الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
175. باب الغلام بين الأبوين أيهما أحق به
باب: بچہ ماں اور باپ دونوں کے درمیان ہو تو ان میں سے کون اس کی پرورش کا زیادہ حق رکھتا ہے؟
ترقیم دار السلفیہ: 2278 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3455
نا نا هُشَيْمٌ، أنا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، أنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فِي غُلامٍ يَتِيمٍ، فَخَيَّرَهُ فَاخْتَارَ أُمَّهُ، وَتَرَكَ عَمَّهُ، فَقَالَ لَهُ عُمَرُ:" أَمَا إِنَّ جَدْبَ أُمِّكَ خَيْرٌ لَكَ مِنْ خِصْبِ عَمِّكَ" . قَالَ الصَّائِغُ: بِالدَّالِ.
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک یتیم بچے کا معاملہ لایا گیا، تو انہوں نے بچے کو اختیار دیا، چنانچہ اس نے اپنی ماں کو منتخب کیا اور چچا کو چھوڑ دیا۔ اس پر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یقیناً تمہاری ماں کی فقر اور تنگ دستی تمہارے لیے تمہارے چچا کی خوشحالی اور سکت سے بہتر ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3455]
تخریج الحدیث: «مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2278، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 12608»
الولید بن مسلم صدوق، حسن الحدیث مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ممکن نہیں ہے
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کی متعدد طرق سے تائید بھی ملتی ہے۔
الولید بن مسلم صدوق، حسن الحدیث مگر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے سماع ممکن نہیں ہے
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے اس قول کی متعدد طرق سے تائید بھی ملتی ہے۔
الحكم على الحديث: مرسل
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفص | صحابي |