا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَيَّرَ غُلامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَأُمِّهِ" .
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک لڑکے کو اس کے باپ اور ماں کے درمیان اختیار دیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3452]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الحاكم فى «مستدركه» برقم: 7131، والنسائي فى «المجتبیٰ» برقم: 3496، والنسائي فى «الكبریٰ» برقم: 5660، وأبو داود فى «سننه» برقم: 2277، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1357، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2339، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2351، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2275، وأحمد فى «مسنده» برقم: 7469، 9902، والحميدي فى «مسنده» برقم: 1114،وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19458، 19462»

الحكم على الحديث: إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2276 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3453
نا هُشَيْمٌ ، أنا عُثْمَانُ الْبَتِّيُّ ، أنا عَبْدُ الْحَمِيدِ بْنُ سَلَمَةَ الأَنْصَارِيُّ ، أَنَّ جَدَّهُ أَسْلَمَ عَلَى عَهْدِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِنْ شِئْتُمَا خَيَّرْتُمَاهُ"، وَأَقَامَ الأَبَ فِي نَاحِيَةٍ، وَالأُمَّ فِي نَاحِيَةٍ، ثُمَّ خَيَّرَ الْغُلامَ، فَانْطَلَقَ نَحْوَ أُمِّهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اللَّهُمَّ اهْدِهِ"، فَرَجَعَ الْغُلامُ إِلَى أَبِيهِ .
عثمان البتی رحمہ اللہ، عبدالحمید بن سلمہ انصاری رحمہ اللہ سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے دادا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام لائے، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تم دونوں (ماں اور باپ) چاہو تو بچے کو اختیار دے دو۔ چنانچہ باپ کو ایک طرف رکھا گیا اور ماں کو ایک طرف، پھر بچے کو اختیار دیا گیا، تو وہ اپنی ماں کی طرف چلا گیا۔ اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا فرمائی: اے اللہ! اسے ہدایت دے۔ تو بچہ اپنے باپ کی طرف واپس آ گیا۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3453]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعیف، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2276، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 3089»
قال إبن حجر: عبد الحميد بن سلمة الأنصاري مجہول

الحكم على الحديث: إسناده ضعیف
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2277 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3454
نا نا سُفْيَانُ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي الْمُهَاجِرِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ غَنْمٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ " خَيَّرَ غُلامًا بَيْنَ أَبِيهِ وَبَيْنَ أُمِّهِ" .
حضرت عبدالرحمن بن غنم رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ایک کم سن بچے کو اختیار دیا کہ وہ اپنے باپ اور ماں میں سے جس کے ساتھ چاہے رہنے کا انتخاب کر لے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3454]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن لغيره، أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2277، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19456»
اسماعیل بن عبید اللہ صدوق، حسن الحدیث
سند حسن لغیرہ ہے، یعنی قابلِ قبول ہے اور شواہد سے تقویت پاتی ہے۔

الحكم على الحديث: إسناده حسن لغيره
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2278 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3455
نا نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، أنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي غُلامٍ يَتِيمٍ، فَخَيَّرَهُ فَاخْتَارَ أُمَّهُ، وَتَرَكَ عَمَّهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:" أَمَا إِنَّ جَدْبَ أُمِّكَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ خِصْبِ عَمِّكَ" . قَالَ الصَّائِغُ: بِالدَّالِ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یتیم بچے کا معاملہ لایا گیا، تو انہوں نے بچے کو اختیار دیا، چنانچہ اس نے اپنی ماں کو منتخب کیا اور چچا کو چھوڑ دیا۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: یقیناً تمہاری ماں کی فقر اور تنگ دستی تمہارے لیے تمہارے چچا کی خوشحالی اور سکت سے بہتر ہے۔ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3455]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2278، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12608»
الولید بن مسلم صدوق، حسن الحدیث مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ممکن نہیں ہے
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کی متعدد طرق سے تائید بھی ملتی ہے۔

الحكم على الحديث: مرسل
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں