سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
174. بَابُ جَامِعِ الطَّلَاقِ
طلاق کے جامع مسائل
ترقیم دار السلفیہ: 2149 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3326
نا نا هُشَيْمٌ، نا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، أَنَّ رَجُلا كَانَتْ عِنْدَهُ يَتِيمَةٌ وَكَانَتْ تَحْضُرُ طَعَامَهُ، فَخَافَتِ امْرَأَتُهُ أَنْ يَتَزَوَّجَهَا عَلَيْهَا، فَغَابَ الرَّجُلُ غَيْبَةً فَاسْتَعَانَتِ الْمَرْأَةُ عَلَى الْجَارِيَةِ نِسْوَةً فَاضْطَبَنَّهَا لَهَا فَأَفْسَدَتْ عُذْرَتَهَا قَالَ: وَقَدِمَ الرَّجُلُ فَجَعَلَ يَفْتَقِدُ الْجَارِيَةَ عِنْدَ مَائِدَتِهِ وَطَعَامِهِ، فَقَالَ الرَّجُلُ لامْرَأَتِهِ: مَا حَالُ فُلانَةَ لا تَحْضُرُ طَعَامِي؟ قَالَتْ: دَعْ عَنْكَ فُلانَةَ، قَالَ: مَا شَأْنُهَا؟ قَالَتْ: إِنَّهَا فَجَرَتْ فَانْطَلَقَ إِلَيْهَا، فَقَالَ لَهَا حِينَ دَخَلَ إِلَيْهَا، فَقَالَ: مَا شَأْنُكِ؟ فَجَعَلَتْ تَبْكِي، قَالَ: فَأَخْبِرِينِي، فَأَخْبَرَتْهُ، فَانْطَلَقَ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَأَخْبَرَهُ، فَأَرْسَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ إِلَى امْرَأَةِ الرَّجُلِ وَإِلَى النِّسْوَةِ، فَلَمَّا أَتَيْنَهُ لَمْ يَلْبَثْنَ أَنِ اعْتَرَفْنَ بِمَا صَنَعْنَ، فَقَالَ لِلْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ: اقْضِ فِيهَا يَا حَسَنُ! فَقَالَ:" الْحَدُّ عَلَى مَنْ قَذَفَهَا، وَالْعُقْرُ عَلَيْهَا وَعَلَى الْمُمْسِكَاتِ"، فَقَالَ عَلِيٌّ:" لَوْ كُلِّفَتْ إِبِلٌ طَحِينًا لَطَحَنَتْ، وَمَا يَطْحَنُ يَوْمَئِذٍ بَعِيرٌ" .
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس ایک شخص آیا کہ اس کی بیوی نے اپنی سوتیلی بیٹی کے ساتھ عورتوں کو ملا کر اس کی عزت خراب کی، حضرت حسن بن علی رضی اللہ عنہ نے فیصلہ دیا: ”قذف کرنے والے پر حد اور عورتوں پر دیت ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3326]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2149، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17758»
وضاحت: وضاحت: اگرچہ اثر میں جس شخص کا واقعہ ذکر ہوا وہ نامعلوم ہے، مگر: یہ شخص راوی نہیں بلکہ قصے کا کردار ہے شریعت میں صحابی یا تابعی کے اجتہاد و فیصلہ کی نقل میں ایسے اشخاص کا مجہول ہونا ضرر نہیں دیتا۔
الحكم على الحديث: إسناده حسن
ترقیم دار السلفیہ: 2150 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3327
نا هُشَيْمٌ، أنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ سَالِمٍ، أنا الشَّعْبِيُّ، أَنَّ جِوَارِيَ أَرْبَعًا اجْتَمَعْنَ، فَقَالَتْ إِحْدَاهُنَّ: هِيَ رَجُلٌ، وَقَالَتِ الأُخْرَى: هِيَ امْرَأَةٌ، وَقَالَتِ الثَّالِثَةُ: هِيَ أَبُ الَّتِي زَعَمَتْ أَنَّهَا رَجُلٌ، وَقَالَتِ الرَّابِعَةُ: هِيَ أَبُ الَّتِي زَعَمَتْ أَنَّهَا امْرَأَةٌ، فَخَطَبَتِ الَّتِي زَعَمَتْ أَنَّهَا أَبُو الرَّجُلِ إِلَى الأُخْرَى الَّتِي زَعَمَتْ أَنَّهَا أَبُو الْمَرْأَةِ، فَزَوَّجُوهَا إِيَّاهَا، فَعَمَدَتِ الَّتِي زَعَمَتْ أَنَّهَا رَجُلٌ إِلَى الأُخْرَى فَأَفْسَدَتْهَا بِإِصْبَعِهَا، فَرُفِعَ ذَلِكَ إِلَى عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ مَرْوَانَ، فَجَعَلَ" الصَّدَاقَ عَلَيْهِنَّ أَرْبَاعًا، وَأَلْغَى حِصَّةَ الَّتِي زَعَمَتْ أَنَّهَا امْرَأَةٌ ؛ لأَنَّهَا أَمْكَنَتْ مِنْ نَفْسِهَا" ، فَذَكَرْنَا ذَلِكَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْقِلٍ الْمُزَنِيِّ، فَقَالَ:" لَوْ وُلِّيتُ أَنَا لَجَعَلْتُ الصَّدَاقَ عَلَى الَّتِي أَفْسَدَتِ الْجَارِيَةَ وَحْدَهَا.
