الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
174. باب جامع الطلاق
طلاق کے جامع مسائل
ترقیم دار السلفیہ: 2158 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3335
نا هُشَيْمٌ ، قَالَ: أنا حُمَيْدٌ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " طَلَّقَ حَفْصَةَ، فَأُمِرَ أَنْ يُرَاجِعَهَا" .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو طلاق دی پھر اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان سے رجوع کیا۔“ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3335]
تخریج الحدیث: «إسناده صحيح، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 1982، 1983، 2507، والحاكم فى «مستدركه» برقم: 2812، 6825، والدارمي فى «مسنده» برقم: 2311، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2158، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 15255، وأبو يعلى فى «مسنده» برقم: 3815، والبزار فى «مسنده» برقم: 7091، والطحاوي فى «شرح مشكل الآثار» برقم: 4615، والطبراني فى «الأوسط» برقم: 151»
وضاحت: فائدہ: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا رجوع کا عمل ایک شرعی حجت ہے یہ رجوع وحی کی بنیاد پر تھا، اور اس سے رجعی طلاق کے بعد رجوع کی مشروعیت بھی ثابت ہوتی ہے ساتھ ہی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کے عبادت و تقویٰ کی گواہی بھی ملتی ہے ✅ خلاصہ و نتیجہ: حدیث سنداً صحیح ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طلاق دینا اور پھر رجوع کرنا وحی کے مطابق تھا اس سے طلاقِ رجعی اور اس کے بعد رجوع کا مسئلہ مضبوط ہوتا ہے ساتھ ہی سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی فضیلت اور منزلت واضح ہوتی ہے
الحكم على الحديث: إسناده صحيح
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥حميد بن أبي حميد الطويل، أبو عبيدة حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة مدلس | |
👤←👥هشيم بن بشير السلمي، أبو معاوية هشيم بن بشير السلمي ← حميد بن أبي حميد الطويل | ثقة ثبت كثير التدليس والإرسال الخفي |
حميد بن أبي حميد الطويل ← أنس بن مالك الأنصاري