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے ایک واقعہ نقل کیا: ”لونڈیوں نے نکاح کیا اور ایک نے دوسری کو جسمانی نقصان پہنچایا، عبدالملک بن مروان نے سب پر دیت تقسیم کی، ابن معقل نے کہا: دیت صرف فساد کرنے والی پر ہونی چاہیے تھی۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3327]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2150، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17759»
ترقیم دار السلفیہ: 2151 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3328
نا نا هُشَيْمٌ، أنا أَبُو بِشْرٍ، عَنْ أَبِي رَوْحٍ شَبِيبٍ الشَّامِيِّ، أَنَّ رَجُلا كَانَ يُوَاعِدُ جَارِيَتَهُ فِي مَكَانٍ يَأْتِيهَا فِيهِ فَعَلِمَتْ بِذَلِكَ امْرَأَةٌ، فَجَلَسَتْ فِي ذَلِكَ الْمَكَانِ، فَجَاءَ الرَّجُلُ فَأَصَابَ مِنْهَا وَهُوَ يَظُنُّ أَنَّهَا جَارِيَتُهُ، فَلَمَّا فَرَغَ نَظَرَ فَإِذَا هِيَ لَيْسَ بِجَارِيَتِهِ، فَأَتَى عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَذَكَرَ ذَلِكَ لَهُ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ إِلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَقَالَ عَلِيٌّ:" اضْرِبِ الرَّجُلَ الْحَدَّ فِي السِّرِّ، وَاضْرِبِ الْحَدَّ الْمَرْأَةَ فِي الْعَلانِيَةِ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے پاس ایک مرد آیا جس نے غلطی سے غیر عورت سے مباشرت کی، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”مرد کو پوشیدہ حد دو، عورت کو ظاہر حد۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3328]
تخریج الحدیث: «إسناده مرسل، وأخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2151، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 28924»
أبو روح شبيب: ثقہ طبقہ ثالثہ
أبو روح شبيب: ثقہ طبقہ ثالثہ
وضاحت: وضاحت: یہ اثر سنداً ضعیف ہے، مگر متناً قوی و قابلِ استدلال ہے حدود، شبہ، فریب، اور سیاستِ شرعیہ جیسے اہم فقہی اصول اس میں واضح ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا فیصلہ حکمت، عدل، اور اصلاح کے اصول پر مبنی ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده مرسل
ترقیم دار السلفیہ: 2152 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3329
نا هُشَيْمٌ، أنا يَزِيدُ بْنُ بَرَّادٍ مَوْلَى بَجِيلَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الشَّعْبِيَّ فِي رَجُلَيْنِ شَهِدَا عَلَى رَجُلٍ طَلَّقَ امْرَأَتَهُ، فَفَرَّقَ الْقَاضِي بَيْنَ الرَّجُلِ وَامْرَأَتِهِ، فَتَزَوَّجَهَا أَحَدُ الشَّاهِدَيْنِ وَرَجَعَ الآخَرُ عَنْ شَهَادَتِهِ، فَقَالَ الشَّعْبِيّ:" مَضَى الْقَضَاءُ، وَلا يُلْتَفَتُ إِلَى قَوْلِ الَّذِي رَجَعَ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”اگر دو گواہ طلاق پر گواہی دیں اور ایک رجوع کر لے، تو قاضی کا پہلا فیصلہ نافذ ہے اور رجوع کی کوئی حیثیت نہیں۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3329]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2152، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 15514، 18467، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19560»
(1) كذا في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند، ولعل الصواب: (يزيد بن زاذي مولى بجيلة) . _x000D_
(1) كذا في طبعة الدار طبعة الدار السلفية بالهند، ولعل الصواب: (يزيد بن زاذي مولى بجيلة) . _x000D_
ترقیم دار السلفیہ: 2153 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3330
نا هُشَيْمٌ، نا مَنْصُورٌ، عَنِ الْحَسَنِ، فِي الرَّجُلِ يَقُولُ لامْرَأَتِهِ: أَنْتِ عَتِيقَةٌ وَهُوَ يَنْوِي الطَّلاقَ قَالَ:" هِيَ وَاحِدٌ وَهُوَ أَحَقُّ بِهَا" .
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: ”اگر شوہر بیوی سے کہے: تم آزاد ہو اور نیت طلاق کی ہو تو ایک طلاق شمار ہو گی اور شوہر رجوع کا حق رکھتا ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3330]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2153، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 18286»
ترقیم دار السلفیہ: 2154 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3331
نا هُشَيْمٌ، أنا الشَّيْبَانِيُّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " يَبْدَأُ الْعَبْدُ بِالنَّفَقَةِ عَلَى أَهْلِهِ قَبْلَ غَلَّتِهِ لِمَوَالِيهِ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”غلام اپنی کمائی سے پہلے اپنی بیوی بچوں پر خرچ کرے گا، پھر مالکوں کو دے گا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3331]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2154، 2155»
ترقیم دار السلفیہ: 2155 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3332
نا شَرِيكٌ، عَنِ الشَّيْبَانِيِّ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، قَالَ: " يَبْدَأُ الْعَبْدُ بِالنَّفَقَةِ عَلَى امْرَأَتِهِ قَبْلَ غَلَّتِهِ لِمَوَالِيهِ" .
حضرت شعبی رحمہ اللہ نے کہا: ”غلام اپنی بیوی پر خرچ کرنے میں مالک کی آمدنی پر مقدم ہے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3332]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2154، 2155»
ترقیم دار السلفیہ: 2156 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3333
نا هُشَيْمٌ، أنا مُغِيرَةُ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، قَالَ: سَأَلْتُهُ عَنْ رَجُلٍ تَحْتَهُ مُكَاتَبَةٌ، فَسَعَى مَعَهَا، وَأَعَانَهَا حَتَّى أَدَّتْ مُكَاتَبَتَهَا، قَالَ:" لا خِيَارَ لَهَا" .
حضرت ابراہیم رحمہ اللہ نے کہا: ”اگر کوئی شخص اپنی مکاتبہ بیوی کی آزادی میں مدد کرے تو اسے فسخ نکاح کا اختیار نہیں ہو گا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3333]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2156، وعبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 13046، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 16819»
ترقیم دار السلفیہ: 2157 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3334
نا هُشَيْمٌ، نا يُونُسُ، عَنِ الْحَسَنِ، قَالَ: " إِذَا وَطِئَ الرَّجُلُ مُكَاتَبَتَهُ فَلْيَحْسِبْ لَهَا صَدَاقَ مِثْلِهَا مِنْ مُكَاتَبَتِهَا" .
حضرت حسن بصری رحمہ اللہ نے کہا: ”اگر کوئی شخص اپنی مکاتبہ باندی سے ہمبستری کرے تو مکاتبہ رقم میں اس کا مثل مہر شمار کرے۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3334]
تخریج الحدیث: «أخرجه سعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2157، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 17590»
ترقیم دار السلفیہ: 2158 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3335
نا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " طَلَّقَ حَفْصَةَ، فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان سے رجوع کیا۔“ [سنن سعید بن منصور/كِتَابُ الطَّلَاقِ/حدیث: 3335]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1982، 1983، 2507، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2812، 6825، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2311، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2158، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15255، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3815، والبزار فى «مسنده» برقم: 7091، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 4615، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 151»
وضاحت: فائدہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رجوع کا عمل ایک شرعی حجت ہے یہ رجوع وحی کی بنیاد پر تھا، اور اس سے رجعی طلاق کے بعد رجوع کی مشروعیت بھی ثابت ہوتی ہے ساتھ ہی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے عبادت و تقویٰ کی گواہی بھی ملتی ہے ✅ خلاصہ و نتیجہ: حدیث سنداً صحیح ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طلاق دینا اور پھر رجوع کرنا وحی کے مطابق تھا اس سے طلاقِ رجعی اور اس کے بعد رجوع کا مسئلہ مضبوط ہوتا ہے ساتھ ہی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اور منزلت واضح ہوتی ہے
الحكم على الحديث: إسناده صحيح